رفیع بٹ کی تلاش....(پہلی قسط)
26 نومبر 2020 2020-11-26

کامیابی کی مسند پر بیٹھا شخص دوسروں کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے لیکن کامیابی کے آسمان پر جگمگانے تک اسے کن کن مراحل اور دشواریوں سے گزرنا پڑتاہے اس بارے میں ہر کوئی جانکاری رکھتاہے نہ رکھ سکتا ہے۔معروف سماجی اورکاروباری شخصیت امتیاز رفیع بٹ کی کہانی بھی ایسی ہی ہے نومبر 1948 میں جب یہ صرف دو ماہ کے تھے تو ان کے والدصرف 39سال کی عمر میں ایک فضائی حادثہ میں جامِ شہادت نوش فرما گئے ،اُس وقت جب مسلمان برصغیر میں انتہائی معمولی حیثیت کے حامل تھے ان کے والد قابلِ رشک ترقی یافتہ اور وژنری صنعتکار اور بینکارکے طور پر مشہور تھے جن کا احترام نا صرف مسلمان کرتے تھے بلکہ انگریز اور ہندو بھی ان سے متاثر تھے انتہائی قلیل عرصہ میں انہوں نے حیران کن کامیابیاں سمیٹ لیں تھیں لیکن ان کی اچانک ایک فضائی حادثہ میں شہادت نے سارا منظر نامہ بدل دیا ۔ ان کے انتہائی وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے مختلف نوعیت کے کاروبار ان کی وفات کے بعد ان جیسی کاروباری بصیرت اور ذہانت نہ رکھنے کے باعث ان کے بھائیوں سے سنبھل نہ پائے اور آپس کے قانونی جھگڑوں کی نذر ہو کر بند ہو گئے۔ کروڑ پتی باپ کے بیٹے نے فنانشل مڈل کلاس فیملی میں پرورش پائی اوپر سے والد کی کمی کا احساس ان کے ذہن پر عجیب اثرات مرتب کرتا رہا جس نے اس بچے کو خود اعتمادی کی کمی کا شکارکر دیا اور اس کی طبیعت میں شائے نیس بھر دی۔ انہوں نے سینٹ انتھونی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کی والدہ اپنے شوہر کی اچانک ناگہانی شہادت سے عجیب عدم تحفظ کا شکار رہتیں اور خدشات کے پیشِ نظر سایے کی طرح ان کے ساتھ ساتھ رہیں اس عمل نے بھی ان کی خود اعتماد ی کو متاثر کیاوالدہ جو اپنے لختِ جگر کو ایک پل اپنی آنکھوں سے اوجھل کرنا گوارا نہ کرتی تھیں ان کی اس حالت کو بھانپ گئیں تو ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے انہیں لارنس کالج گھوڑا گلی کے بورڈنگ سکول میں داخل کروا نے پر آمادہ ہو گئیں ۔ان کی والدہ نے انہیں ابھی تک ان کے والد کی وفات سے لا علم رکھا ہوا تھا تا کہ انہیں یتیمی کے احساسِ محرومی سے محفوظ رکھا جا سکے ان کے متعلق یہی بتایا جاتاکہ وہ کاروبار کے سلسلے میں امریکہ میں مقیم ہیں۔لارنس کالج میں جب انہوں نے دوسرے بچوں کو چھوڑنے کے لیے آنے والے پیرنٹس کو دیکھا تو اس احساسِ محرومی نے انہیں والدہ سے والد کے متعلق دریافت کرنے پر مجبور کیایہ وہ موقع تھا جب انہیںبارہ سال کی عمر میں اپنے والد کی شہادت کا پتہ چلا یہ انکشاف ان کے لیے انتہائی شاکنگ تھا اس انکشاف سے ان دیکھے والد سے ملنے کی موہوم امید بھی دم توڑ گئی۔ انہی منتشر خیالات نے ان کا تعلیمی سرگرمیوں میںجی نہ لگنے دیا پھربھی یہ ایف سی کالج لاہور تک پہنچ گئے۔ اس سے آگے ان کے سامنے زندگی کی کوئی واضح شکل نہ تھی کیوں کہ ان کی والدہ نے ان کے ذہن میں ان کے والد کے متعلق بڑائی اور عظمت کاایسا بلند قامت نقشہ کھینچ دیا تھا جس نے ان کے ٹارگٹس کو بہت ہائی کر دیا تھا اور یہ اپنے ذہن سے غیر ارادی طور پرمعمولی حیثیت میں جینے کا خیال تک نکال چکے تھے ۔کوئی راہ نہ پا کر انہوںنے 1974میںسیلف ایکسپویر اور ایکسپلوریشن کے لیے امریکہ جانے کا ارادہ کیا جس کے لیے انہوں نے اپنی گاڑی فروخت کی ریٹرن ٹکٹس اور ویزہ کے بعد بچنے والے ایک ہزار ڈالرز لے کر یہ امریکہ پہنچ گئے جہاں ان کا کوئی جاننے والا تھا نہ کوئی واضح ایجنڈا ،ایک ہزار ڈالر ختم ہورہے تھے تو یہ گزر اوقات کے لیے نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے دو تین ہوٹلز میں ویٹر کی جاب ملی لیکن وہاں سے بھی نکال دیے جاتے رہے کہ ان کا طرزِ عمل ویٹر انہ جاب سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔اس دوران انہوں نے امریکہ کے سسٹم اور یہاں کے طور طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کی انہی دنوں انہوں نے ایک پاکستانی قالین فروش سے ملاقات کی جس سے انہوں نے کچھ قالین مستعار لیے اور انہیں بیچ کر خوب منافع کمایا یہیں سے ان کی زندگی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔1978میںوالدہ کے اصرار اور محبت نے انہیں وطن واپسی پر مجبور کیا یہاں آ کر انہوں نے ہال روڈ پر واقع اپنے پلاٹ کو قابضین سے واگزار کروا یا اور یہاں پہلا پلازہ تعمیر کروا کر لاہور میں پلازے بنانے کی روایت کا آغاز کیا ۔ پھر یہ بھی اپنے والد کی طرح تیز رفتار ترقی کرتے چلے گئے ۔حیران کن حالات و واقعات کا سامنا کرکے اپنی شناخت بنانے والے یہ تھے امتیاز رفیع بٹ۔ (جاری ہے)

والدہ ہمیشہ سے امتیاز رفیع بٹ کو رفیع بٹ کی عظمت کی داستانیں سنایا کرتی تھیںکبھی انہوں نے رفیع بٹ کو بہت پیسے والا بنا کر پیش نہیں کیابلکہ ان کی شخصی عظمت، انسان دوستی ، وژن اور شخصیت کو نمایاں کرتیںرہیں، انہوں نے ہمیشہ رفیع بٹ کو ایک آئیڈیل کے طور پر امتیاز رفیع بٹ کے سامنے پیش کیا ان کے سماجی مقام اور قائدِ اعظم کے ساتھ تعلقات سے روشناس کروایا اور یہ باور کرایا کہ کس طرح رفیع بٹ نے تحریکِ پاکستان کو کامیاب کرانے اور مسلمانوں کو حقوق دلوانے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا غرض ماں نے بیٹے کے ذہن میں رفیع بٹ کے حوالے سے اتنا کچھ ڈال دیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی انہیں فراموش نہ کر سکتے تھے شاید یہی وہ انسپائریشن تھی جس نے امتیاز رفیع بٹ کو امتیاز رفیع بٹ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیااور انہوں نے سخت محنت لگن اور کامیابی کی تگ و دو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔چالیس سال کی عمر میں جب امتیاز رفیع بٹ نے حیرت انگیز کاروباری کامیابیاں،بہت سا پیسہ اور شہرت کما لی تو انہیں اپنی زندگی میں ایک عجیب سی کمی محسوس ہوئی جو انہیں بے چین رکھنے لگی۔ ایک روز جب انہوں نے اپنے دفتر میں دوستوں کو کھانے پر مدعو کر رکھا تھا تو ان کے دوست معروف صحافی عارف نظامی نے ان کے دفتر میں لگی ان کے والد کی قائد کے ساتھ تصویر کے حوالے سے توجہ دلا کراس بے چینی کو مزید بڑھا دیا یہاں سے امتیاز رفیع بٹ نے اپنے روٹس کے متعلق کھوج کی صبر آزما اور مشکل ترین مہم کا آغاز کیا ۔یہ اس کھوج میں لگے تو والد کے متعلق ملنے والی ابتدائی معلومات نے ان کی دلچسپی اس کام میں اس حد تک بڑھا دی کہ ریسرچ کے علاوہ ان کی تمام مصروفیات اور دلچسپیاں ختم ہو کر رہ گئیں اُس وقت جب رفیع گروپ کا طوطی بول رہا تھا یہ کاروبار سے بے نیاز ہو کر صرف رفیع بٹ کے متعلق ریسرچ میں کھوئے رہتے اس دُھن میں مگن رہنے نے انہیں کاروباری طور پر بہت نقصان پہنچایا لیکن انہوں نے اس بات سے بے پرواہ ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔چالیس سال پیشتر وفات پانے والے شہرت سے بے نیاز شخص کے بارے میں کھوج کرنا اور اس کے متعلق ناقابلِ تردید شواہد کو اکٹھا کرنا آسان کام نہیں تھا جس کے لیے انہیں بہت زیادہ محنت ریسرچ اور تگ و دو کرنا پڑی لیکن جب حقائق سامنے آئے تو سولہ سال کی عمر میں ایک چھوٹی سی دکان سے کاروبار کا آغاز کرنے والے وہ رفیع بٹ دریافت ہوئے جنہوں نے انتالیس سال کی عمر میں شہادت پانے تک نا صرف برصغیر کی سب سے بڑی سرجیکل انسٹرومنٹس کی فیکٹری بنائی بلکہ1936میں مسلمانوں کا پہلا بینک بھی بنا ڈالا۔ جنہوںنے تحریکِ پاکستان کے لیے نا صرف اپنے مالی وسائل وقف کر دیے بلکہ اپنے حلقہئِ احباب میں شامل کاروباری شخصیات کو بھی تحریکِ پاکستان کی مالی معاونت کے لیے راضی کیا۔خود قائدِ اعظم اس نوجوان کی برق رفتار ترقی اور ترقی پسند سوچ سے خاصے متاثر تھے یہی وجہ تھی کہ عمروں کے واضح فرق کے باوجود ان کے درمیان بے تکلفانہ تعلق قائم تھا۔ رفیع بٹ کے اس دور کے تمام اہم اور نمایاں لوگوں کے ساتھ ذاتی مراسم تھے قائد ان کی آراءکو اہمیت دیتے تھے یہاں تک کہ کسی سے کوئی تحفہ قبول نہ کرنے والے قائدِ اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح رفیع بٹ کے دیے ہوئے تحائف خوش دلی سے قبول کر لیتے تھے ایک بار تو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ایک خط لکھ کر رفیع بٹ کا انہیں اور محترمہ جناح کو تحائف بھیجنے پر شکریہ ادا کیا ۔قائدِ اعظم محمد علی جناح ان کی فیکٹری غلام نبی اینڈ سنز میں تشریف لاتے اور ان کے گھر ضیافتوں میں بھی شریک ہوتے۔انہی رفیع بٹ نے امریکہ میں قائم اپنے دفتر کو مسلم لیگ کے پراپیگنڈہ آفس میں بدل دیا اور قائد کی خواہش پر مسلمانوں کا انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز بھی شروع کیا۔ رفیع بٹ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اجلاسوں سان فرانسسکو میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے رہے ۔یہاں تک کہ رفیع بٹ فرٹیلائزر اور دیگر صنعتوں میں بھی سرمایہ کاری کی پلاننگ کر چکے تھے ۔ رفیع بٹ کے دوستوں میں بیرون ملک مقیم کئی نامور شخصیات بھی شامل رہیں ۔یہ حقیقتیں جاننے کے لیے امتیاز رفیع بٹ کو ریسرچ کے جن مشکل اور محنت طلب مراحل سے گزرنا پڑا انہوں نے انہیں رفیع بٹ کی دریافت سے قائدِ اعظم شناسی اور قائد شناسی سے پاکستان کی محبت تک پہنچا دیا اسی نے امتیاز رفیع بٹ میں ایک محبِ وطن پاکستانی کو جنم دیاجس نے ان کی زندگی سوچ دلچسپیوں ڈائریکشنز اور خواہشات کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔امتیاز رفیع بٹ نے والد کی تلاش کرتے ہوئے تحریکِ پاکستان کے ایک ایسے ہیرو کوتاریخ کی گرد سے نکالا ہے جو اگر قائد کی زندگی میں وفات پاتا تو قائد اس کی خدمات اور جذبے کو سراہ کر اسے مستند بناتے لیکن افسوس کہ رفیع بٹ قائدِ اعظم کی وفات کے محض دو ماہ بعد ہی فضائی حادثہ میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔


ای پیپر