مودی کو بھلا جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
26 نومبر 2019 2019-11-26

مجھے کبھی فکری مسئلہ درپیش ہو، تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے، کہ اصل حقیقت تک پہنچنے کے لیے کسی صاحب علم وفکر دوست سے مشاورت کرلینی چاہیے، میں خاصے عرصے سے یہ سوچ رہا تھا، کہ 1965ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگ میں کتنے پاکستانی جوان وافسر شہید ہوئے تھے۔ مگر مجھے مطلوبہ اہداف کہیں سے بھی نہیں مل سکے تھے، اچانک مجھے خیال آیا، کہ اپنے دوست فضل حق اعوان صاحب سے پوچھ لوں، میں نے انہیں فون کرکے پوچھا، کہ ملک صاحب بھارت کے ساتھ دوجنگوں میں کتنے سپاہی شہید ہوئے تھے، تو انہوں نے میرے سوال کا جواب بڑے استدلال سے دیا، ایک منٹ کے توقف کے بعد بولے، کہ ایسی انفارمیشن آپ کو کہیں سے نہیں ملے گی، اور واقعی ایسا میرے ساتھ ہوچکا تھا، حالانکہ سچائی کے دعوے داروں کو اس بات کا جواب اور اطلاعات بھی مثبت نتائج کے مدنظر عوام تک پہنچانی چاہیے تھیں، کہ پاکستان کی افواج دفاع وطن میں اتنے سپوت ملک وملت پہ قربان کرچکے ہیں، اس خبر کی پردہ پوشی کی مصلحت اور راز مجھ جیسے حق گو کی سمجھ سے باہر ہیں، اگر ایسی باتوں کو اخفاءنہ کرنے کا اس قدر فائدہ ہے، تو قوم کو یکسو ہوکر برصغیر کی تقسیم، اورپاکستان بنانے پہ لاکھوں ،شہداءاور عفت مآب بیٹیوں کی قربانی عزت کے اعدادوشمار کو بھی مخفی رکھنا چاہیے۔

بہرکیف اعوان صاحب نے بتایا کہ کہا جاتا ہے کہ کارگل کی لڑائی میں جس کا سہرا سید مشرف حسین شاہ کے سر جاتا ہے، پاک بھارت جنگوں میں جو نقصان ہوا تھا کارگل میں پاکستان کا جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ تھا، اور وہ تین ہزار شہداءتھے، اس کا واضح مطلب ہے کہ ہندوستان کے ساتھ جنگوں میں تین ہزار سے کم کا جانی نقصان ہوا تھا۔

قارئین ، آپ سوچ رہے ہوں گے ، کہ میں کس چکر میں پڑ گیا ہوں، دراصل میں مودی کی طویل المدتی سازش کے بارے میں نوحہ کناں ہوں، کہ اس کے ذہن اور خبثباطن میں کتنے فتنے وفساد پنہاں ہیں؟ اور میں اس کے Evil Geniusہونے پہ چونک سا گیا، اور اس نے میری راتوں کی نیند اڑا کر رکھ دی، کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ مسلمان جنگ میں کبھی بھی پہل نہیں کرتے تاریخ اسلامی کا جائزہ اگر غزوات سے شروع کریں، تومعلوم ہوتا ہے کہ وہ ساری کی ساری جنگیں رسول پاک پہ مسلط کی گئی تھیں۔ ان زمینی حقائق اور تاریخی واقعات کو جو دنیا بھر کے مورخین نے مرتب کیے ہیں مودی نے ایک حکمت عملی مرتب کی ہے، بقول شاعر

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر

کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارتریاق

حضرت علیؓ یا حضرت عمرؓ میں سے کسی نے اپنے مقررہ کردہ گورنر یا حکمران کو خط میں یوں لکھا تھا، کہ خبردار، دیکھو جب دشمن ایسی صلح کی طرف بلائے، جس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہو تو انکار نہ کرنا، کیونکہ صلح میں تمہاری فوج کے لیے آرام ہے، اور خود تمہارے لیے بھی فکروں سے چھٹکارا، اور امن کا سامان ہے لیکن صلح کے بعد بھی دشمن سے خوب چوکس اور ہوشیار رہنا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے، اس نے صلح کی راہ سے تقرب اس لیے حاصل کیا ہو کہ وہ بے خبری میں تم پہ ٹوٹ پڑے، لہٰذابڑی ہوشیاری کی ضرورت ہے۔

قارئین حضرت عمرؓ کی بات موجودہ پاک بھارت تعلقات بالخصوص مسئلہ کشمیر پہ کس قدر منبطق ہوتی ہے، فرماتے ہیں کہ دشمن سے محض حسن ظن سے کام نہیں چل سکتا مجھے کل شام سے ہر چینل پہ ستر سال پہلے اقوام متحدہ نے بھی استصواب رائے کے لیے ہم سے معاہدہ کیا تھا آج تک یہ سن کر حیرت ہورہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں ہمارے وزیراعظم نے ان کی اس طرح خوشامد کی ہے، جس طرح پاکستان کی کابینہ کے ارکان وزیراعظم کی کرتے ہیں، پہلی بات تو یہ ہے، کہ کیا ٹرمپ نے عمران خان کو فون کیا تھا، یا عمران خان نے امریکی صدر کو فون کیا ہے؟

بہرحال یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، کہ عمران خان کو ٹرمپ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی، کہ آپ مسئلہ کشمیر میں جس طرح دلچسپی لے رہے ہیں، وہ جاری رکھیں، قارئین اب مجھے تو نہیں معلوم کہ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر میں کیا کارکردگی دکھائی ہے؟ چوتھامہینہ مودی نے 80لاکھ انسانوں کو محصور کررکھا ہے، اور ٹرمپ کو یہ خبر نہیں یہ کیسے ممکن ہے، امریکہ کے صرف دوشہری اگر افغانستان میں محصور کردیئے جائیں، تو اس کی جان پر بن جاتی ہے بلکہ ان کی رہائی کے لیے ہمارے حکمران بھی رات دن ایک کردیتے ہیں مگر ہمارے اسی لاکھ انسانوں کو یرغمال بنانے کی مجرمانہ حرکت کا کیا ٹرمپ کو نہیں پتہ؟ حالانکہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بقول سید مظفر علی شاہ کچھ اس طرح سے ہے کہ کشمیر میں بسنے والے باسی عالمیضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے مسلسل نوحہ کناں ہیں۔

گھپ ہنیرے ،سناٹے وچ روحاں کوکن وین

ہربوٹا عفریں دسدا، ہر جھاڑی اے ڈین!

اگوں موت اوازاں دیوے پچھے نیں رسوائیاں

اوکھی منزل ، اوکھے رستے، دیوے جان دہائیاں

بہرحال کشمیر کے مسئلے پہ جو مستقبل قریب تک جب تک مودی، ٹرمپ اور عمران خان برسراقتدار ہیں، حل ہوتا نظر نہیں آتا، اور مودی نے یہ طے کرلیا ہے، کہ پاکستان کے ساتھ ان حقائق کی موجودگی میں جنگ بالکل نہیں لڑنی، اور جنگ لڑے بغیر اپنے اہداف حاصل کرلینے ہیں۔ کیونکہ دو جنگوں میں، تو پاکستان کے تین ہزار فوجی شہید ہوئے تھے، مگر مودی پاکستانی سرحد، یعنی ایل او سی پر روزانہ کی بنیاد پر دو تین چار بغیر کسی اشتعال کے پاکستانی شہید کردیتا ہے، اور سال کے 365دنوں میں اوسطاً روزانہ تین چار پاکستانیوں کو شہید کردیتا ہے، اور اس طرح وہ 1965،1971ءکی جنگوں سے زیادہ پاکستانی آسانی سے شہید کر لیتا ہے۔

اور پاکستان محض بھارتی ہائی کمشنر کو بلاکر ” پیار بھرا مراسلہ“ پکڑا دیتا ہے، پاکستان اگر دشمن کی چوکیاں تباہ کردیتا ہو، تو بھارت ایسی مذموم حرکت کیوں کرتا ہے، اسی لیے حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں کہ مودی جیسے کہ مشیر ابلیس، شیطان کو کہتے ہیں ۔

تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں

سادہ دل بندوں میں جومشہور ہے، پروردگار !


ای پیپر