کھسیانی بلیاں کھمبے نوچیں!
26 نومبر 2019 2019-11-26

خان صاحب کو وزیراعظم بنادیا گیا، بے شمار معاملات میں وہ بن بھی گئے۔ مثلاً وزیراعظم بننے کے بعد خوشامد پسندی عموماً بڑھ جاتی ہے جوکہ ان میں پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، وزیراعظم بننے کے بعد جھوٹ بولنے اور سننے کی بیماری بھی بڑھ جاتی ہے، جوکہ اُن میں پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے،....وزیراعظم بننے کے بعد اکثرسیاستدانوں کا ظرف سُکڑ جاتا ہے جوکہ اُن کا سابقہ تمام حکمرانوں سے زیادہ سُکڑ گیاہے، جس قسم کی بونگیاں وہ مارتے ہیں وہ اب شاید بونگیاں ہی مارسکتے ہیں، مختلف تقریبات میں جس انداز میں اپنے مخالف سیاستدانوں کی وہ نقلیں اُتارتے ہیں، وزیراعظم کم اسٹیج اداکار امانت چن زیادہ لگتے ہیں، .... کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے اِس ملک کے اصل طاقتوروں نے اُنہیں شاید تا حیات وزیراعظم رہنے کی گارنٹی جاری کردی ہے، بلکہ اُنہیں یہ اختیار دے دیا ہے وہ اگر چاہیں اپنی وزارت عظمیٰ قائم رکھنے کے لیے اپنی عمر بڑھا بھی سکتے ہیں، ان کے تکبر کا جوعالم ہے وہ شاید کسی روز یہ حکم ہی جاری نہ کردیں ” دن میں ایک آدھ سجدہ لوگ اُنہیں بھی کیا کریں۔“ سابق وزیراعظم نوازشریف پر ”رحم“ کھانے کے بعد اُن کی بیماری کا جس اندازمیں وہ تمسخر اُڑارہے ہیں وہ کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے کے مترادف ہے، یہ ” کارنامہ“ اُنہوں نے عدلیہ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے، یہ درست ہے عدلیہ نے سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک بھجوانے کا غیر معمولی ریلیف دیا، اور شاید ویسے ہی دیا جیسے اِس قسم کے لوگوں کو پاکستان میں دیئے جاتے ہیں، اُنہیں ریلیف دینے سے پہلے اُن سینکڑوں بیمار قیدیوں کے بارے میں بھی سوچا جانا چاہیے تھا جو مبینہ ڈیل وغیرہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، ڈیل وغیرہ کرنا تو دور کی بات ہے وہ بے چارے تو وکیل وغیرہ کرنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے، ممکن ہے ان بیمار قیدیوں میں کچھ ایسے بھی ہوں جن کی بیماری کی شدت سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماریوں سے زیادہ ہو، سو سابق وزیراعظم پر ترس کھانے سے پہلے تھوڑا بہت ریلیف اُن شدید بیمار قیدیوں کو بھی دے دیا جاتا اس سے ہماری عدلیہ کی شان بڑھتی، جسے بڑھانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، میں نے کئی بار پہلے بھی عرض کیا اللہ نے اپنا ایک یوم حساب شاید اس لیے مقرر کیا اللہ کو یقین تھا دنیا میں خصوصاً پاکستان میں لوگ ایک دوسرے کو سچ اور صحیح انصاف فراہم نہیں کرسکیں گے، .... یہ جو ہمارے سیاسی واصلی حکمران ہیں، خصوصاً ہماری عدلیہ سے وابستہ جو شخصیات ہیں اُن کا احتساب اور سزائیں زیادہ کڑی ہوں گی، کیونکہ اللہ نے دنیا میں اُنہیں اُس منصب پر فائز کیا جس کے بعدوہ صحیح معنوں میں اللہ کے نائب ہونے کا حق ادا کرسکتے تھے، .... اللہ کے ”یوم حساب“ میں کوئی اپنی خرابیاں دوسروں کے کھاتے میں نہیں ڈال سکے گا، یہ صرف دنیا خصوصاً ہمارا پیارا پاکستان ہی ہے جہاں ہرکوئی اپنی خرابیاں دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر بڑی آسانی سے خود کو بری الذمہ قرار دے لیتا ہے، ....میرے نزدیک وزیراعظم خان صاحب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے بعد اپنی یہ ”خرابی“ عدلیہ کے کھاتے میں ڈالنے کی ناکام کوشش کرکے غلط کیا۔ دوسری جانب محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے وزیراعظم کی ایک غیرضروری غصیلی تقریر کا جواب دے کر عدلیہ کو اِس معاملے سے مکمل طورپر بری الذمہ قرار دینے کی جو کوشش کی وہ بھی مناسب نہیں تھی۔ لوگوں کو بے وقوف بنانا، چاہے وہ کوئی بھی بنائے، اب اتنا آسان نہیں رہا، محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے ”جوابی حملے“ سے اداروں میں ٹکڑاﺅ کا تاثر اُبھرا ، البتہ یہ بات کسی حد تک درست ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی زیادہ ذمہ داری وزیراعظم خان صاحب پر ہی عائد ہوتی ہے، فرض کرلیں یہ ذمہ داری یا اصل ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جو خان صاحب کو اقتدار میں لے کر آئے پھر بھی یہ ”گندگی“ خان صاحب کے کھاتے میں ہی پڑے گی، جو بادل نخواستہ اُنہیں قبول کرنا پڑے گی، جیسے خان صاحب کی بہت سی سیاسی و انتظامی گندگی اُنہیں لانے والوں کے کھاتے میں پڑتی جارہی ہے، اور وہ بھی بادل نخواستہ اُسے قبول کرتے جارہے ہیں، خان صاحب اپنے اصل آقاﺅں پر تو ظاہر ہے غصہ نکال نہیں سکتے لہٰذا وہ عدلیہ کو ذمہ دار ٹھہرانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں، وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کردیتے ممکن اُس اپیل کا فیصلہ حکومت کے حق میں آجاتا ، حکومت کی جانب سے اپیل نہیں کی گئی، لہٰذا خان صاحب کا یہ حق نہیں بنتا وہ اس معاملے میں عدلیہ کو قصور وار ٹھہرائیں، میرے خیال میں محترم چیف جسٹس آف پاکستان کا گلہ اسی حوالے سے تھا، جو کسی حدتک جائز تھا، .... اب جس قسم کی خان صاحب باتیں کررہے ہیں، جس قسم کی تقریریں فرمارہے ہیں، جس قسم کی بونگیاں مار رہے ہیں، میرے خیال میں ایک ”میڈیکل بورڈ“ خود ان کے لیے بھی تشکیل دیا جانا چاہیے جو اُن کی ”ذہنی صحت“ کا جائزہ لے ، کچھ ”نفسیاتی بیماریوں“ کے علاج کے بعد اُن کی حکمرانی میں بہتری آسکتی ہے، .... دلوں کے بھید اللہ ہی جانتا ہے پر یوں محسوس ہوتا ہے جس طرح ہمارے محترم وزیراعظم سابق وزیراعظم کے بیرون ملک علاج کے لیے جانے پر خوش نہیں تھے اب علاج مکمل ہونے کے بعد ان کی واپسی پر شاید خوش نہ ہوں، کیونکہ پی ٹی آئی کے تھوک بلکہ تھُوک کے حساب سے ترجمان اور سارے وزیر شذیر ومشیران مسلسل یہ راگ الاپ رہے ہیں ”وہ بھا گ گیا ہے، وہ فرار ہوگیا ہے، وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا، وغیرہ وغیرہ، میری اطلاع کے مطابق بشرط زندگی وہ ضرور واپس آئے گا، حکومت یا وزیراعظم عمران خان اس کی واپسی کے برے اثرات سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں اس کا صرف ایک ہی حل ہے اب باتیں کرنے کے بجائے بڑھکیں لگانے کے بجائے ملک اور عوام کے لیے عملی طورپر کچھ کرکے دکھائیں۔

یہ حقیقت ہے سابقہ چور ڈاکو حکمرانوں سے اس ملک اور عوام کی جان چھڑوانے کا کریڈٹ کسی حدتک خان صاحب کو جاتا ہے، اگر اسی طرح کی نااہلیوں کے مظاہرے وہ کرتے رہے تو ان چور اور ڈاکو حکمرانوں کو واپس لانے کا کریڈٹ بھی خیر سے خان صاحب کو ہی جائے گا، ....میں نے ان کے وزیراعظم بننے کے بعد انہیں یہ مشورہ دیا تھا، ” آج کے بعد زرداری اور شریف برادران کا آپ نے ذکر تک نہیں کرنا، انہیں اداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر اپنا فوکس صرف تین شعبوں تعلیم، صحت اور لاءاینڈ آرڈر پر رکھیں، یہ شعبے آپ نے درست کرلیے سابقہ سارے چور اور ڈاکو حکمران اپنی موت آپ مرجائیں گے، .... افسوس خان صاحب انہیں دوسری طرح مارنا چاہتے ہیں اور مسلسل ناکام ہورہے ہیں !!


ای پیپر