Important, facts, PM Imran Khan, Faisalabad, Punjab
26 نومبر 2020 (12:27) 2020-11-26

فیصل آباد پاکستان کا تیسرا اور پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہے جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وجہ سے پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے۔ اس شہر سے وزیراعظم عمران خان کا خاص تعلق ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں اقتدار سے پہلے تحریک انصاف نے سب سے زیادہ جلسے کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ن لیگ کا قلعہ تصور کیا جاتا تھا اور عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی کہ اس قلعہ کی دیواروں میں ایسے شگاف ڈالیں جائیں کہ یہاں سے ن لیگ کو ہرایا جا سکے۔ تبدیلی کا نعرہ فیصل آباد والوں کے لیے برگ حشیش یا ہیروئن کی پڑی سے کم نہ تھا پھر دنیا نے دیکھا کہ گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف نے ڈرامائی معرکے کے بعد فیصل آباد ن لیگ سے چھین لیا۔ یہاں پر عابد شیر علی راجہ منان اور رانا ثناء اللہ جیسے ن لیگی لیڈر الیکشن سے باہر ہو گئے۔ رانا ثناء اللہ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ 2 سیٹوں پر لڑ رہے تھے جن میں سے ایک سیٹ وہ تھوڑے سے ووٹوں سے بمشکل جیت پائے۔ ہرطرف تحریک انصاف کے دور کا آغاز ہو گیا لیکن 2 سال کے قلیل عرصہ میں صورت حال بہت بدل چکی ہے۔ فیصل آباد کا چھوٹا تاجر بڑا تاجر مزدور، محنت کش سارے طبقے پرانے وقت کو یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا کر دیا۔ حتیٰ کہ تحریک انصاف کے اندر پارٹی منحرفین کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ راجہ ریاض اور فیض اللہ کموکا جیسے پارلیمنٹرین کو نظر انداز کر کے فرخ حبیب ایسے نو عمربندے کو وزیراعظم کا مشیر بنانا اور وزارت دینا ایسے ہی تھا جیسے فوج میں کسی 25 سالہ نوجوان کو ڈائریکٹ جنرل بھرتی کر دیاجائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے فیصل آباد کی پرانی اور اصل تحریک انصاف کی قیادت سرکاری زبان میں او ایس ڈی بن چکی تھی۔ اس سے پہلے مقامی طور پر قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ فیصل آباد کی تاجر برادری کے لیے بہت بڑے میگا پیکیج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس دورے کی قطاریں ماضی کی یاد رہی تھیں جب نواز شریف پروٹوکول کے ساتھ دورے کرتے تھے تو تحریک انصاف اس پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتی تھی مگر فیصل آباد میں وزیراعظم عمران خان کی آمد پر اس دفعہ وہ ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ جب وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے شہر کی ساری سڑکیں بند تھیں تو پورے شہر کا ٹریفک نظام اس قدر درہم برہم ہوا جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا چنانچہ حکومت کا نوٹس لینا ایک مجبوری تھا مگر نوٹس یہ نہیں تھاکہ بند سڑکیں کھول دی جائیں بلکہ چیف ٹریفک آفیسر کے تبادلے کے احکام جاری کیے گئے کہ وہ سرکاری دورے کے موقع پر ٹریفک کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔ 

فیصل آباد کا تاثر طبقہ اس انتظار میں تھا کہ وزیراعظم ان کے لیے بہت بڑا پیکیج لے کر آ رہے ہیں اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر نے اکتوبر 2020ء میں 2 ارب ڈالر کی برآمدات کیں۔ برآمدات میں یہ اضافہ پاکستانی حکومت کا کارنامہ نہیں تھا بلکہ عالمی پیداواری سیکٹر بند ہونے کی وجہ سے وہ آرڈر پاکستان کو مل گئے تھے ۔ البتہ حکومت کا ایک کارنامہ ہے کہ کوویڈ  کے دوران صنعتی بجلی کے بلوں میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے کا ریلیف ہر فیکٹری اور کارخانے کو دیا گیا ہے۔ جہاں تک صنعتی صارفین کے بلوں میںٹیرف کی بات ہے تو وہ اس وقت بھی کمرشل میٹر پر 22 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل آتا ہے جو بہت زیادہ ہے۔ فیصل آباد کے دورے کے موقع پر کسی طرح کا کوئی مراعاتی پیکیج ٹیکسٹائل سیکٹر کو نہیں دیا گیا۔ جو 13 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج کا اعلان ہے اس کا تعلق سڑکوں کی تعمیر ، واٹرسپلائی ، نکاسیٔ آب اور اس طرح کی اربن ڈویلپمنٹ سے ہے۔ 

دورۂ فیصل آباد کے بعد حالیہ کیبنٹ میٹنگ میں وزیراعظم نے 2020-2025ء کے لیے نئی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں کہا جا رہا ہے کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ٹارگٹ 20.8ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2019ء میں ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 5.5 ارب ڈالر تھی اب اگر حکومت کہتی ہے کہ ہم 5 ارب ڈالر سالانہ اٹھا کر اس کو 20 ارب یعنی 4 گنا اضافہ کریں گے تو یہ بڑی حیرت انگیز بات ہی نہیں بلکہ چیلنج ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہو گا۔ یہ بظاہر ایک ناممکن بات لگتی ہے یہاں پر وزیراعظم صاحب کا ایک گزشتہ دعویٰ کا ذکر ضروری ہے جب انہوں نے حکومت میں آنے سے پہلے جلسۂ عام میں کہا تھا کہ ٹیکس ہدف کو 4000 ارب سے 8000 ارب پر لایا جائے گا جب ٹی وی پر ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہو گا تو آپ نے فرمایا میں یہ کرکے دکھاؤں گا اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ حکومت 4000 ارب کا پرانا ٹارگٹ بھی حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ 

یہاں پر ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے موجودہ حکومت اس بنا پر اپنے آپ کو نشانِ حیدر کا مستحق سمجھ رہی ہے کہ 11 سال میں پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منافع میں بدل گیا ہے۔ یہ بہت بڑی گمراہ کن بات ہے جس پر ماہرین کو بولنے کی ضرورت ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ایک سال کے عرصے میں کتنی رقم ملک سے باہر گئی اور کتنی رقم باہر سے ملک میں آئی۔ ہم چونکہ ایک ترقی پذیر ملک ہیں ہمیں اپنے صنعتی شعبے کے لیے خام مال سارا باہر سے لینا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہماری درآمدات کا 60 فیصد حصہ مینو فیکچرنگ سیکٹر کے لیے ہے۔ اسی طرح 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی درآمد پٹرول کی صورت میں ہے۔ اب اگر یہ درآمد نہیں ہو گی تو ہماری صنعت بیٹھ جائے گی۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس تو آیا ہے مگر ہماری امپورٹ اور ایکسپورٹ دونوں گزشتہ سال سے نیچے ہیں۔ حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ یہ اچھی بات ہے تو پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہماری معاشی ترقی کی علامت نہیں ہے۔ اس پر قصیدہ گوئی گمراہ کن ہے۔ البتہ اچھی خبریہ ہے کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ سالانہ 25 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر گیا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھیجی ہے جس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ اس کا کریڈٹ عمران خان کودینا ایسا ہی ہے جیسے محترمہ زرتاج گل بارش کا کریڈٹ بھی تحریک انصاف کو دیتی ہیں۔ 

فیصل آباد سے جاتے جاتے عمران خان ایک ایسی بات کر گئے جسے ہم لطیفہ کہیں تو تحریک انصاف والے ناراض ہو جائیں گے۔ا ٓپ کا فرمان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب فیصل آباد مانچسٹر سے آگے نکل جائے گا۔ اس سے پہلے وہ کئی بار کہہ 


ای پیپر