نفرت پر مبنی سیاسی نظریہ
26 اکتوبر 2018 2018-10-26

وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک ٹی وی پروگرام میں بار بار الزام کے طور پر دہرائے گئے پاکستانیوں کے بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہوئے دو سو ارب ڈالر کے سوال پر ایک قہقہہ لگایا اور اسے ایک غلطی قرار دے دیا، وہ غلطی جو ان کے مطابق ایک بیوروکریٹ کی طرف سے کی گئی۔ یہ غلطی ان کی طرف سے سیاست کے بازارمیں بار بار بیچی گئی۔اس قہقہے کے ساتھ ہی وہ دو سوارب ڈالر ہی ہوا نہیں ہو گئے جن کو تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد پارٹی سربراہ بہت ہی قریبی مراد سعید نے دو روز کے اندر واپس لانے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں سے ایک ارب ڈالر قرض دینے والوں کے منہ پر مارنے تھے اور دوسرے ایک ارب ڈالر سے عوام کو ریلیف دیا جانا تھا بلکہ وہ سیاسی نظریہ بھی اپنی بنیاد کھو بیٹھا جسے رکھنے والوں کے مطابق ،ا ن کے علاوہ، سب بدعنوان ہیں، لٹیرے ہیں۔

انسانی تعلقات کی بنیاد دوقسم کے جذبات محبت اور نفرت پر رکھی جاتی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف محبت ہی وہ جذبہ ہوتا ہے جو کسی تعلق کو قائم کرنے کا سبب بنتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نفرت ، محبت سے بھی کہیں زیادہ گہرے اور شدید مگر تکلیف دہ تعلق قائم کر دیتی ہے ۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ نفرت ، محبت سے کہیں زیادہ شدید جذبہ ہوتا ہے جس میں انسان وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے جس کے بارے عمومی طور پر محبت میں کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ایک تیسری صورت لاتعلقی ہے جوآپ کو غیر جانبدار بنادیتی ہے ۔جب یہ کہاجاتا ہے کہ جنگ اورمحبت میں سب کچھ جائز ہوتاہے تویہ اتنا درست نہیں ہوتا جتنا درست ہم عملی طور پر جنگ اور نفرت میں سب کچھ جائز ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔

میں نے بطور طالب علم انسانی جذبوں کا جتنا بھی مطالعہ کیا ہے ، جانا ہے کہ محبت کی بنیاد ضرورت ہوتی ہے جبکہ نفرت کی بنیاد خوف ہوتی ہے۔ انسان کی فطرت میںیہ دونوں عناصر بھرے پڑے ہیں لہذا انسانی فطرت کو سمجھنے والے لوگ جب ضرورت سے کام نہیںنکال سکتے توپھر وہ خوف سے کام لیتے ہیں۔ سیاستدانوں اور ووٹروں کے درمیان یہ دونوں تعلق بہت آسانی کے ساتھ تلاش اور بیان کئے جا سکتے ہیں یعنی ایک سیاسی جماعت کا رہ نما اگر آپ کی ضروریات کی تکمیل کے لئے اپنا پروگرام یعنی منشور پیش کر رہا ہے تو وہ محبت کی بنیاد پر اپنا رشتہ استوار کر رہا ہے، جی ہاں، ہر سیاسی ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی محبت کی بنیاد ضرورت پر ہوتی ہے حتی کہ ماں اوربچے کے آفاقی پیار جیسے جذبے کے پیچھے بھی ضرورت ہے، ایک ماں کو فطری تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنے بچے سے محبت ہے، یہ محبت کائنات تخلیق کرنے والے اس کے اندر رکھی ہے تاکہ نسل چلتی رہے اور اسے آپ محض انسانوں میں ہی نہیں بلکہ مادہ کتوں، بلیوں سمیت تمام جانداروں میںتلاش کرسکتے ہیں ،دوسری طرف بچے کی محبت میں بھی اس کی ضرورت چھپی ہوئی ہے، اسے خوراک اور تحفظ کی ضرورت ہے اور یہی ضروریات اس کی محبت کو پروان چڑھاتی ہیں۔

دوسری طرف نفرت کی بنیاد پر قائم تعلقات ہیں جو خوف سے جنم لیتے ہیں۔ ایک سیاسی رہنما اپنا کوئی پروگرام دینے کی بجائے عوام کو خوف زدہ کردیتا ہے کہ اگر عوام نے اس کا ساتھ نہ دیا تو اس کے مخالفین اس کے حقوق لوٹ لیں گے اور یہاں وہ اپنے ساتھ تعلق کی بنیاد محبت کی بجائے دوسروںسے نفرت پیدا کرتے ہوئے رکھ رہا ہے، اس نفرت کے لئے اسے مسلسل پروپیگنڈے کی ضرورت ہے۔ یہ حکمت عملی بہت ہو شیاری اورچالاکی سے مرتب کی جاتی ہے اوراس میں ترقی یافتہ ممالک کے پڑھے لکھے لوگ بھی پھنس جاتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ بالکل ایسی ہی حکمت عملی کے تحت صدر نہ بنتے جس کے تحت پاکستان میں تحریک انصاف نے اپنا ووٹ بنک قائم کیا۔ یہاںتبدیلی کا خوش کن نعرہ لگایاگیا اور اس نعرے میں بنیادی طورپرتمام پرانے سیاستدانوں کے خلاف نفرت پیداکرنے کو کامیابی سے استعمال کیا۔ تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد ہی یہ دو سو ارب ڈالر( یااس جیسے لوٹ مار کے دیگر بار بار دہرائے جانے والے الزامات) تھے جنہیں کسی بھی آزاد اورغیرجانبدار عدالت میں ثابت کرنامشکل ہے۔ جناب عمران خان کا ایک روز قبل کیا جانے والا خطاب بھی ’ نفرت ‘ کو ہوا دینا تھا،ا نہیں اپنے ہی دئیے ہوئے بیانات سے یوٹرن لیتے ہوئے سعودی عرب سے قرض لینے اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر جینوئن اعتراضات کا سامنا ہے۔ انہوںنے ایک ایسی تقریر کی جس میں اپنے لئے محبت کی کمی کا ازالہ اپنے مخالفین کے لئے نفرت پھیلانے کے روایتی طریقے سے کیا۔

جب وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ ان کے تمام مخالف کرپٹ ہیںاورہ ان میں سے کسی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے تو وہ اپنے اس ووٹ بنک کا تحفظ کرتے ہیں جو انہوں نے نفرت کی بنیاد پر قائم کیا تھا اور جس میں محبت کا کوئی گزر نہیں۔ مجھے واضح کرنے دیجئے کہ محبت کے نتائج میں تعمیر شامل ہے جبکہ نفرت کے نتائج میں تخریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنے نفرتی نظرئیے کو سچا ثابت کرنے کے لئے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ اگر وہ یہ نہ کرتے تو ان کے سیاسی نظرئیے کی موت واقع ہوجاتی۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ انہوں نے نفرت میں جو الزامات لگائے وہ کس حد تک درست تھے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ محبت اور نفر ت کرنے والے کبھی دلیل کے ساتھ نہیں جاتے، وہ اپنے گمان کے ساتھ جاتے ہیں۔ جب ہم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو نفرت کے اسی نظرئیے کے تحت کرپٹ سمجھ لیتے ہیں تو پھر ہمارے لئے ہر الزام سچ ہوجاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ الزام لگانے والے ایک قہقہہ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ غلط فہمی کی بنیاد پرکہا تھا تو عقل اور شعور رکھنے والا ہرشخص ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ معاشرتی المیہ ہے کہ نفرت ، محبت سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ہمارے لئے محبت کا اظہار مشکل ہے مگر گالی دینا نہیں۔ تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت کے لئے عوامی سطح پر موجود اسی نفسیاتی خامی کو کامیابی کے ساتھ بنیاد بنایا ہے۔ اس میں ہر اختلاف کرنے والے کو کرپٹ سمجھنا اور گالی دینا سو فیصد درست اور اپنے نتائج کے اعتبار سے کامیاب عمل ہے۔

نفرت سے اخذ کئے گئے سیاسی نظریوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی بنیاد پر قائم معاشرے اور ریاستیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ وہ تعمیر اور ترقی کے خواب کبھی پورے نہیں کر سکتیں۔ ماضی کے فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق کے کارندے جنرل فضل حق نے بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر نفرت کی بنیاد پر سیاست کی بنیاد رکھی۔ اس نے شمال مغربی سرحدی صوبے کے رہنے والوں کو خوف زدہ کیا کہ اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو تمہاری زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور ایک دوسرے صوبے والے اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سند ھ میں بھی خوف پھیلایا گیا کہ اوپر سے آنے والا پانی یہ ڈیم روک لے گا اور دریائے سندھ سوکھ جائے گا اور پھر یہ ہوا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر نہیں ہوا حالانکہ اگر محبت کی بنیاد پر تعمیری سیاست کی جاتی تو کالاباغ ڈیم سے بجلی اور پانی کی تقسیم کا فارمولا ، تھوڑی مشکل کے ساتھ ہی سہی مگر، طے کیا جا سکتا تھا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ہم عقل اور شعور کو ایک طرف رکھتے ہوئے محض گمان کی بنیاد پر نفرت کے خوگر ہیں۔ بھارت والے ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں دہشت گردی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اورجواب میں ہم بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔ بھارت میں اگلے برس اپریل، مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں اور وہاں بھی پاکستان کے خلاف نفرت بیچنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے کیونکہ وہاں بھی محبت کے خریدار کم ہیں ۔ سیاست بین الاقوامی ہو یا قومی، اس میں نفرت ،تصادم اور جنگ کے خطرات پیدا کرتی ہے، وہ جنگ جو ہر سطح پر تباہی اور بربادی لاتی ہے، ہم خوف اور نفرت کی سیاست کے نتیجے کے طور پر متحدہ پاکستان کو دولخت ہوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔


ای پیپر