test
کیپشن:   test سورس:   test
26 نومبر 2020 (15:51) 2020-11-26

نیو دہلی: چین نے بھارت کی جانب سے مزید 43 موبائل ایپس پر پابندی لگانے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا نیوز بریفنگ میں کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے قومی سلامتی کا جواز بنا کر جون سے 4 مرتبہ چینی ایپلی کیشنز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

انہوں نے بھارت کو امتیازی پالیسیوں کو ترک کرکے دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید نقصان پہنچانے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ علی بابا گروپ کی آن لائن شاپنگ ایپ علی ایکسپریس اور گیمنگ پلیٹ فارمز بھی بھارتی پابندی کا سامنا کرنے والی ایپلی کیشنز میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ چین اور بھارت میں سرحدی تنازعہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے بھارت کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے جب مذاکرت شروع کیے تو مودی سرکار نے چین پر دباو بڑھانے کی خاطر اُس کی متعدد ایپلی کیشنز پر پابندی لگائی دی۔ بھارت نے یہ قدم اس لیے اٹھایا تھا تاکہ چین کو اپنی شرائط پر مذاکرات کرنے پر مجبور کیا جائے لیکن سرحدوں پر چینی فوج کی پوزیشن کافی مضبوط تھی اس لیے چین نے بھارت کی کوئی شرط نہ مانی۔

میڈیا رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی سرکار کو بتایا تھا کہ چین ٹک ٹاک اور دوسری ایپس کے ذریعے بھارتی شہریوں کا ڈیٹا حاصل کر رہا ہے جو بعد میں وہ بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ٹرمپ نے مودی کو مشورہ دیا کہ وہ چینی ایپس پر پابندی لگائے تاکہ چین کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔

واضح رہے کہ بھارت کی طرح امریکا نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور بھارت کئی مہینوں سے سرحدوں پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات تو کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ لیکن یہ اچھی بات ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات مذید کشیدہ نہیں ہوئے جیسے پہلے ہوئے تھے۔


ای پیپر