Ashfaq Ahmed was a writer, playwright and broadcaster from Pakistan
کیپشن:   درویش بابا۔۔۔اشفاق احمد مرانھیں سورس:   فائل فوٹو
26 نومبر 2020 (15:49) 2020-11-26

علامہ عبدالستار عاصم

میرے بچپن کے چند آئیڈیل اور سحرانگیز خیالات، واقعات اور مشاہدات میں سے ایک بصری مشاہدہ ریڈیو پاکستان پر برسوں پہلے براڈکاسٹ ہونے والا طنزیہ پروگرام ’’تلقین شاہ‘‘ بھی تھا۔ اچھے مزاج، تعمیری طنز اور قومی درس سے لبریز ذومعنی گفتگو پر مبنی یہ پروگرام 30سال تک چلتا رہا۔ مجھے اب بھی یاد ہے جوں ہی انائونسر ’’تلقین شاہ‘‘ پروگرام کے آن ایئر جانے کا اعلان کرتے تو ایک مستقل ’’پُراسرار‘‘ میوزک کے بعد اشفاق احمد اپنے مخصوص انداز میں تلقین شاہ کے لہجے میں یوں گویا ہوتے ’’ہدایت اللہ … جی شاہ جی (ہدایت اللہ جواب دیتا ہے) … پائی (بھائی) میماناں (مہمان) دی دیکھ پال (بھال) کرو … اونہاں توں پچھو … کیا کھائو گے، کیا پیو گے… آخر میمان نواجی بھی کوئی چیج اے (آخر مہمان نوازی بھی کوئی چیز ہے) وغیرہ وغیرہ۔

اس فیچر میں کل پانچ کردار تھے جو ہر سننے والے کے ذہن پر نقش ہو جاتے تھے اور یہ پروگرام پاکستان کے تقریباً ہر دوسرے گھر میں بڑی فرمائش اور دلچسپی سے سنا جاتا تھا۔ اس پروگرام کے کئی مکالمے کئی کئی سال تک لوگوں کی زبانوں پر رہتے اور گلی، محلوں، ہوٹلوں، چوراہوں پر گونجتے سنائی دیتے رہے۔ میرے دل میں یہی خواہش تھی کہ ’’تلقین شاہ‘‘ کو دیکھوں۔ ان سے باتیں کروں، کچھ پوچھوں اور یہ تجسس وخواہش اس وقت پوری ہوئی جب میں (نظریہ پاکستان فائونڈیشن کے دفتر واقع لاہور میں ایک علمی وادبی تقریب میں شریک تھا۔ اشفاق صاحب اس تقریب میں اپنی مخصوص نشست پر تشریف فرما تھے۔ میرا دل بلیوں اُچھلا کہ آج میں اس کریکٹر سے بات کرسکتا ہوں جسے کبھی صرف دیکھنے کو متجسس رہا کرتا تھا۔ بہرحال معانقہ کے بعد میں نے نہایت ادب سے اپنا تعارف کروایا۔ اشفاق صاحب نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور شفقت وخلوص کے ساتھ قریب والی نشست پر بٹھا لیا۔ فرمانے لگے ’’ابھی آپ نوجوان ہیں … آپ کو بڑا آدمی بننا ہے۔ بڑے لوگوں کی سوانح عمری پڑھیں، ان کی زندگیوں کا مشاہدہ کریں، ان کے حالات زندگی کا تجزیہ کریں۔ آپ جس عمر میں آج کل ہیں اس میں بڑے لوگوں کی عملی داستانیں پڑھ کر جذبات پروان چڑھتے ہیں۔

ایک مرتبہ محترم اشفاق احمد صاحب لاہور کے ایک ہوٹل میں ایک صحافتی وعلمی حلقہ احباب میں جلوہ افروز تھے۔ مجھے میرے ایک صحافی دوست نے فون کے ذریعے مطلع کیا۔ بس پھر کیا تھا میں تمام مصروفیات چھوڑ کر فوراً ہوٹل پہنچ گیا۔ اب تو صورتحال یہ تھی کہ مجھے اشفاق صاحب کی صورت میں ایک دوست استاد مل گیا تھا جو بڑے فلسفیانہ اور تجزیاتی انداز میں مجھے کچھ نہ کچھ بتا دیتا ہو۔ ملاقات ہوئی، حسب روایت مجھے اپنے مخصوص مخلصانہ انداز میں ’’تلقین‘‘ فرمانے لگے … ’’کبھی غور کیا ہے … انسان کیا ہے … ایک پانی کے قطرے کی پیداوار ہے … بنی نوع انسان کی تخلیق مجازی یہی قطرہ کرتا ہے۔ جاپان، چین، کوریا کے پانی کے قطرے ہم سے مختلف کیوں ہیں؟ ہم 1947ء میں غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوئے تھے۔ جاپان، چین، کوریا ہمارے بعد آزاد ہوئے تھے مگر وہ ترقی میں ہم سے آگے نکل گئے۔ ہمارے اور ان کے درمیان کیا تفریط ہے … میرا خیال ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنا ہر کام آج اور آنے والے کل کے لیے کرتے ہیں جبکہ ہم اپنا ہر کام صرف آج کے لیے کرتے ہیں‘‘۔

اسی طرح کراچی میں بھی محترم اشفاق احمد سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اپنے ایک شاعر دوست محترم سیدامین گیلانی کی کتب ’’امیدویاس، فنون وحکمت عملی، سوئے مقتل، دامان خیال، بخاری کی باتیں، ہمارے دور کے چند علمائے حق، مشتاقان حرم اور سرمایہ درویش‘‘ کا ایک سیٹ تحفہ میں اشفاق احمد کودیا۔ انہوں نے بھی اپنی چند ذاتی تصانیف سے اپنے دستخطوں کے ساتھ نوازا۔ میں احساس تفاخر سے سرشار ہو گیا۔ حسب روایت دانشوری کے پھول کھلاتے ہوئے یوں کہنے لگے ’’زندگی ایک لمحہ ہے۔ اس ایک لمحے میں صدیوں سے بڑا کام کر جائو کیونکہ انسان ایسا کرسکتا ہے یہی اس کی عظمت ہے شاید اس لیے اسے سجدہ کروایا گیا تھا‘‘۔

اشفاق احمد جب بھی ملتے محبت، خلوص، دانش اور فلسفہ کا پیکر نظر آتے۔ بڑی باریک بینی سے نہ صرف عقل وخرد کی گتھیاں سلجھاتے بلکہ جنون وبے خودی کے کوہ سرمست کی سیر بھی کروا لاتے۔ قوم اور محبت، امن اور ایمان کی چاہت ان کی فطرت ثانیہ تھی۔ ان کی پوری زندگی مسرت، شادمانی سے عبارت ہے۔

یہ بھی قدرت کا ایک عظیم احسان ہے۔ اشفاق احمد نے جوانی میں جس لڑکی کو حاصل کرنے کا خواب دیکھا وہی لڑکی تعبیر بن کر ان کے آنگن میں آگئی۔ اس پر سند خوش بختی یہ کہ بانو آپا ایک مکمل اور مدلل رائے رکھنے والی باشعور اور قلمکار خاتون کے باوقار روپ میں سامنے آئیں مگر پچاس سال تک قوم کے اس عظیم فلاسفر اور ہمدرد کی زوجیت میں اس طرح گزارے کہ جس طرح کوئی کنیز اپنے آقا کی خدمت میں سرنیازخم کیے رہتی ہے۔

منگل کے دن 7ستمبر 2004ء کو صبح کے وقت عالمی میڈیا پر جب یہ خبر نشر ہوئی کہ 22اگست 1925ء کو مکتسر ضلع فیروزپور (بھارت) میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر محمد خان کے گھر پیدا ہونے والا عہدحاضر کا عظیم محقق، دانشور، ادیب، سفرنامہ رائٹر، تجزیہ نگار، مبصر، اداکار، صداکار، تخلیق کار، شاعر، استاد، فنکار، براڈکاسٹر، کمپیئر، افسانہ نگار، نقاد، مصلح ادب ومعاشر، قانع، موتکل شاکر، صابر، سخی، مہذب، محنتی، شفیق، انسانوں سے محبت کرنے والا، محبت کے قابل ملامتی صوفی، رجل بے ریا، اچھا  خادم، اچھا باپ، اچھا بیٹا، ایک مہذب اور محب وطن پاکستانی اشفاق احمد خان کافی عرصہ پِتے کے کینسر جیسی موذی مرض میں مبتلا رہنے کے بعد 79برس کی عمر میں اپنی ادبی زندگی کی ساتھی بیوی اور عظیم عورت بانوقدسیہ اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوگیا ہے تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ بلاشبہ یہ خبر پاکستان کے تمام علمی وادبی حلقوں کے لیے بڑے صدمے سے کم نہیں۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اشفاق احمد جیسا بڑا آدمی اب مشکل سے ہی پیدا ہو گا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اشفاق احمد مرا نہیں، اس کے مکالمے، تجزیے، تحریریں، افسانے، ڈرامے، کہانیاں اور داستانیں آئندہ کئی زمانوں کو جلا بخشتی رہیں گی اور کئی قومی ومعاشرتی مسائل کے حل کی راہ دکھاتی رہیں گی۔ 

٭…٭…٭


ای پیپر