Islam, subcontinent, Balochistan, Sindh, Prophet Muhammad SAW
26 نومبر 2020 (11:54) 2020-11-26

ہم نے اکثر کتابوں میں پڑھ رکھا ہے کہ برصغیر میں اسلام سب سے پہلے محمد بن قاسم کے آنے کے بعد آیا ہے اور محمد بن قاسم سب سے پہلے سندھ میں آئے تھے۔اس لئے سندھ کو بابِ اسلام کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں سب سے پہلے اسلام بلوچستان کے راستے داخل ہوا۔ بلوچستان کے شہر ژوب کے رہنے والے ایک عیسائی شخص قیس نے جب حضرت محمد مصطفیﷺ کے متعلق سنا تو وہ ایک قافلے کے ساتھ سعودی عرب پہنچا اور حضرت محمدﷺ سے ملاقات کر کے اسلام قبول کیا۔ حضرت محمدﷺ نے اس کا نام عبدالرشیدؓ رکھا۔وہ قیس عبدالرشیدؓ کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ اپنے قافلے کے ساتھ مسلمان ہونے کے بعد واپس بلوچستان آ گئے۔ انہوں نے آ کر دین کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہاں یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ سب سے پہلے اسلام بلوچستان سے داخل ہوا تاریخ پیدائش اور دورِ حکومت کے سن (سال) بطورِ ثبوت پیش کئے جا رہے ہیں۔ حضرت محمدﷺ کی تاریخ پیدائش 570 عیسوی ہے اور قیس عبدالرشیدؓ کی تاریخ پیدائش 575 عیسوی ہے۔ حضور کی تاریخ وفات 632 عیسوی ہے۔ جبکہ قیس عبد الرشیدؓ کی تاریخ وفات661 عیسوی ہے۔ حضرت محمدﷺ 63 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ جبکہ قیس عبدالرشیدؓ نے 86 سال کی عمر پائی۔ یہ تاریخ میں ثابت ہے کہ وہ صحابی ٔ رسول تھے اور حضورؐ کی زندگی میں واپس بلوچستان آ گئے تھے۔ وہ یہاں کافی سارے علاقوں 

میں گھوم پھر کر تبلیغ کرتے رہے۔ یہ پہلا صحابہ کرامؓ کا قافلہ تھا جو حضور پاکﷺ کی زندگی میں بلوچستان آیا۔632ء میں حضور پاک ؐ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرصدیق ؓخلیفہ مقرر ہوئے لیکن صرف دو سال کے بعد 634ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے دور ِ حکومت میں بھی صحابہؓ کے قافلے آتے رہے۔ 634ء سے 644ء تک دس سال تک پھر حضرت عمرِ فاروق ؓ کا دور آتا ہے۔ جس دور میں بہت سے صحابۂ کرامؓ بلوچستان آئے جن میں سے 5 صحابہ کی قبریں پنجگور کے قریب ایک خوبصورت کھجوروں کے باغ میں ہیں۔ ان پانچ قبروں کی وجہ سے ہی اسے پنجگور کہا جاتا ہے۔ پنج گور یعنی پانچ قبریں۔ 644ء میں حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت کے بعد 644ء سے 656ء تک بارہ سال تک حضرت عثمان غنی ؓ کادورِ حکومت تھا۔ ان کے دورِ حکومت میں بھی صحابۂ کرامؓ بلوچستان آتے رہے اور ان صحابۂ کرامؓ کی قبریں بھی بلوچستان مکران کے کافی علاقوں میں موجود ہیں۔ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت 656میں ہوتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور میںمسلسل صحابۂ کرامؓ بلوچستان تشریف لاتے رہے اور بلوچستان کے بہت سارے علاقوں میں ان کی قبریں ہیں۔ حضرت عثمانؓ کا دورِ اقتدار ختم ہونے کے بعد حضرت علی ؓ کا دورِ حکومت شروع ہوتا ہے جو 656ء سے شروع ہو کر661  ء تک قائم رہتا ہے۔ تاریخ کے مطابق ان کے دورِ حکومت میں بھی صحابۂ کرامؓ بلوچستان آتے رہے۔ 632ء سے لے کر 661ء تک خلفائے راشدین کے دور میں مسلسل صحابۂ کرامؓ تشریف لاتے رہے جو آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مدفون ہیں۔ محمد بن قاسم کی پیدائش 695ء کی ہے جو حضرت محمدﷺ کی وفات کے63 سال، حضرت ابو بکر صدیقؓ کی وفات کے 61 سال، حضرت عمر فاروق ؓ کی وفات کے 51 سال، حضرت عثمان غنی ؓکی وفات کے 39 سال اور حضرت علیؓ کی وفات کے 34 سال بعد پیدا ہوئے تو گویا میری تحقیق کے مطابق ان کی پیدائش سے بھی 80سال پہلے بلوچستان میں اسلام آ چکا تھا۔ اس لئے سندھ باب ِ اسلام نہیں بلکہ تاریخ اور تحقیق کے مکمل ثبوتوں کے مطابق بابِ اسلام بلوچستان ہے اور اسی کو درست تصور کیا جائے۔ اپنے بلوچستان کے دورے کے دوران کئی صحابۂ کرامؓ کی قبروں پر میں بذاتِ خود گیا۔ جن کے سرہانے پرانے پتھروں پر ان صحابہؓ کے نام کنندہ ہیں۔ وہاں فاتحہ شریف پڑھ کر آیا۔ بلوچستان میں ساڑھے 1400 سال بعد بھی ذرائع ابلاغ کا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے۔ اس لئے اسلام کے متعلق اس وقت بھی صحابۂ کرامؓ کے زبانی پیغام کی بروقت اطلاعات نہ پہنچ سکیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ صحابۂ کرامؓ محمد بن قاسم کی پیدائش سے بھی ستر سال پہلے بلوچستان آئے اور یہاں آ کر انہوں نے باقاعد ہ اسلام کی تبلیغ کی تھی۔ حضور ؐ کی وفات کے 87 سال بعد محمد بن قاسم 17سال کی عمر میں تلواروں اور منجنیق کے ساتھ سندھ میں داخل ہوئے۔ ان کی تلواروں اور کامیاب لڑائی کی وجہ سے ان کو شہرت زیادہ مل گئی۔ لہٰذا میری خواہش 


ای پیپر