طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل اور افغانستان کا مستقبل
26 نومبر 2018 (23:48) 2018-11-26

امتیاز کاظم:

ایلس ویلز کے مختصر دورہ پاکستان میں بعض حلقوں نے بڑی دلچسپی لی۔ یہ امریکی سفارت کار رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد کے دورے پر تھے۔ بظاہر مقصد طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کے چند دور تھے۔ وہ مذاکرات جو خفیہ اور اعلانیہ ہیں اور پاکستان کے لئے سٹریٹجک لحاظ سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت اور شکوک وشبہات اور بھی بڑھ گئے کہ یہ دورہ ماسکو میں علاقائی مشاورتی اجلاس سے چند روز قبل کیا گیا۔ ماسکو مذاکراتی اجلاس میں خطے کے ممالک چین، ایران، افغانستان، پاکستان، تاجکستان، اُزبکستان کے علاوہ خصوصی اہمیت کا حامل طالبان وفد شریک ہوا اور میزبانی کے فرائض روس نے ادا کیے۔ موجودہ سائنسی دور میں کوئی بات خفیہ نہیں رہتی۔ دُنیا نے بڑی حیرت سے امریکہ کے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو دوحہ آفس میں دیکھا، وہاں ہونے والے ہوٹل کے کمروں میں مذاکرات تک رسائی بھی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

دوحہ آفس طالبان سے براہ راست مذاکرات کے حوالے سے کافی اہمیت کا حامل قرار پایا کہ کل کے دُشمن آج مذاکرات کی میز سجائے بیٹھے ہیں۔ اگر آج اُسامہ بن لادن زندہ ہوتا تو سوچئے کہ ان مذاکرات کا سناریو کیا ہوتا۔ کوئی امریکی وزیر یا سفیر اُسامہ سے مذاکرات کر رہا ہوتا اور شاید اُسامہ اپنی شرائط پر امریکہ کو سرنڈر کراتا۔ یہ دلچسپ صورت حال ہوتی کیونکہ عسکری فتح حاصل کرنا اب امریکہ کا خواب بن چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں نئے امریکی کمانڈر ”جنرل سکاٹ ملر“ یہ کہتے ہیں کہ ”وقت آ گیا ہے کہ اس خانہ جنگی کو سیاسی ذرائع سے حل کرنے پر کام شروع کیا جائے“۔ سکاٹ ملر نے یہی مشورہ امریکی صدر کو جنگ شروع کرتے وقت کیوں نہ دیا کہ جناب برطانیہ اور روس اس افغانستان میں غرق ہو چکے ہیں، آپ پرہیز کریں اور موجودہ امریکی فوج کے انخلاءکے لیے جو ٹرم استعمال کی جا رہی ہے وہ بڑی عجیب سی لگتی ہے یعنی ”باعزت انخلائ“ قاتلوں، حملہ آوروں اور لٹیروں کے لیے باعزت کا لفظ مجھے تو مناسب نہیں لگتا لیکن یہ ٹرم استعمال کرنے والوں کے لیے بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا“ اور ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“۔ ہم صرف ڈورمور نہ کر کے بدنام اور وہ لاکھوں قتل کر کے بھی باعزت یعنی ”ہم آہ ب بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام .... وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا“۔

امریکہ شاید سرنڈر کی پوزیشن میں تو اب بھی ہے کیونکہ افغان طالبان کے دباﺅ میں آکر اُس نے گوانتاناموبے جیل سے پانچ اہم طالبان رہنما بھی رہا کیے ہیں۔ مذاکرات کے لیے ”منت ترلہ“ بھی ہو رہا ہے۔ عسکری فتح بھی ان کے مقدر میں نہیں۔ فوجی بھی ان کے تھک چکے ہیں بلکہ یہاں آ کر ”بھنگی چرسی“ بھی بن چکے ہیں اور جنگ کے اتحادی فوجی اور فنڈز دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ پاکستان کا ڈومور والا تعاون بھی نہیں رہا۔ ساٹھ سے ستر فیصد تک علاقوں پر طالبان کا کنٹرول بھی مانا جارہا ہے۔ اکیلا اشرف غنی بے چارہ کیا کرسکتا ہے۔ امریکہ کے لیے بس زیادہ سے زیادہ وہ امریکہ کے حق میں بیان جاری کر سکتا ہے، مجبور بے بس بے چارہ۔ امریکہ میں 65 سے 70فیصد امریکی یہ سوال کرتے ہیں کہ طویل ترین افغان جنگ کس لیے لڑی جا رہی ہے؟ اگر القاعدہ کا رہنما مطلوب تھا تو وہ تو امریکہ کے مطابق مارا جا چکا ہے۔ اب جنگ کس لیے لڑی جا رہی ہے۔ ایک امریکی سروے کے مطابق 40 فیصد لوگ فوجی طاقت کے استعمال کو ہی غلط تصور کرتے ہیں۔

”ولسن سنٹر“ میں جنوبی ایشیائی امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ”مائیکل کوگل مین“ کہتے ہیں کہ ”افغان جنگ کو جو بھی معنی دیئے جائیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ افغان جنگ امریکہ کے لیے بد سے بدتر ہو چکی ہے اور امریکہ میں اس کا غیرمقبول ہونا کوئی حیران کُن امر نہیں ہے“۔ اب اگر امریکی 435 کے ایوان نمائندگان میں سے کچھ نے بھی اس جنگ کا جواز مانگ لیا تو جواب دہی مشکل ہو گی جبکہ 50 فیصد سے زائد امریکی افغانستان میں امریکہ کو ناکام تصور کرتے ہیں۔ 17سال قبل بش نے جنگ کیوں شروع کی، اس کے پیچھے چھپے حقائق جاننے کی آج ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ دُنیا کو گمراہ کیوں کیا گیا۔ مغرب کی آنکھوں پر پردہ کیوں اور کیسے ڈالا گیا حالانکہ بش کے پاس بطور سپرپاور بہت سے آپشن موجود تھے اور اگر القاعدہ سربراہ کو ہی مارنا تھا تو دُنیا کے کسی بھی کونے میں اُس کی خفیہ فورس پیچھا کر کے ایسا کر سکتی تھی جیسا کہ بعد میں القاعدہ سربراہ کو بقول امریکہ مار دیا گیا تو پھر ایک چھوٹے سے ملک پر جنگ مسلط کرنے کا پاگل پن کیوں کیا گیا۔

اسی طرح کا کھیل عراق جنگ میں بھی کھیلا گیا۔ امریکہ پر جنگی جنون سوار ہے۔ کل کو اگر خدانخواستہ ایران یا سعودیہ کے ساتھ کوئی ایسا پاگل پن کیا جاتا ہے تو اسلامی دُنیا کہاں کھڑی ہو گی؟ بش نے جنگ کو آخری آپشن کے طور پر نہیں بلکہ پہلے آپشن کے طور پر استعمال کیا، کیوں؟ کیا اُسے ایشیا میں ایک مستقل اڈا درکار تھا تاکہ وہ بطور سپرپاوراپنا دبدبہ قائم رکھ سکتا یا وہ روس اور چین کو اُبھرنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔ آج کی دُنیا میں معاشی حقیقت ایک ٹھوس حقیقت ہے اور چین اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور معاشی میدان میں امریکہ کو بھی للکار رہا ہے۔ امریکہ جنگیں لڑ لڑ کر اپنا شوق پورا کر رہا ہے جب کہ چین اور روس معاشی میدان مار رہے ہیں۔ نائن الیون سے پہلے کا امریکہ اور آج کا چین دونوں کا تقابلی جائزہ لے لیں، حقائق سامنے آجائیں گے۔

آج امریکہ طالبان سے براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہے، دراصل مذاکرات والی کہانی اسی سال فروری سے بھی پہلے کی چل رہی ہے۔ فروری میں صدر اشرف غنی نے طالبان کو پیش کش کی تھی کہ ”اگر طالبان ہندوکش کی اس ریاست کے 2004ءمیں منظور ہونے والے آئین کو تسلیم کرلیں اور فائربندی کر دیں تو ان کے ساتھ نہ صرف بات چیت ہو سکتی ہے بلکہ ایسی مکالمت کی تکمیل پر تحریک طالبان کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بھی تسلیم کرلیا جائے گا“۔ اس دہرے معیار والی پیشکش کا طالبان نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ پاکستان نے امریکہ کو بار بار مشورہ دیا کہ طالبان سے مذاکرات کریں لیکن امریکہ کی طرف سے اسے پشتون پراکسیوں کی طرفداری سمجھ کر اس پر عمل سے گریز کیا۔ 1978ءسے پہلے تقریباً دو صدیوں تک یہاں پشتونوںکے دُرانی قبائل کسی نہ کسی صورت حکومت سے وابستہ رہے۔ اب بھی افغانستان کے 40 فیصد سے زائد پختون، پشتون یہ چاہیں گے کہ سربراہی ان کے پاس ہی رہے۔

اب اگر اس بات کا جائزہ اشرف غنی کی فروری پیش کش سے کیا جائے تو یہ طالبان کے لیے دوطرفہ چال تھی، ایک طرف جنگ بندی تو دوسری طرف طالبان میں سیاسی قیادت کے لیے اندرونی جنگیا خلفشار۔ کیونکہ افغانستان کے 30 فیصد تاجک 15فیصد ہزارہ لوگوں سے مل کر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتے ہیں۔ میرے ذاتی خیال کے مطابق امریکہ 2019ءمیں افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے مذاکرات کی میز سجا کر اپنے مطلب اور مفادات کا تحفظ کرنے والی حکومت لانا چاہتا ہے۔ یہ حکومت خواہ عبداللہ عبداللہ بنائیں، اشرف غنی بنائیں یا طالبان ۔ 2004ئ، پھر 2009ءاور 2014ءمیں ہونے والے انتخابات میں سے 2014ءکے انتخابات میں اشرف غنی 30فیصد تاجکوں کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ تاجک اب عبداللہ عبداللہ دھڑے میں شامل ہیں۔ عبداللہ عبداللہ 15فیصد ہزارہ کو بھی اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں۔ دوسری طرف طالبان کا کنٹرول بھی افغانستان میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

اسی سال 13جون کو جب افغانستان کے صوبہ کُنہڑ میں نیٹو فورسز کے ڈرون حملہ میں ٹی ٹی پی کا سربراہ ملافضل اللہ مارا گیا تو طالبان میں بے چینی کے ساتھ ساتھ یہ احساس اور بھی مضبوط ہو گیا کہ امریکہ کو افغانستان سے بے دخل کیا جائے اور مذاکرات میں یہی اُن کا پہلا مطالبہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ اس کوشش میں ہے کہ طالبان میں قیادت کا فقدان پیدا کیا جائے۔ امسال مئی میں بلکہ 17مئی سے 26 مئی صرف 10 دنوں میں امریکی فورسز کے حملوں میں 70 سے زائد سینئر طالبان کمانڈر مارے گئے۔ اس میں 24 مئی کا موسیٰ قلعہ کا بڑا حملہ بھی شامل ہے جس میں 50 طالبان کمانڈر مارے گئے۔ مارچ 2008ءسے افغانستان میں امریکی فوجی دستوں کے اعلیٰ ترین کمانڈر اور امریکی ”زیزولیوٹ سپورٹ“ کی قیادت کرنے والے ”جنرل جان نکلسن“ اپنی فوجی حکمت عملی آزما رہے تھے کہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر طالبان کو عسکری دباﺅ میں لاکر مذاکرات کے لیے مجبور کیا جائے اور یہ تماشا طالبان نائن الون کے بعد سے کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں لہٰذا نکلسن کی حکمت عملی ناکام رہی۔

امریکہ ماضی میں بھی بہت سی ناکام حکمت عملیاں اپنا چکا ہے جس میں افغان وار لارڈز کی ڈالروں کی صورت میں نقد ادائیگی، امریکی خفیہ اداروں کی زیرنگرانی افیون کی تجارت وغیرہ سب شامل ہے اور بلیک واٹر کو افغان جنگ ٹھیکے پر دینے کی باتیں تو امریکی فوج کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ موجودہ دور میں 5 ستمبر کو امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کا دورہ اسلام آباد بھی مذاکراتی عمل پر غور کے لیے ہی تھا کیونکہ ٹرمپ حکومت کے آتے ہی امریکہ کا پاکستان کے ساتھ مزاج بدل گیا تھا اور 6 نومبر کے مڈٹرم انتخابات تک ٹرمپ انتظامیہ داخلی سطح پر بھی سخت دباﺅ کا شکار رہی ہے اور اب جبکہ ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں میں سے 222 نشستیں ڈیموکریٹس جیت چکے ہیں اور 199 ٹرمپ (ری پبلکن) کے پاس ہیں تو ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ پر داخلی دباﺅ اور بھی بڑھ جائے گا جب کہ افغانستان میں 2019ءکے انتخابات بھی آرہے ہیں جس میں پشتون دھڑا اشرف غنی کا حامی جبکہ تاجک دھڑا عبداللہ عبداللہ کا حامی ہے اور اب تیسرا دھڑا طالبان ہیں۔

دوحہ آفس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ایک نئی کہانی کو جنم دے رہے ہیں جس میں کئی سوالات چھپے ہوئے ہیں، کیا آئندہ انتخابات میں طالبان کا کوئی کردار تجویز ہو چکا ہے، کیا طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز کے نیچے سے ہاتھ ملایا جاچکا ہے، کیا افغانستان میں کسی امریکی اڈے کے لیے کوئی گنجائش پیدا کی جا چکی ہے۔ کیا مستقبل قریب میں کوئی معاہدہ عمل میں آنے کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں؟ اگر امریکی فوج کا افغانستان سے انخلاءہو جاتا ہے تو یہ طالبان کی اہم کامیابی ہو گی، ایسے میں 17سال پہلے کے امریکی صدر بش کے فیصلے کو دُنیا کس نظر سے دیکھے گی؟

٭


ای پیپر