فرانسیسی عدالت نے مسلمانوں پر بجلیاں گرا دیں ،نیا قانون نافذ
26 نومبر 2020 (16:42) 2020-11-26

پیرس :فرانس میں مسلمانوں کیخلاف کیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی گئی ،فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے مسلم این جی او ز کو تحلیل کرنے سے متعلق احکامات کو جائز قرار دیتے ہوئے تمام فیصلوں کی توثیق کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی استاد کے قتل کے بعد 6 ماہ کیلئے ایک مسجد کو بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد مسلم این جی او ز کو بھی تحلیل کرنے کے احکامات جا ری کئے گئے ،ان احکامات کیخلاف فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت میں اپیل کی گئی تھی کہ ان فیصلوں کو واپس لیا جائے لیکن عدالت نے تمام اپیلوں کومستر د کرتے ہوئے فیصلوں کی توثیق کر دی ۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 16 اکتوبر کو استاد سیموئل پیٹی کے قتل کے بعد فرانس میں بنیاد پرست سرگرمیوں کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی کونسل نے حکومت کے حکم کے مطابق برکت سٹی این جی او کو تحلیل کرنے کا جواز اس گروپ کے سربراہ کی جانب سے ‘امتیازی سلوک، تشدد اور نفرت کو بھڑکانے’ کے بیان کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

حکومت نے اکتوبر کے آخر میں برکت سٹی کو تحلیل کرنے کا حکم دیا تھا اور الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ‘بنیاد پرست اسلام پسند تحریک’ اور ‘دہشت گردی کی کارروائیوں کو جواز بخشنے’ سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ گروپ نے اپنے ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس کے بانی اور رہنما ادریس سہمی کے متشدد اور امتیازی بیانات شائع کیے ہیں۔

تاہم یہ گروپ، جس کا اصرار ہے کہ اس کے پاس پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے ایک سخت انسانیت پسندانہ مشن ہے، نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور اس فیصلے پر اپیل دائر کی تھی۔

ایک علیحدہ فیصلے میں عدالت نے پیرس کے شمالی علاقے پینٹین میں واقع مسجد کو 6 ماہ تک بند رکھنے کی تصدیق کی۔ مقامی مسلمان برادری نے حکومت کے مسجد کو بند کرنے کے احکامات کے خلاف اپیل کی تھی۔


ای پیپر