Pollution, Global Epidemic and Dengue
کیپشن:   آلودگی،کرونا اور ڈینگی۔۔۔شہریوں کی صحت سے متعلق مسائل جو حکومتی کی فوری توجہ چاہتے ہیں سورس:   فائل فوٹو
26 نومبر 2020 (15:45) 2020-11-26

شہریوں کی صحت سے متعلق مسائل جو حکومتی کی فوری توجہ چاہتے ہیں

رضا مغل

اس وقت پاکستان کو تین بڑے مسائل کا سامنا ہے، اگرچہ مسائل تو بہت ہیں، جن میں مہنگائی سرفہرست ہے، امن و امان کے بھی مسائل ہیں، مگر ہم یہاں بات کریں گے آلودگی، کورونا اور ڈینگی کے حوالے سے جو براہ راست شہریوں کی صحت سے متعلق ہیں۔

پاکستان کا شمار جنوبی ایشیا کے زیادہ آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے، جہاں فضائی آلودگی میں خطرناک طریقے سے اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ فضائی آلودگی کے نتیجے میں ملک میں ہر برس 5 سال سے کم عمر 10 لاکھ بچے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتے ہوئی ٹریفک، صنعتوں سے خارج ہونے والے ایندھن اور کچرے، فصلوں کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث ہر سال 5 برس سے کم عمر 10 لاکھ بچے مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہوا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ڈبلیو ایچ او کی دی گئی گائیڈ لائن سے زیادہ پائی گئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ماحولیاتی مسائل میں فضائی آلودگی، پانی کی قلت و آلودگی اور نکاسی کے معاملات سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی اموات میں ڈائریا سرفہرست ہے اور ملک میں بچوں کی سالانہ اموات میں ڈائریا سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی شرح 40 فیصد ہے۔ ڈائریا گندے پانی کے استعمال اور ہاتھ نہ دھونے کے باعث پھیلتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتا ہوا ٹریفک فضائی آلودگی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب کہ پاکستان میں مسلسل ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستاں میں یومیہ 55 ہزار ٹن سے زائد کچرا بنتا ہے، جس میں سے زیادہ تر جلا دیا جاتا ہے جو کہ فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ملک میں فصلوں کی باقیات اور کچرا جلانے کے عمل سے آنکھوں، سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جب کہ صنعتی فضلہ بھی بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

کراچی سمیت سندھ میں ڈینگی مچھر کی بہتات کی وجہ سے رواں سال سندھ میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 767 تک جاپہنچی۔ جبکہ ملک کے دیگر علاقوں خصوصاً پنجاب میں بھی ڈینگی کا مچھر مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا ہے۔ خیال رہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد مختلف علاقوں میں بارش کا پانی تاحال جمع ہے جس کی وجہ سے مچھروں کی بہتات ہوگئی ہے جبکہ وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خطرہ ہے۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے وار جاری ہیں ۔پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق 15نومبر2020کو ملک بھر میں کورونا کے 39410 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2443 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ مزید 32 افراد انتقال کر گئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ روز کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 6.2 فیصد رہی۔سرکاری پورٹل کے مطابق پاکستان میں کورونا کیسز سے ہلاکتوں کی تعداد 7141 ہو گئی ہے جب مجموعی کیسز 3 لاکھ 56 ہزار 904 تک جا پہنچے ہیں۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 811 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے۔ 

یاد رہے کہ ایک وقت تھا کہ داتا کی نگری لاہور کو باغ باغیچوں اورمیلوں ٹھیلوں کا شہر کہا جاتا تھا بلکہ شہر لاہور کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ’’  جنہے  لہورنئیں ویکھیا اوجمیا ای نئیں‘‘پھر اس لاہور کو نا جانے کس کی نظرکھا گئی آج ماضی کا لاہورحال میں گم ہو کر رہ گیا، پرانے لاہور میں رہنے والوں نے خود کو ایک نئے رنگ میں میں ڈھال لیا، رہی سہی کسرپارکوں پرقبضوں اور پل سڑکوں کی تعمیر نے پوری کردی سیر کرنے کا رواج ختم ہو گیا، اسی وجہ سے بیماریوں نے جکڑ لیاآج کھیل کے میدان ویران اورہمارے ہسپتال آباد ہیں لاہور میں چلنے والی لاکھوں کی تعداد میں گاڑیوں نے آلودگی پھیلانی شروع کردی جس کی وجہ سے چہروں پرنکھار کی جگہ اداسیوں نے لے لی، سڑکوں کے کنارے قطار در قطار لگے درخت، سرسبز پارکس اور شہر کی عمارتوں کے گرد لگے پودے خال خال ہیِ نظر بناتے ہیں،با غیچے اور پارکس ہمیشہ اچھی دیکھ بھال کی عکاسی کرتے ہیں درخت آلودگی کے خاتمے کا ذریعہ بھی ہیں جنہیں ہم نے تہہ بالا کردیا اب وبائوں نے ہمیں گھیر لیا ہے،جبکہ ناصر کاظمی نے کیا خوب کہاہے کہ اے شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد ، تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو،شہر لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے، اس میں سینکڑوںکے حساب سے تاریخی عمارتیں ہیں، سر نکلس نے کہا تھاکہ 'لاہور ایک بڑا شہر ہے اور یہ جنوبی ایشیا کے ان شہروں میں سے ایک ہے جن میں تاریخی نوادرات کی سب سے زیادہ بہتات ہے۔ لاہور سیدنا علی بن عثمان ہجویری کی آمد کے وقت ایک چھوٹی سی گوالوں کی بستی تھی،محمود غزنوی نے ہندو راجہ جے پال کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا اور محمود غزنوی کے غلام ایاز نے پہلی مرتبہ لاہور میں پختہ قلعہ تعمیر کیا، اس کے بعد لاہور کی تاریخ کا اہم سنگ میل شیر شاہ سوری کا لاہور جی ٹی روڈ کو تعمیر کرنا تھا،شہر میں داخلے کے لیے 12 دروازے تعمیر کیے گئے، فصیل کے باہر دریا بہتا تھا اور دریا کے ساتھ خوبصورت باغ بنایا گیا،زندگی میں سکون ہی سکون تھا، خاص طور پر روٹھوں ہو ئوں کو منانے کا اپنا ہی مزہ تھا اب ہم بکھر چکے کر تنہا تنہا ہوچکے، خود نمائی اور جھوٹی شان وشوکت نے طبقات کے درمیان تفریق اور بھی گہری کردی ہے،طبقات کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہورہا ہے،ہر طرف محرومیاں ،سسکیاں اور آہیں سنائی دیتی ہیں، حد سے زیادہ مہنگائی نے لوگوں کے دلوں سے جینے کی رمق چھین لی لاہور کے شہریوں نے روایات کو چھوڑ دیا جب ڈینگی آیا توہر طرف خوف کے سائے تھے پھر اس پر قابوبھی پالیا گیا جبکہ اب بھی ڈینگی کنٹرول پروگرام جاری وساری ہے، اگرچہ ماہرین کو یقین ہے کہ  خطے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے مختلف علاقوں کے ماحول کو ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے زیادہ عرصے تک سازگار بنا دیا ہے، شہر میں بارشوں کی مقدار میں بھی ماضی کی نسبت کئی گنا کمی اضافہ ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے جہاں آلودگی نے ڈھیرے جما لئے وہیں مھچروں کی افزائش بھی ہوئی اور پھر ڈینگی نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ،ماہرین غیر معمولی تبدیلوں کو ماحول اور لوگوں کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں جن سے ماحول میں دیگر تبدیلیوں کے علاوہ کئی طرح کی امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان امراض میں ڈینگی سر فہرست ہے، بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی ڈینگی سمیت بعض دیگر بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے ،اب ایک نئی وبا ء نے پوری دنیا کو گھیر لیا ہے جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف معمولات زندگی میں  تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں وہیں نظام زندگی  معطل ہوکر رہ گیا ہے کرونا کے باعث ہمارا رہن سہن ثقافت تک تبدیل ہو کر رہ گئی ہے میل ملاپ ختم ہو کر رہ گیاہے ہمارے دین سے زیادہ ایس او پیزکون سکھائے گا مگر افسوس ہم نے دین کو چھوڑ دیاآج ہرکام بنا وٹی ہے کسی سے ملنا بناوٹی،کسی سے سلام لینا بناوٹی حتکہ ہم نے نمودو نمائش کواوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے ، کرونا کی دوسری لہراب پھر زوروں پرہے اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے شہرخاموش ہو گیا ہے،لاک ڈاؤن کچھ سیکھنے کا پیغام ہے ایس اوپیزپرعمل سے ہم خود بھی بچ سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں، جہاں تک ممکن ہوعوام  سماجی فاصلہ رکھتے ہوئے گھروں میں رہیں اور باہر صرف ورزش یا انتہائی ضروری کام سے نکلیں اگرہو سکے توصفائی ستھرائی کو زندگی کا حصہ بنالیں خاص کر گھر سے باہر نکلتے ہوئے ماسک ضرور استعمال کریں ، اقوام متحدہ کے ماحولیات کے ادارے کی سربراہ اینگر ایڈرسن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس قدرت کی جانب سے ہم سب کے لیے ایک پیغام ہے کہ انسان جو کرہ ارض کے قدرتی ماحول کو جو پے درپے نقصان پہنچا رہا ہے دراصل وہ پوری انسانیت کو نقصان پہنچا رہا ہے، ہم جیسا کررہے ہیں ویسا بھربھی رہے ہیں، سائنس دانوں، ماہرین ارضیات اور ماحولیات کی بڑی تعداد بار بار خبردار کرتی رہی ہے کہ گلوبل وارمنگ، موسمی تغیرات سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیںاس کا سدباب ضروری ہے، مثلاً شہر میںآبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی روک تھام، آلودگی کی روک تھام، فضائی آلودگی میں اضافہ کی روک تھام شامل ہے ،آلودہ پانی، سبزیوں، پھلوں، غذائی اجناس سے بھی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں، کارخانوں کے آلودہ پانی سے کھیتوں کو سیراب کیا جارہا ہے، فیکٹریوں اور کارخانوں میں پانی کی صفائی اور انہیں دوبارہ قابل استعمال بنانے کا کوئی نظام نہیں، اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک کا شور بے ہنگم آوازیں، دھواں، دھول مٹی، گرد و غبار اور اطراف میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر یا گندے پانی سے بھری سڑکیں اور گلیاں ہمارا منہ چڑا رہی ہیں، دنیا کے قدرتی ماحول کو پہلے ہی بہت سے مسائل اور خطرات کا سامنا ہے ، ماہرین ماحولیات کا خیال ہے کہ بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ جن ممالک میں آبادی میں اضافہ کی شرح زیادہ ان ممالک میں آبادی کی روک تھام کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے جدید سائنسی طریقوں کو اپنانے پر زور دیا جائے، جو لوگ ماحولیات میں بگاڑ اور موسمی تغیرات کو حقیقت ماننے سے انکار کرتے ہیں ان کی تعداد دس  فیصد سے زیادہ نہیں، قدرتی ماحول میں بگاڑ کا ذمہ دار انسان خودہی ہے دوسری طرف انسان دوست علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم نے زندگی کا ہی نہیں فطرت کا حسن بھی چھین لیا ، لاہور کے گردونواح میں اینٹوں کے بھٹے، سٹیل کے کارخانے، چاول کی کٹائی کے بعد مڈھ جلانا، گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور نئی ہائوسنگ سکیموں، سڑکوں و عمارتوں کی تعمیر کیلئے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی آلودگی بڑھنے کا سبب ہے آلودگی بڑھ جانے  سے دمہ، پھیپھڑوں اور دل کے مسائل پیدا ہو تے ہیں، جوں جوں لاہور کی آبادی بڑھ رہی ہے شہریوں کے مسائل بھی بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، باغوں کا شہر آج سڑکوں پررواں دواں لاکھوں گاڑیوں کی وجہ سے  آلودہ ترین شہروں میں سے ایک ہے،فیکٹریوں سے دھوئیں کے اخراج میں کمی، جدید ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنیوالے اینٹوں کے بھٹوں کی بندش کے علاوہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو جرمانے اور کسانوں کو سردیوں میں مڈھ جلانے سے روکا جائے توسموگ سے بھی چھٹکارامل سکتا ہے ، شہری علاقوں میں درخت لگانے اور ماحولیات سے متعلق سکولوں میں آگاہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے فضائی آلودگی جہاں ماحول کو دھندلا دیتی ہے وہیں لاہوریوں کے کھلے چہرے بھی مرجھا کر رکھ دیتی ہے اس کیلئے ہمیں وسیع تر تبدیلی کی پالیسی کو فروغ دینا ہوگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر