طلبہ یونینزکی بحالی۔۔جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے ناگزیر!
26 نومبر 2019 (21:48) 2019-11-26

مقبول خان

طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں میں یونین سازی کا حق دلانے کے لئے گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی، اس قراداد کی حمایت صرف صرف پیپلز پارٹی کے ارکان نے ہی نہیں بلکہ اس میں تحریک انصاف سمیت حکومت مخالف تمام ہی جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔ حکومت سندھ نے صوبہ میں طلباءیونینوں کی بحالی کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے ایک قانونی مسودہ تیار کرنے کے بعد سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اگر سندھ حکومت صوبہ میں طلباءیونینز بحال کرنے میں سنجیدہ ہے، تو تین دہائیوں سے زائد پابندی کا شکار طلبا ءیونینز کی بحالی کی امید کی جا سکتی ہے۔ طلباءیونینز کی بحالی بلاشبہ بیشتر طلباءو طالبات کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ اور یونین سازی طلباءکا قانونی، آئینی اور جمہوری حق بھی ہے، اگر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اپنے صوبہ میں طلباءیونینز کو بحال کر دیا تو اس کی سیاسی ساکھ مستحکم ہو گی، اور اس کا ترقی پسند رخ مزید واضح ہو گا۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں سے ہی جمہوریت اور جمہوری اقدار اور روایات کی جڑیں پھوٹتی اور پروان چڑھتی ہیں، یہیں سے مستقبل کے رہنما، ڈاکٹر، انجینئر اور مختلف شعبوں کے ماہرین اوپر آتے ہیں۔ پاکستان میں موروثی قیادت سے نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ طلباءیونینز کو بحال کیا جائے تاکہ متوسط اور نچلے طبقے سے قیادت اوپر آسکے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ طلباءیونینز ہی کی بدولت ماضی میں شیخ رشید، جاوید ہاشمی، معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، جہانگیر بدر، ایم کیو ایم کے بانی قائداور کئی دیگر سیاسی رہنما مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے، اور یہ طلباءیونیز ہی کی بدولت قومی سیاست کے افق پر جوہ گر ہوئے تھے۔ لیکن اب جو نئے لوگ بالخصوص پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کراچی سے ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، وہ منتشر ذہن کے حامل ہیں، جمہوری روایات، اقدار سے کما حقہ واقفیت نہیں رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں، اور نچلی سطح پر بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ جبکہ ماضی میں طلباءیونینز سے وابستہ تعلیم یافتہ نئے لوگ ارکان اسمبلی منتخب ہوا کرتے تھے۔ وہ جمہوری روایات سے آشنا ہوتے تھے، وہ اپنے انتخابی حلقے کے عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ برسوں گزر جانے کے باوجود سیا سی میدان میں موجود ہیں۔

طلباءیونینز پر پابندی اگرچہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں عائد کی گئی تھی، جنرل ضیاءکی فوجی حکومت کو ختم ہوئے تین عشروں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اس کے بعد جمہوریت کے علمبردار میاں نواز شریف تین مرتبہ اور شہید بے نظیربھٹو دو مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں،آصف علی زرداری پانچ سال صدر مملکت کے منصب پر فائز رہے، لیکن جمہوریت کے ان چیمپیئنز کے دور میں بھی طلباءیونینوں پر بدستور پابندی عائد رہی، اور جو آج بھی ہے، اس دوران پیپلز پارٹی 2008ءمیں تیسری مرتبہ برسر اقتدار آئی تو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے طلباءیونینوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے ہی اعلان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد سینیٹ کے اس وقت کے چیئرمیں میاں رضا ربانی نے ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے طلباءیونینوں پر پابندی کو غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا، اور اس معاملے کا جائزہ لینے لئے اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا تھا۔ رضا ربانی کے بیان کو بیشتر قانون سازوں نے نہ صرف سراہا بلکہ اس کی تائید بھی کی تھی اور کہا تھا کہ طلباءیونینوں کی بحالی سے ملک میں جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا، اور یہ بھی کہا تھاکہ طلباءیونینوں پر عائد پابندی کے سیاسی حوالے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس سے جمہوری روایات اور جمہوری کلچر متاثر ہوتا رہا ہے، دوسری طرف بعض حلقوں میں تعلیمی اداروں میں طلباءیونین کی بحالی کی کوششوں کی مخالفت بھی کی گئی، طلباءیونینز کی بحالی کی مخالفت کرنے والوں کا مو¿قف ہے کہ طالباءیونینوںکی بحالی سے تعلیمی اداروں میں تصادم، محاذآرائی اور تشدد کا کلچر پروان چڑھے گا۔ تاہم جن لوگوں کے سامنے ماضی کی طلبا یونینز کا کلچر ہے، وہ اس مو¿قف کو غلط قرار دیتے ہیں۔ ان کا مو¿قف ہے کہ طلباءیونینز مستقبل کے سیاسی رہنماو¿ں کی نرسری ہوتی ہے۔ اس زمانے میں تعلیمی اداروں میں اتنا تشدد نہیں تھا، جتنا پر تشدد ماحول اس وقت تعلیمی اداروں میں ہے، اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ماضی میں طلباءیونینز نظریاتی بنیادوں پر قائم تھیں، اب سیاسی جماعتوں کی زیلی تنظیموں، مذہبی فرقہ واریت اور لسانی اور نسلی بنیادوں پر قائم کی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے گزشتہ دو عشروں کے دوران ملکی سیاست میں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی قابل ذکر سیاسی رہنما سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے طلباءیونین کی بحالی کے لئے صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرائی ہے۔ اگر سندھ حکومت اس میں سنجیدہ ہے اور وہ دل سے طلباءیونین کی بحالی چاہتی ہے تو اس سے پیپلز پارٹی کو بے حد سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے، سیا سی طور پر اس کا جمہوری چہرہ مزید روشن ہو سکتا ہے، پیپلز پارٹی طلباءیونینوں کی بحالی اور ان کے انتخابات کرانے کی نوید دے کر بلاول بھٹو زرداری کو ملک بھر میںنوجوانوں کے واحد قائد کے طور پر پیش کر سکتی ہے، طلباءیونینز کی بحالی سے پیپلز پارٹی کو ملک کے بیشتر نوجوانوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ طلباءیونینز کی بحالی طلباءکا ایک دیرینہ مطالبہ ہے۔ یہاں ماضی میں سرگرم طلباءتنظیموں اور ان پر پابندی عائد کئے جانے والے عوامل کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں۔

70 کی ہائی کے اواخر تک تعلیمی اداروں کے طلباءو طالبات قوم پرستانہ نعروں اور قومیت اور فرقوں کی بنیاد پر طلباءکی تنظیموں سے نا آشنا تھے۔ اس وقت طلباءتنظیمیں صحت مند غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ملکی سیاسی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتی تھیں، اس وقت طلباءتنظیمیں نظریاتی بنیادوں پر استوار تھیں، ترقی پسند، لبرل، ڈیموکریٹس اور اسلام کے حوالے سے طلباءتنظیمیں سرگرم تھیں، یہ طلباءیونینز جمہوریت کی نرسریاں کہلاتی تھیں، ان کے توسط سے دیانتدار ، محب وطن اور سیاسی شعور والے نوجوان سیاست دانوں کی صف میں شامل ہو رہے تھے، جو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لئے کام کر رہے تھے۔ یہ سلسلہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور تک جاری رہا۔4 جولائی1977ءکو جب اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل محمد ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کی اور وہ خود اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے تو جمہوریت اور جمہوری اقدار کا یکے بعد دیگرے جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکالا جاتا رہا۔ اقتدار کو طول دینے کےلئے پہلے تو نفاذِ اسلام کا نعرہ لگایا گیا پھر غیر جماعتی جمہوریت متعارف کرائی گئی اور اس کے ساتھ طلباءیونینز پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ وہ وقت تھا طلباءیونینز تعلیمی اداروں میں فعال کردار ادا کر رہی تھیں، طلباءو طالبات یونیورسٹی اور کالجوں میں اپنی 75 فیصد حاضری یقینی بناتے تھے، جس کے بغیر امتحانات میں شرکت کرنا ناممکن تھا، اسی طرح اساتذہ بھی اپنی تدریسی سرگرمیاں دیانتداری کے ساتھ نبھاتے تھے، اور تعلیمی اداروں سے کرپشن، لاقانونیت، غنڈہ گردی اور تشدد کے واقعات بھی نہیں ہوتے تھے۔ سیاست کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ جنرل محمد ضیاءالحق نے طلباءیوینینز پر پابندی کیوں لگائی تھی۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے کہ جنرل ضیاءاور ان کے حواری اس حقیقت سے آشنا تھے، اور خوفزدہ بھی تھے کہ سیاسی جماعتوں سے بڑھ کر طلباءتنظیمیں ان کے اقتدار کو چیلنج کر سکتی ہیں، ان کے سامنے یہ تاریخی حقیقت تھی کہ طلباءہی کی وجہ سے ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑ رہا تھا اور طلباءہی کی جدوجہد نے جنرل ایوب خان کو اقتدار سے محروم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جنرل ضیاءکو خدشہ تھا کہ طلباءکی جانب ان کے خلاف مزاحمت کسی بھی وقت ان کےخلاف ملک گیر جدوجہد میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لہذا 9 فروری1984ءکو صدر جنرل محمد ضیاءالحق کی حکومت نے پاکستان کے تمام تعلیمی ادروں میںطلباءیونینز پر پابندی کا حکنامہ جاری کیا تھا، یہ دن طلباءبرادری طلباءیونینون کے قتل کے دن کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس پابندی کے بعد نسلی و لسانی اور فرقہ واریت کے نام پر مختلف تنظیموں اور جماعتوں کے طلباءونگ قائم ہونا شروع ہو گئے،آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پنجابی اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اثناءعشری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت دیگر لسانی گروپوں اور مذہبی فرقوں کی بنیاد پر طلباءونگز سرگرم ہو گئے، جس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میںکشیدگی بڑھی اور پے درپے پرتشدد واقعات رونما ہونے لگے، اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ محض تماشائی بن کر رہ گئی، طلباءکا رجحان تدریس سے ہٹ کر منفی سرگرمیوں کا محور بن گیا، اور طلباءمیں تیزی سے امتحانات کے دوران نقل کلچر وبائی مرض کی طرح پھیلتا چلا گیا، جس کا منطقی نتیجہ پست تعلیمی معیار کی صورت میں سامنے آیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بیشتر نوجوانوں کے پاس تعلیمی سند تو ہے لیکن وہ مطلوبہ قابلیت اور صلاحیت سے محروم ہیں، ڈگری ہونے کے باوجود انہیں بیروزگاری کا سامنا ہے۔ دوسری طرف طلباءیونینوں کی وجہ سے تعلیمی ادروں میں سکون تھا اور صحتمند مقابلے کی فضا تھی، مختلف یونینز کے درمیان نظریاتی جنگ تھی، اصولوں اور اقدار کی پاسداری کی جاتی تھی، اس وقت کا طالبعلم اپنے مخالفین کے ساتھ گولی کے بجائے دلائل سے گفتگو کرتا تھا۔ آج سیاستدان تعلیمی ادروں میں کرپشن کا رونا رو رہے ہیں، میڈیا میں بھی آئے دن تعلیمی اداروں میں ہونے والی کرپشن کی خبریں آتی رہتی ہیں، لیکن ماضی میں طلباءیونینز کے فعال کردار اور چیک اینڈ بیلنس کی وجہ سے تعلیمی ادروں میں کرپشن کا تصور تک نہیں تھا۔ طلباءیونینز ہی تعلیمی اداروں کا فنڈز طلباءکی فلاح بہبود پر لگانے کےلئے جامعات کی انتظامیہ کو مجبور کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جامعات اور کالجوں میں اس دور میں جو ہاسٹلز بنائے گئے تھے، وہی آج بھی موجود ہیں۔ طلباءکی بڑھتی ہوئی تعداد اور نئے شعبہ جات معرض وجود میں آنے کے باوجود ان کی تعداد میں اضا فہ نہیں کیا گیا ہے، اور ماضی کے طلباءکو جو سہولتیں اور مراعات حاصل تھیں، آج کا طالب علم ان سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ماضی کی طرح اب تعلیمی ادروں سے متوسط اور نچلے متوسط درجے سے نئی لیڈرشپ سامنے نہیں آرہی ہے اور پاکستان میں موروثی سیاست مستحکم ہو رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں چند خاندان اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے، ان سے نجات حاصل کئے بغیر ملک سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ حقیقی جمہوریت وطن عزیز میں اس وقت ہی آئےگی جب ملک میں طلباءیونینز کو بحال کرنے کے ساتھ ٹریڈ یونینز کو بھی فعال کیا جائیگا، اب سندھ حکومت کی جانب سے طلباءیونینز کی بحالی کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جو مستحسن ہیں، اگر سندھ حکومت کی جانب سے طلباءیونینز کو بحال کر دیا گیا تو دوسرے صوبوں میں بھی طلباءیونینز بحال ہو سکتی ہیں، جس سے ملک میں نیا سیاسی کلچر پروان چڑھ سکتا ہے۔ اس لئے سندھ حکومت کے اربا حل و عقد کو چاہئے کہ طلباءیونینز کی بحالی کےلئے تیز تر اقدامات کریں، کیونکہ نہ صرف طلبہ برادری بلکہ جمہوریت پر یقین رکھنے والا ہر شہری طلباءیونینز کی بحالی کی خبر سننے کا متمنی ہے۔


ای پیپر