امریکہ کا افغانستان سے انخلا، کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ 
26 نومبر 2020 (15:41) 2020-11-26

افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

    ایلزبتھ تھریکلیڈ

امریکی میڈیا نے دفاعی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان اور عراق سے مزید فوجیوں کے انخلا کا حکم دیں گے۔حکام نے بتایا کہ جنوری کے وسط تک افغانستان میں فی الحال موجود پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے ڈھائی ہزار کر دی جائے گی جبکہ عراق سے پانچ سو امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد وہاں موجود فوجیوں کی تعداد 2500 رہ جائے گی۔

صدر ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ کرسمس تک ’تمام‘ فوجیوں کو وطن واپس لانا چاہتے ہیں۔

تاہم سینیٹر مچ نے کہا تھا کہ ’ہم دہشت گردوں کے خلاف امریکی قومی سلامتی اور امریکی مفادات کے دفاع میں ایک محدود لیکن اہم کردار ادا کر رہے ہیں، (شدت پسند) یہی چاہیں گے کہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج اپنا سب کچھ سمیٹ کر گھر واپس لوٹ جائے۔ وہ یہی تو چاہتے ہیں۔‘ اسی طرح جنرل مک کینزی سمیت فوجی سربراہوں نے ماضی میں بھی متنبہ کیا ہے کہ جلد بازی میں کیے گئے امریکی انخلا سے طالبان اور افغان حکام کے مابین امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ادھر امریکی پالیسی سازوں کیلئے اصل امتحان ان محدود عزائم کو ان ہنگامی حالات کے مقابلے کے قابل بنانا ہوگا جو افغانستان میں آئندہ برسوں میں درپیش ہوسکتے ہیں۔ مستقبل قریب کی صورتحال کے بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء  تک شورش کم و بیش موجودہ سطح پر برقرار رہے گی نیز افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات میں سست اور محدود پیش رفت ہوسکتی ہے۔ یہاں اگرچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناکامیوں کی صورت میں امریکہ اپنے نقطہ نگاہ کو کس طرح حالات کے مطابق ڈھالے گا، اور کیا کوئی چیز واشنگٹن کو اپنی موجودہ فوجی انخلاء  کی حکمت عملی سے رخ موڑنے پر مجبور کرسکے گی؟ واشنگٹن کا یو ٹرن لیا جانا خارج از امکان ہے، ماسوائے اس کے کہ وسیع پیمانے پر جنگ  چھڑ جائے یا کوئی ایسا عالمی دہشت گرد گروہ رونما ہو جائے جو علاقائی استحکام (بشمول جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ملک پاکستان) کیلئے خطرہ بنے۔ حتیٰ کہ بائیڈن انتظامیہ کے منتخب ہونے کی صورت میں بھی اس نقطہ نظر میں قابل ذکر تبدیلی کا امکان نہیں۔ مستقبل کی آزمائشوں سے نمٹنے اور موزوں نتائج کیلئے عقلمندی اسی میں ہوگی کہ واشنگٹن سفارتی و معاشی ذرائع کی حدود کو ذہن میں رکھتے ہوئے سول و عسکری معاونت کے ساتھ ان پر ہی زیادہ انحصار کرے۔

حالیہ امریکی بیانات اور معاہدے، واشنگٹن کے افغانستان میں بڑھتے مفادات کی ایک جھلک مہیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ29 فروری کو امریکہ طالبان معاہدے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سرزمین پر دہشتگردی کے خطرات کو کم کرنے اور سیاسی طور پر قابل عمل انخلاء  کی حکمت عملی غالب ہے۔ خاص کر امریکہ، بین الافغان مذاکراتی عمل میں ’’کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے امریکہ  اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کیخلاف افغانستان کی سرزمین کے استعمال کی روک تھام‘‘ اور ’’مستقل و جامع سیز فائر‘‘ کے بارے میں بات چیت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام کی ضمانت کے عوض امریکہ اور اس کے بین الاقوامی اتحادی3 اپریل2021 تک اپنی تمام عسکری قوتیں ’’بشمول تمام غیر سفارتی سویلین عہدیداران، نجی سیکیورٹی ٹھیکیدار، تربیت کار، مشیر اور دیگر معاونتی خدمات فراہم کرنے والے عہدیداران‘‘ مکمل طور پر نکال لیں گے۔ افغانستان کے مستقبل کے منظرنامے کے بارے میں واحد حوالہ  ’’بین الافغان بات چیت اور مذاکرات کے مطابق، بعد از تصفیہ وجود میں آنے والی نئی اسلامی حکومت‘‘ کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس حکومت کے امریکہ کے ساتھ ’’مثبت‘‘ تعلقات ہوں گے جو کہ افغانستان میں ’’تعمیر نو کیلئے معاشی تعاون کی کوشش کرے گا‘‘ اور ’’اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔‘‘

ادھر چین اور روس کے ساتھ طاقت کا مقابلہ امریکی ترجیح بن رہا ہے، ایسے میں ان کے خلاف میدان سنبھالنا ایک اور اضافی امریکی مفاد ہے۔2018 کی نیشنل ڈیفنس سٹریٹیجی  ’’لازوال اتحادیوں‘‘ کی مدد کے ذریعے سے ’’افغانستان میں حاصل شدہ کامیابیوں کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ وسائل کو زیادہ مستحکم بنانے کے قابل حکمت عملی کی جانب منتقلی‘‘ ہے۔ اب جبکہ واشنگٹن بعد از9/11  دہشتگردی کے خطرات سے توجہ ہٹاتے ہوئے منحرف قوتوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے، ایسے میں افغانستان اولالذکر کے ایک آثار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وہ وسائل اور تزویراتی توجہ جو فی الوقت افغانستان کیلئے مخصوص ہے، اسے یہاں سے نکال لینے کی صورت میں پینٹاگون اس قابل ہوسکے گا کہ وہ اپنی خدمات کو ان امور کیلئے بہتر طور تفویض کرے جنہیں پالیسی ساز زیادہ بڑے ابھرتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

آئندہ چند برسوں میں امریکہ ان مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں کے مابین سمجھوتے کی راہ کس طرح نکالے گا؟ اس سلسلے میں متعدد امکانات غور کئے جانے کے قابل ہیں اوران کے بیان کا  مقصد خصوصی پیشگوئیوں سے زیادہ مختلف صورتحال میں درپیش آسکنے والے نکتہ اختلافات کی منظرکشی کرنا ہے۔ کسی بھی مفروضے کی طرح یہ بھی فرضی ہیں اور وہ بھی افغانستان جیسی غیر یقینی صورتحال کے بارے میں، یہی وجہ ہے کہ یہ ان آزمائشوں کے فقط سرسری سے خاکے ہیں جن کا امریکی پالیسی سازوں کو مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔

اولاً تو یہ کہ واشنٹگن، امریکہ کے اندر ایک یا متعدد چھوٹے پیمانے پر دہشت گرد حملوں، جن کے سراغ افغانستان سے ملیں، کی صورت میں کیسے ردعمل دے گا؟ ایسے حملے امریکہ و طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کی شرائط سے براہ راست متصادم ہوں گے اور امریکی سرزمین کو محفوظ بنا لینے کے حکومتی دعووں کو یکسر جھٹلا دیں گے۔ اگر ایسے حملے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء  سے قبل ہوتے ہیں تو ایسے میں یہ عمل عارضی طور پر رک سکتا ہے تاکہ جوابی کارروائی کیلئے تعاون اور معاہدے کی خلاف ورزی کی سنگینی کو ظاہر کیا جاسکے۔ اس کے برعکس اگر حملہ ایسے وقت ہوتا ہے کہ جب امریکی اور اتحادی افواج مکمل طور پر نکل چکی ہوں تو ایسے میں پالیسی سازوں کو زیادہ مشکل فیصلوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ2014 کا امریکہ افغانستان دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ2014 اور اس کے بعد تاوقتیکہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق دو سال کے پیشگی نوٹس کے بعد اس معاہدے کو ختم کردے، نافذ ہے۔ افغانستان میں فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی،2014 میں عراق میں امریکی افواج کی دوبارہ تعیناتی کی مانند بہرحال سیاسی طور پر مہنگا سودا ہوگا جس سے یقینی طور پر واشنگٹن بچنا چاہے گا۔

 اگر مستقبل کی افغان حکومت، امریکی سفارتی و نفاذ قانون کی کوششوں سے ہمت پکڑتے ہوئے ان حملوں پر کھلم کھلا تنقید کرنے کے قابل نیز انٹیلی جنس اور ممکنہ فضائی تعاون کے ذریعے ذمہ داران کا پیچھا کرنے کی خواہاں ہوئی تو ایسے میں زمینی افواج کی واپسی سے بچا جا سکے گا۔ اس کی متبادل ایک کیفیت سپیشل آپریشن فورسز کا افغان سیکیورٹی فورسز کے ہمراہ ایک محدود کردار ہوسکتا ہے، جس میں غالباً بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے ردعمل کے بارے میں اس وقت سوچا جاسکتا ہے جب کوئی دہشت گرد گروہ پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم بنانے کیلئے حملوں کا سلسلہ شروع کرے جو کہ علاقائی استحکام کیلئے اور اگر اس کے اثرات کو وسیع تر کیا جائے تو امریکی مفادات کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہو۔

دوئم یہ کہ افغان منتخب حکومت کے گر جانے اور طالبان کی جانب سے بذریعہ طاقت اقتدار حاصل کرلینے کی کوشش کی صورت میں واشنگٹن کا ردعمل کیا ہوگا؟ پہلی صورتحال کی طرح ایک بار پھر یہاں بھی امریکی ردعمل اس امر پر منحصر ہوگا کہ آیا تمام غیر ملکی افواج کی واپسی مکمل ہوگئی ہے۔ اگر امریکی اور اتحادی فوجیں باقی ہوئیں تو وہ لازماً ملک بچانے اور طالبان کو قابض ہونے سے روکنے کیلئے اپنی کاوشوں میں مزید سختی لے آئیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کی جانب سے غیر ملکی فوجوں کی موجودگی میں ایسی بھرپور جارحیت کا امکان نہیں۔ اتحادی افواج کے مکمل انخلاء  کے بعد امریکی سپاہیوں کی دوبارہ تعیناتی کا تصور مشکل ہے، ماسوائے اس کے کہ امریکی سلامتی سے جڑے وسیع تر مفادات پر اس کا کوئی اثر ہو۔ اگر لڑائی افغانستان تک محدود رہے اور جوہری طاقت پاکستان کے استحکام کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو یا یہ وسیع تر علاقائی تنازعے کیلئے چنگاری نہ بنے تو ایسے میں تنازعے کو حل کرنے کیلئے امریکہ کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ دیگر علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے سفارتی و معاشی دباؤ کو استعمال میں لائے۔ یہ لائحہ عمل یقیناً سائیگون اور نجیب اللہ حکومت کی شکست کی یاد دلائے گا، امریکی وقار، زمین پر موجود اس کے شراکت داروں اور ۱۰۰۲ سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ تاہم اس کا متبادل راستہ تنازعہ کو صرف وقتی طور پر روک پائے گا اور مسئلہ کا دائمی حل نکلنے کی کم ہی امید ہو گی۔

سوئم یہ کہ واشنگٹن، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، پیپلز لبریشن آرمی اور نجی سیکیورٹی فورسز کی صورت میں افغانستان میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر کیسے ردعمل دے گا؟ اس ممکنہ صورتحال کا حوالہ ان علاقائی مشاہدہ کاروں کی جانب سے بارہا دیا جاتا رہا ہے جو واشنگٹن کی جانب سے افغانستان سے انخلاء  میں جلدی اور بڑی طاقتوں کے مابین مقابلے پر ازسرنو توجہ کا معاملہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ اسی دلیل کے تحت افغانستان کا، چین-امریکہ مسابقت میں بطور تزویراتی میدان جنگ اسی قدر کردار ہوسکتا ہے جس قدر کے یہ دہشتگردوں کے خطرے کا مرکز ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر جنوبی ایشیا میں بعض حلقے واشنگٹن کے مکمل انخلاء  کے بارے میں مشکوک ہیں۔ افغانستان کا چین-امریکہ مقابلے میں ایک محاذ بننے کا یقیناً امکان ہے، تاہم یہ امر اس قدر خطرناک ہرگز نہیں کہ امریکہ اپنے فوج کے انخلاء  کے منصوبوں پر ازسرنو غور کرے۔ مستقبل میں افغانستان میں چین کی موجودگی کو سیکیورٹی، انفراسٹرکچر اور گورننس سے متعلقہ انہی آزمائشوں کا سامنا ہوگا جو تاحال افغانستان کی اپنی اور امریکی کوششوں میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ درحقیقت افغانستان میں وسیع پیمانے پر ملوث ہونا بیجنگ کیلئے مہنگی مداخلت ثابت ہوسکتا ہے۔ اور تو اور، افغانستان میں چینی اور امریکی مفادات اس حد تک ایک دوسرے سے متصل ہیں کہ دونوں ہی افغان استحکام کے حق میں ہیں تاکہ سرحد پار دہشت گرد حملوں کو روکا جاسکے۔ اگرچہ امریکہ کو سفارتی و معاشی راستوں کے ذریعے افغانستان میں مصروف عمل رہنا چاہیئے، تاہم افواج کی موجودگی بڑی طاقتوں کے مقابلے کے لئے بلاجواز ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر