تیرے جانے کے بعد!
26 نومبر 2020 2020-11-26

مولانا خادم حسین رضوی کی اچانک وفات پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے اپنی اِس محرومی کا اظہار کیا تھا اُن کی شدید خواہش کے باوجود میری اُن سے ملاقات نہ ہوسکی، مجھے اُن کی کچھ باتوں سے اختلاف تھا، مگر میں اُن کی شخصیت کے اِس پہلو کا ہمیشہ بڑا معترف رہا، بلکہ اُن کے اِس وصف کو زندگی میں زیادہ شدت سے اپنانے کی کوشش بھی کی کہ وہ ایک دلیر آدمی تھے، اپنی بات یا اپنا مو¿قف بغیر لگی لپٹی کے اِس انداز میں فرمادیتے تھے جو اِس منافقانہ دور میں ناممکن ہے، کچھ لوگوں کا خیال تھا کوئی قوت اُنہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، حقائق اللہ ہی جانتا ہے، پر عمومی طورپر یہ محسوس کیا جاتا ہے کچھ قوتوں یا خفیہ قوتوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اُن کے آلہ کار بننے والے زیادہ تر مولویوں کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے والے ہوتے ہیں، وہ کسی نہ کسی عہدے پر بھی فائز ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ اِس ملک کا کرتا دھرتا اُن کے تمام کرتوتوں سے واقف ہونے کے باوجود اُنہیں اپنا مشیر برائے مذہبی امور مقرر کرنے پر بھی مجبور ہوجاتا ہے، .... مولانا خادم حسین رضوی نے اپنی پوری توجہ اور جدوجہد جیسا کہ وہ خود بھی فرماتے تھے آپ کی عزت پر پہرہ دینے کے لیے کی۔بعض اطلاعات کے مطابق وہ کرایے کے مکان میں رہتے تھے، اُن کے ساتھ ہٹو بچو کا ماحول پیدا کرنے والے بیسیوں گارڈز بھی نہیں ہوتے تھے، سرکاری وخاکی سرپرستی کے حامل اکثر مولویوں کی حفاظت کے لیے ایلیٹ فورس اور رینجرز کے دستے دستیاب ہوتے ہیں، مولانا خادم حسین رضوی نے اپنی حفاظت کے تمام تر معاملات اللہ کے سپرد کررکھے تھے، مجھے یاد ہے ایک بار ایک ”عالم دین“ میرے گھر میری والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے تشریف لائے اُن کے ساتھ اتنے ”اسلحہ بردار“ تھے پورے علاقے میں دہشت کا ماحول پیداہوگیا، اردگرد رہنے والے کچھ لوگ تو یہ سمجھے میرے گھر ڈاکہ پڑ گیا ہے، اِس دوران وہ فون پر میری خیریت معلوم کرتے رہے، مولانا خادم حسین رضوی کا ایمان اِس بات پر بڑا مضبوط تھا جب موت آئی سارے اسلحہ بردار ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے، .... مجھے اِس موقع پر کینیڈین شہریت کے حامل ایک مولانا کا واقعہ بھی یاد آرہا ہے، شاید بیس برس پہلے کی بات ہے لاہور کے شیزان ہوٹل میں بیسیوں سرکاری وغیرسرکاری محافظوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں وہ تشریف لائے، میں اُس وقت سابق نگران وزیراعظم ملک معراج خالد (مرحوم) کے ہمراہ شیزان ہوٹل کے گراﺅنڈ فلور پر بیٹھا تھا، یوں محسوس ہورہا تھا مولانا پریس کانفرنس کرنے نہیں شیزان ہوٹل کا قبضہ لینے آئے ہیں، کچھ دیربعد میں نے ملک معراج خالد کو سی آف کیا اور اُوپر جاکر موصوف کی پریس کانفرنس میں بیٹھ گیا، دوران پریس کانفرنس ایک سوال کے جواب میں یہ بات اُنہوں نے بہت زوردے کر کہی ”نبی پاک نے خواب میں مجھے بشارت دی ہے تمہاری عمر تریسٹھ برس ہوگی“ مولانا اُس وقت بڑے جوان تھے، جب تیسری بار اُنہوں نے یہ کہا مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے اُن سے پوچھا ”مولانا جب نبی پاک نے خواب میں آپ کو یہ بشارت دے دی ہے آپ کی عمر تریسٹھ برس ہوگی تو آپ اِس بشارت پر یقین کیوں نہیں کرلیتے، آپ اتنے سکیورٹی گارڈز کیوں ساتھ لیے پھررہے ہیں ؟.... مولانا خادم حسین رضوی کے حوالے سے کم ازکم ایک بات پر شک وشبے کی ہلکی سی گنجائش بھی نہیں رہی وہ بڑے عاشق رسول تھے، کاش یہ جذبہ اللہ ہرمسلمان کے دل میں پیدا کردے، ساتھ ہی ساتھ یہ توفیق بھی بخش دے عملی طورپر بھی آپ کی ہرسنت پر دل سے عمل ہم کرسکیں، ہرانسان میں خوبیاں خامیاں ہوتی ہیں، مولانا میں اگر کوئی خامی تھی اُن کے عاشق رسول ہونے کی خوبی اور خصوصیت نے اُن کی ساری خامیوں پر پردہ ڈال دیا، اُن کے جنازے میں جتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے وہ اُن کی اِسی خوبی اور خصوصیت کی وجہ سے ہوئے، بہت سال پہلے ”فیملی میگزین“ میں میراانٹرویو شائع ہوا، مجھ سے پوچھا گیا ”کوئی تمنا دل میں پل رہی ہو؟“۔ عرض کیا ”تمنا یہ ہے میرا جنازہ بہت بڑا ہو“،....یہ جدوجہد جاری ہے، کوشش کرتاہوں کسی کا دل نہ دکھاﺅں، غیر شعوری طورپر ایسا ہوجائے معذرت کرلُوں، جھوٹا وعدہ نہ کروں، خلق خدا کے لیے آسانیاں پیدا کروں، والدین کی خدمت کا حق اداکرنے کی چھوٹی موٹی کوشش بھی کرتا رہا ہوں، رشتہ داروں، محلے داروں اور دوستوں کے حقوق کا حسب توفیق خیال رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں، کچھ اور خوبیاں بھی شاید ہوں پر خامیاں ان گنت ہیں، یہ سب اپنی جگہ پر مولانا خادم حسین رضوی کے جنازے کے بعد احساس ہوا اتنا بڑا جنازہ صرف اور صرف آپ کے ساتھ سچی محبت کی صورت میں ہی مقدر بن سکتا ہے، لاکھوں لوگ ہرقسم کے خوف خصوصاً کورونا کے خوف سے بالاتر ہوکر شریک ہوئے، شرکاءجس منظم اور روایتی انداز میں ”لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ“ کے فلک شگاف ورد کررہے تھے یہ منظر بیان سے باہر ہے، جولوگ گھروں میں بیٹھ کر مختلف ٹی وی چینلز پر جنازے کی کوریج دیکھ رہے تھے وہ اِس محرومی کا شکارتھے وہ کیوں جنازے میں شریک نہیں ہیں؟، مولانا خادم حسین رضوی کے جنازے کو یہ عزت اللہ نے اِس لیے بخشی وہ آخری دم تک شدید بیماری کی حالت میں بھی نبی پاک کی عزت پر پہرہ دینے کی بات بلاخوف وخطر کرتے رہے، بیماری کی حالت میں تو نماز اور روزے کی رعایت بھی حاصل ہوتی ہے، پر آپ کی عزت پر پہرہ دینے کے حوالے سے کوئی رعایت مولانا نے نہیں لی، پاکستان میں بے شمار مذہبی رہنما ہیں، اصل میں وہ اتنے مذہبی رہنما نہیں ہیں جتنے سیاسی رہنما ہیں، سیاست کے لیے مذہب کا اُنہوں نے سہارا لیا ہوا ہے، اپنی اپنی سیاست کی دکانوں پر سوائے ”مذہب“ کے وہ کچھ نہیں بیچتے، اُن کا یہ ”کاروبار“ پاکستان بننے سے لے کر اب تک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے ،تمام کاروباروں میں مندا ہوسکتا ہے اِن کے کاروبارمیں نہیں ہوسکتا، ....مولانا خادم حسین رضوی کی شہرت ایسے تمام ”کاروباری مولویوں“ سے بالکل مختلف تھی، بعض اطلاعات کے مطابق وہ کرایے کے گھر میں رہتے تھے، بہت برس قبل اپنی والدہ محترمہ کے چہلم میں شرکت کے بعد اٹک سے لاہور واپسی پر ایک ٹریفک حادثے میں اُن کے جسم کا نچلا حصہ مفلوج ہوگیا تھا، اپنی معذوری کو اپنے مشن اور اپنے جذبوں میں اُنہوں نے کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا، بلکہ وہ احساس تک نہیں ہونے دیتے تھے وہ معذور ہیں، ....مجھے دُکھ اس بات کا ہے ایک سچے اور بڑے عاشق رسول کی خوبیاں مجھے اُن کی وفات اور اُن کے بڑے جنازے کے بعد یاد آئیں، اپنی شخصیت کے اعتبار سے وہ اتنا بڑا خلا چھوڑ گئے ہیں جو شاید ہی پُر ہوسکے گا، قبر میں اُن کا استقبال شاید اُن ہی نے کیا ہو جن کا نام لے لے کر وہ جیتے رہے، روز حشر ہمارے کام بھی شاید یہی حوالہ آجائے ”ہم ایک بڑے عاشق رسول کے زمانے میں زندہ تھے“ !! 


ای پیپر