Imran Khan,criminals,approved,ordinances,harassment
26 نومبر 2020 (22:45) 2020-11-26

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے غیر انسانی فعل میں ملوث مجرمان کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنا کا قانون لانے کی منظوری کے بعد اب وفاقی حکومت نے جنسی زیادتی اور ہراسانی کیخلاف 2 نئے آرڈینسز کی منظوری دیدی ہے  جس کے بعد اب ان گھنائونے جرائم میں ملوث درندوں کو سزا دینے کیلئے فاسٹ ٹریک طریقے رائج ہو ں گے اور خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے قانون نے سازی نے جنسی زیادتی اور ہراسانی سے متعلق دو نئے آرڈینسز کی منظوری دی ہے جس کے بعد میں جرائم میں ملوث درندوں کیلئے خصوصی عدالتیں قائم ہوں گے جہاں پر فوری انصاف میسر آیا کرے گا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر فروغ نسیم نے کی ۔ انسداد جنسی زیادتی آرڈیننس 2020 کے مسودے کو منظوری دی گئی۔ مسودے میں طے ہوا ہے کہ جنسی زیادتی کی روک تھام کیلئے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انسداد جنسی زیادتی سیل قائم ہوں گے۔

اس کے ساتھ ایسے جرائم کی تفتیش کی دوران متاثرہ فریق کے طبی معائنے میں غیر انسانی طریقوں کو ختم کرنے پر زور دیا گیا ۔ اسی طرح ان مقامات کی سماعت ان کیمرہ ہوا کرے گی۔ ان کیسز کی تفتیش کیلئے جدید طریقہ کار اور آلات کا استعمال ہو گا۔ متاثرہ فریق کو مکمل قانونی معاونت فراہم ہو گی۔ اسی طرح یہ غیر انسانی فعل میں ملوث ملزمان کا تمام ریکارڈ ’’نادرا‘‘ میں رجسٹر ہو گا ۔


ای پیپر