General Qamar Javed Bajwa, face, challenges, nation, institutions
26 نومبر 2020 (12:42) 2020-11-26

منگل 24 نومبر کو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں کور کمانڈرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا… جس میں پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم اوراداروں کی مدد سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کریں گے… جبکہ اس ضمن میں جاری کی جانے والی خبر کے مطابق کور کمانڈرز نے خبردار کیا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کی مدد کر کے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے… بھارت بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے… کانفرنس میں بھارتی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول کے مقیم شہریوں کو بچانے کے لئے تمام اقدامات کرنے، کسی بھی غلط کارروائی کے خلاف مادر وطن کے مضبوط دفاع کے لئے پختہ عزم کا اظہار نیز افغان امن عمل میں پیش رفت اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا جائزہ بھی لیا گیا… مزیدبرآں جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں بھارت کی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد، پاکستان میں عدم استحکام کے لئے بھارتی سازشوں، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف بھی بھارتی سازشوں اور اس کی جانب سے دہشت گردوں کی فنانسنگ اور ٹریننگ کا جائزہ لیا گیا… پاکستان کے پاس ملک کے اندر بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ دینے اور عدم استحکام پیدا کرنے کی خفیہ سازشوں کے تمام ثبوت اور ٹھوس شواہد موجود ہیں… جن سے وزارت خارجہ کے ذریعے دنیا کے اہم ممالک کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے… جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا پاک فوج ریاستی اداروں اور قوم کی حمایت سے اندرونی اور بیرونی چیلنجوں پر قابو پا لے گی…

یہ امر ارض وطن کے ہر ہر فرد کے لئے اطمینان کا باعث ہے کہ ہماری مسلح افواج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کی خاطر نہ صرف مستعد اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں بلکہ اس ضمن میں دشمن بھارت کے تمام عزائم اور خفیہ منصوبوں سے بھی واقف ہیں اور ان کے خلاف بروقت اقدامات کے لئے ہرآن چوکس اور مکمل تیاری سے آراستہ ہیں… اس میں شک نہیں ہمارے بہادر نڈر اور جنگی ودفاعی نقطہ نظر سے پوری طرح تربیت یافتہ سپاہی اور فوجی افسروں نے نہ صرف دفاع وطن کی خاطر اعلیٰ درجے کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ جب بھی ضرورت پڑی جانوں کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کیا… بلاشبہ ہماری عظیم سپاہ دشمن کی ہر ہر چال کا مؤثر توڑ کرنے اور اس کے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو فروغ دینے اور دہشت گردی کا جال پھیلانے کے تمام مذموم منصوبوں کو اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہر دم انہیں ناکام بنا کر رکھ دینے کے عزم اور حوصلے سے بھی سرشار ہے… تازہ کور کمانڈر کانفرنس میں دشمن کی جانب سے درپیش خطرات کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لے کر بھارت اور ساری دنیا کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ہم دفاع وطن کی خاطر اپنے فرائض سے غافل نہیں اور کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ پوری قوم اپنے بہادر فوجیوں کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے… جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا یہ تمام صورت حال اہل وطن کے لئے نہ صرف اطمینان کی باعث ہے کہ ان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے بلکہ ان کے ہر لمحہ چوکس رہنے اور  جب جب ضرورت پڑی ہے لازوال قربانیاں دینے پر قوم کو اپنے اولی العزم فوجیوں پر فخر بھی ہے… تاہم ایک بات قدرے تشویشناک ہے کہ ہماری فوجی قیادت کو ان دنوں ملک کے کچھ سرکردہ سیاستدانوں اور حزب اختلاف کے چنیدہ رہنمائوں کی تنقید کا سامنا ہے… ان کے نزدیک فوجی قیادت کی جانب سے امور سیاست میں بار بار کی مداخلت کی وجہ سے پاکستان کے اندر سیاسی لحاظ سے عدم استحکام پایا جاتا ہے… انتخابی عمل پر اثرانداز ہو کر مرضی کے نتائج حاصل کئے جاتے ہیں… سول حکومتوں کو چلنے نہیں دیا جاتا اور وہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے قابل نہیں رہتیں… اس میں ہماری بہادر فوج کا ہرگز کوئی قصور نہیں… وہ تو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں کسی غفلت سے کام نہیں لیتی مگر عسکری قیادت کے کچھ چوٹی کے عہدیداروں کی جانب سے مذکورہ اپوزیشن رہنمائوں کے نزدیک آئین مملکت کی حدود کی پابندی نہ کرتے ہوئے امور سیاست میں مسلسل دخل اندازی اور اپنے فیصلے مسلط کرنے کے عمل نے پاکستان کے آئینی اور جمہوری نظام پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں… اسے ختم ہونا چاہئے… الزام صحیح ہے یا غلط اس میں شک نہیں کہ تنقید بڑھتی جا رہی ہے جو کسی طور پر مفید نہیں… گزشتہ ماہ ستمبر کی 20 تاریخ کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں لندن میں علاج کی خاطر مقیم اور حکومت کی جانب سے عائد کردہ مختلف مقدمات میں ماخوذ تین بار منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم نوازشریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں اداروں کی جانب سے آئینی حدود کی خلاف ورزی اور سیاست 

میں مداخلت پر سخت تنقید کی اور کہا ان کی آئینی اور منتخب حکومت کو الٹا دینے میں ان کا ہاتھ ہے… یہ تقریر کانفرنس کے شرکاء سمیت پوری قوم نے سنی… بہت چرچا ہوا… اس کے بعد نوازشریف کے خطابات کو نشر اور شائع کرنے پر پابندی لگا دی گئی… مگر مابعد ماہ اکتوبر کے دوران گوجرانوالہ اور کوئٹہ میں اپوزیشن کے نوزائیدہ اتحاد پی ڈی ایم کے زیراہتمام جلسوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطابات میں میاں نوازشریف نے قطعی انداز میں دو چوٹی کے افسران کا نام لے کر انہیں براہ راست ہدف تنقید بنایا اور ان کے نزدیک پاکستان میں آئین و جمہوریت سے انحراف کی جو صورت حال پائی جاتی ہے اس کا ذمہ دار ان کو ٹھہرایا… نوازشریف کی یہ تقاریر پابندی کی وجہ سے قومی دھارے کے ذرائع ابلاغ، ٹی وی چینلوں اور اخبارات وغیرہ میں تو نہ چھپ سکیں لیکن سوشل میڈیا کی کارفرمائی کی وجہ سے گھر گھر سنی گئیں… کوئی بات مخفی نہ رہی… چنانچہ اختتام ہفتہ گزشتہ اتوار 22 نومبر ک کو ’پی ڈی ایم‘ ہی کے تحت پشاور میں جو جلسہ عام ہوا اس میں نوازشریف تو اپنی علالت اور والدہ کے بستر مرگ پر ہونے کی وجہ سے تقریر نہ کر سکے… ان کی صاحبزادی مریم بھی دادی کی وفات کی خبر سن کر حاضرین جلسہ سے معذرت کر کے چلی گئیں مگر دیگر جماعتوں کے قائدین مثلاً بلاول زرداری بھٹو، سردار عطاء اللہ مینگل، محمود خان اچکزئی اور اپوزیشن اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمن کے تنقیدی لہجے میں بہت زیادہ شدت آ چکی تھی… سب نے محض اسٹیبلشمنٹ کے ذکر سے آگے بڑھ کر کھلے الفاظ میں عسکری قیادت کو نشانے پر رکھا… بلاول بھٹو جو پہلے نام لینے سے گریزاں تھے اب باقاعدہ راولپنڈی اور آبپارہ کی جانب واضح کر کے حکمران جرنیلوں کے طرزعمل پر معترض ہوئے… اسے آئین اور جمہوریت کی روح اور الفاظ کی پامالی کے مترادف قرار دیا… اپوزیشن کی جملہ اور پارلیمنٹ میں بھرپورنمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے ان قائدین کی جانب سے مقدس قومی دفاعی اداروں کے سربراہوں کے کردار پر اتنی زیادہ حرف گیری پر اندرون اور بیرون ملک ہر جگہ نوٹس لیا جا رہا ہے… مبصرین کا کہنا ہے زبانوں پر نوازشریف کا بیانیہ آ گیا ہے… اب جو ان قائدین کی جانب سے میثاق پاکستان نام کا چارٹر سامنے آنے والا ہے اس میں بھی پوری صراحت کے ساتھ اداروں اور ایجنسیوں کے غیرآئینی کردار کے خاتمے کو چارٹر کے بنیادی اہداف میں شامل کیا جائے گا…

اس پر قومی میڈیا کے اندر ٹیلی ویژن پروگراموں اور اخباری تجزیوں دونوں جگہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے اپوزیشن لیڈروں کے واضح الزامات کے جواب میں عسکری قیادت کی جانب سے خاموشی کیوں ہے… ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں ایک ریٹائرڈ جرنیل نے جو مختلف چینلوں پر فوجی قیادت کے دفاع میں پیش پیش رہتے ہیں کہا ہے یہ کام سول حکومت کا ہے کہ عسکری قیادت پر ہونے والی تنقید کا مؤثر جواب دے جو وہ نہیں کر رہی… اسی طرح ایک روزنامے کے صفحہ اوّل پر شائع ہونے والے خبری تجزیے میں محکمہ اطلاعات کے ایک سابق سینئر افسر نے سوال اٹھایا ہے ’’دفاع کرنے والوں کادفاع کون کرے گا‘‘… ان کی تحریر کا منشا بھی یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے جو وہ ادا نہیں کر رہی… شیخ رشید نے البتہ یہ کہا ہے موجودہ اسٹیبلشمنٹ میں بہت زیادہ صبر اور برداشت پائی جاتی ہے… تاہم یہ امر قدرے حیران کن ہے کہ کوئی ایک ماہ قبل قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور مسلم لیگ (ن) کے قائد ایاز صادق نے ایوان اسمبلی میں بھارتی فوجی پائیلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے پسینے چھوٹ جانے والی بات کہی تو آئی ایس پی آر کی جانب سے اگلے روز اس کا پُرزور الفاظ میں جواب آ گیا مگر براہ راست تنقیدی حملوں کے ردعمل میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا… ظاہر ہے اس میں کوئی نہ کوئی مصلحت یا حکمت پنہاں ہو گی… پاکستان میں سابقہ ادوار کے حکمران جرنیلوں پر تنقید کا رواج عام ہے… مثلاً ایوب ، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف مارشل لائوں اور فوجی اقدامات کو تو قومی ملکی مفاد اور دفاع وطن کے تقاضوں کے سخت منافی قرار دیا جاتا ہے… ان کے ادوار میں کچھ اچھے کام ہوئے تو ان کے بارے میں بھی آئین کی پامالی کے جرم کے ارتکاب کی وجہ سے ذکر سے عمومی طور پر گریز کیا جاتا ہے… لیکن حاضر سرورس جرنیلوں کو پہلی مرتبہ چوٹی کی سیاسی اور منتخب اداروں میں کافی حد تک قوم کی نمائندگی کرنے والے لیڈروں کی جانب سے کھل کر آئینی حدود سے انحراف کا مرتکب ٹھہرایا جا رہا ہے… یہ امر بلاشبہ تشویش کا باعث اور قومی سطح پر سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہے اس کی وجوہ کا جائزہ لے کر مؤثر سدباب اور پائیدار حل نکالنا چاہئے تاکہ ہماری محب وطن عسکری قیادت پوری طرح یکسو ہو کر دفاع وطن کے تقاضوں سے آخری حد تک عہدہ برا ہو سکے… اس سلسلے میں ایک تجویز یہ دی جا رہی ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کیا جائے… جس میں پارلیمانی جماعتوں کے سیاسی رہنما، عسکری قائدین اور اعلیٰ عدالتوں کے جج سب شامل ہوں جو مل بیٹھ کر ایک آئینی اور جمہوری فریم ورک تیار کریں اور اس پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں تاکہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے… دوسری رائے یہ ہے اس کی ضرورت نہیں… نہ آئین کے اندر اس طرح کے ڈائیلاگ کی گنجائش پائی جاتی ہے… قوم کا متفق علیہ آئین اور دستور مملکت پہلے سے موجود ہے… بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اس ضمن میں نظریات ہمارے سامنے ہیں… تمام ادارے جملہ سیاستدان اور اعلیٰ عدلیہ کے معزز ارکان اگر اس پر کمربستہ ہو جائیں کہ آئین پاکستان اور متفقہ دستور مملکت کے ایک ایک لفظ پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنانا ہے… اس کی طے کردہ حدود کی سختی کے ساتھ پابندی کرنی ہے جیسا کہ دنیا کے آزاد، کامیاب اور ترقی و کامیابیوں کی شاہراہ پر گامزن جمہوری ممالک کا شعار ہے تو ہمارے بھی پیشتر قومی دلدّر دور ہو جائیں گے… یہ آئینی طاقت ہے جس نے امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ جیسے بااختیار اور ضدی شخص کو بالآخر انتخابی شکست تسلیم کر لینے پر مجبور کیا ہے… وہاں کی فوج اس کی مدد کو آئی ہے نہ نئے منتخب صدر جوبائیڈن کا بازوئے شمشیر زن بنی ہے… سارے بحران کے دوران غیرجانبدار رہی ہے… جبکہ وہاں کے آئینی اور جمہوری اصولوں نے اپنی کارفرمائی دکھائی ہے… ٹرمپ صاحب بھیگی بلّی کی مانند وہائٹ ہائوس خالی کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں… ہمارے یہاں بھی ایک بڑا تنازع جس میں گزشتہ ساٹھ ستر سال سے پھنسے چلے آ رہے ہیں اور مارشل لاء یا بار بار کی سیاسی مداخلت برداشت کرنا پڑتی ہے سے نکل کر آئین کی بالادستی اور منتخب پارلیمنٹ کی حکمرانی کے آگے سر تسلیم خم کر لیا جائے… تو قوم اور ملک کی قسمت جاگ اٹھے گی… تمام اداروں اور ان کے سربراہوں کو قومی سطح پر احترام کے ساتھ یکسوئی اور بہترین طرزعمل نصیب ہو گا… وہ غیرمتنازعہ ہو جائیں گے… صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ حکومتوں کے برسراقتدار آنے اور اپنی اپنی آئینی مدت پوری 


ای پیپر