”یوٹرن “ اور وزیراعظم عمران خان
26 نومبر 2018 (23:44) 2018-11-26

حافظ طارق عزیز:

وطن عزیز کی سیاست میں دلچسپ اصطلاحات کا پیدا ہونا اور زبان زد عام ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس پر ستم یہ کہ اس سوشل میڈیائی دور میں تو یہ کچھ زیادہ ہی رفتار کے ساتھ پھیلتی ہیں۔گزشتہ اور موجودہ حکمرانوں کے بارے کئی ایسی Terms ہیں جو نہ صرف پڑھے لکھے طبقات بلکہ عام اور ان پڑھ شہریوں میں مقبولیت کی سند حاصل کرچکی ہیں، جنہیں زیادہ تر اپنے سیاسی مخالفین کو زچ کرنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ آج کل وزیراعظم عمران کے بارے میں ”یوٹرن“ کی اصطلاح ہر جگہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

جس ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان کی کالم نویسوں سے ”یوٹرن“ کے متعلق بات ہوئی وہ اس میں بظاہر پر ُاعتماد لگ رہے تھے، باڈی لینگوئج بہترین تھی، اور بہت پُرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ ملاقات میں ”کفایت شعاری“ کا عنصر نمایاں تھا۔ وزیراعظم نے کالم نویسوں کے سوالات کے جوابات بڑے تحمل سے دیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو زرمبادلہ محض تین ماہ کا تھا، اور جو قسط آئی ایم ایف کو ادا کرنی تھی وہ اس سے زیادہ تھی ۔ یہ گزشتہ حکومت ہی کی کارستانی ہے کہ جو ہمارے لیے نہ صرف خزانے خالی چھوڑ کر گئی بلکہ30 ہزار ارب روپے کا اضافی قرض بھی چھوڑ گئی۔ 2008ءمیں پاکستان پر 6 ہزارارب روپے قرض تھا، جس میں بعد ازاں 24 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے اپوزیشن پر خاصی تنقید کی، ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اپوزیشن سے بے حد نالاں ہیں، اُن کے مطابق اپوزیشن کے لوگ محض سیاسی طور پر زندہ رہنے کے لیے بناوٹی باتیں کرتے ہیں ، جبکہ حقیقت میں یہ لوگ اندر سے کھوکھلے ہیں۔ یہ ایک مافیا ہے جو اپنے آپ کو بچانے کے لیے مختلف گھناﺅنے کھیل کھیلتا ہے اور آج اگر یہ لوگ چیخ و پکار کر رہے ہیں تو اُس کی بھی یہی وجہ ہے کہ انہیں علم ہو چکا ہے کہ اب وہ کرپشن کرنے کے جرم سے بچ نہیں سکتے۔

سو دنوں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم نے بتایا کہ29 نومبر کو حکومت ایک پروگرام ترتیب دے گی جس میں بتایا جائے گا کہ حکومت نے پہلے سو دنوں میں کیا کھویا کیا پایا.... عمران خان نے ”کلپٹو کریسی“ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتی بد عنوانی کی ایک قسم ہے اور تحریک انصاف کی حکومت میں ” کلپٹو کریسی “ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.... ہماری حکومت نے پہلی بار تبادلوں اور تعیناتی کے لئے ”پروبیشن پریڈ “ کی ٹرم متعارف کرائی ہے جس کا مطلب ہے کہ جس افسر کی چھ ماہ کی کارکردگی ٹھیک رہی اسے دو تین سال تک تبدیل نہیں کیا جائے گا.... اُنہوں نے پہلی دفعہ دورہ چین کے حوالے سے بھی روشنی ڈالی کہ چین سے 15 ارب ڈالرز کا پیکج ملا ہے جو کہ کسی بھی حکومت کے لئے تاریخ کا سب سے بڑا پیکج ہے .... معیشت کے استحکام کے لئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کو چار اہم چیزیں کرنی ہیں جن میں ایکسپورٹ بڑھانی، سرمایہ کاروں کو پاکستان لانا، زرمبادلہ میں اضافہ کرنا، ہنڈی اور منی لانڈرنگ جیسے ناسوروں کو ختم کرکے رقوم کی غیر قانونی ترسیل کو روکنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے.... پھر بات ہوئی ”یوٹرن“ پر جس کا شور آج زبان زد عام ہے تو انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ لوگ مجھے ”یو ٹرن“ کہتے ہیں لیکن یوٹرن کا مطلب اپنی حکمت عملی کو حالات کے مطابق تبدیل کرنا ہوتا ہے اور کھلاڑی اکثر کھیل میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں اس عمل کو غلط معنوں میں نہیں لینا چاہیے۔ میں یو ٹرن لیتا ہوں لیکن جھوٹ نہیں بولتا کیونکہ یو ٹرن اور جھوٹ میں ایک فرق ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سو فیصد وعدے تو کوئی بھی حکمران پورے نہیں کر سکتا، ہاں ان کی طرف قدم بڑھانے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اپوزیشن سے زیادہ خود حکومت اپنی ناکامی ماننے پر تلی ہوئی ہے، حالانکہ وہ نہ تو ناکام ہوئی ہے اور نہ ناکامی کے کوئی خدوخال نظر آ رہے ہیں۔ عمران خان ایک کامیاب سیاست دان کے فارمولے پر پورا اُترتے ہیں۔مثلاً وہ پینترے بدل بدل کر اپنے مخالفوں کو زیر کر رہے ہیں،ایک جگہ نہیں ٹھہرے ہوئے، تبدیلی کی حکمتِ عملی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ البتہ وہ بھٹو کی طرح اپنا دفاع نہیں کر پا رہے۔ وہ اپنی طرف سے حملہ کرتے ہیں، لیکن وہ حملہ خود ان کے لئے مشکلات پیدا کر دیتا ہے،کیا اُن کی ٹیم میں کوئی ایسا نہیں،جو اس پہلو پر اُن کی توجہ مرکوز کرا سکے،کیا وہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر اسی طرح چھینٹوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں گے؟

وزیر اعظم کی باتوں سے ”بدنیتی“ کی بدبو نہیں آتی، جو اکثر ہمارے روایتی سیاست دانوں سے ملاقات کے بعد آیا کرتی تھی اور رہی بات ”یوٹرن“ کی تو میرے خیال میں وقت اور حالات کے مطابق فیصلے تبدیل ہو جایا کرتے ہیں.... مگر! ”اصول“ تبدیل نہیں ہوتے۔ ہاں اگر وہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹیں تو سب سے بڑا مخالف میں خود ہوں گا۔ اور اُن کے اصول سب پر واضح ہیں جس پر کوئی دورائے نہیں ہے کہ عوامی فلاح و بہبود.... عوام کی خدمت.... کرپشن کا خاتمہ.... میرٹ کا قیام .... سسٹم کی مضبوطی اور پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھانا۔ اگر ان اصولوں پر عمران خان نہیں چلیں گے تو یقینا اُن میں اور سابق حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

اور تاریخ گواہ ہے کہ نیلسن منڈیلاکو عصری سیاست کا پیغمبر تصورکیا جاتاہے۔ ان کی زندگی میں درجنوں یوٹرن نظر آتے ہیں۔ سفید فام اقلیت جس نے اکثریت کو غلام بنایااور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ نیلسن منڈیلا نے انہیں اقتدار میں شراکت دار بنا لیا۔کیا یہ یوٹرن نہیں تھا؟ منڈیلا کے ساتھی شکایت کرتے کہ مصائب ہم نے جھیلے، سیاسی جدوجہد ہم نے کی لیکن آج منڈیلا کے قریبی لوگوں میں سابق حکمران شامل ہیں۔ مہاتما گاندھی کی سیاست کا مطالعہ بھی بہت دلچسپ اور حیران کن ہے۔ 1915ءمیں جنوبی افریقہ سے ہندوستان لوٹے تو انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے یوٹرن لیے، گاندھی کہا کرتے تھے: حقیقت وہی ہوتی ہے جو لمحہ موجود میں ہوتی ہے۔ قدرت اللہ شہاب صدر ایوب خان کے سیکرٹری تھے۔ ایوب خان سیکولرفکر کی حامل شخصیت تھے۔ پاکستان کو بھی اسی رنگ میں رنگنا چاہتے تھے۔ قدرت اللہ شہاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان کا نام” اسلامی جمہوریہ پاکستان “کے بجائے جمہوریہ پاکستان رکھنے کا فیصلہ کیا تو شہاب نے انہیں مشورہ دیا کہ ایسا کرنے سے پاکستان کا مقصد وجود ہی فوت ہو جائے گا۔ تحریک پاکستان کے دوران کیے گئے وعدوں اور دی گئی قربانیوں پر پانی پھر جائے گا۔ ایوب خان نے شہاب کے مشورے کو قبول کیا اور اپنے ارادے سے باز رہے اور یوٹرن لیا۔

پھر مقدونیہ کا الیگزینڈر 20 سال کی عمر میں بادشاہ بنا 23 سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، پورا یونان فتح کیا، ترکی، ایران اور شام جیسے ملک فتح کیے لیکن جب ضرورت پڑی تو الیگزینڈر نے یوٹرن لے کر اپنی فوج بچا لی۔ اس طرح جنگ میں بھی جب فوج ہتھیار پھینکتی ہے تو اسی حکمت عملی کے تحت ہتھیار پھینکتی ہے وہ بھی یو ٹرن ہی ہوتا ہے۔ یوٹرن کا مطلب منفی نہیں بلکہ مثبت لیا جا نا چاہیے بلکہ اس کا مطلب حکمت عملی ہوتا ہے۔ پوری برطانوی جمہوریت کی تاریخ میں چرچل وہ واحد لیڈر ہے جس نے ”یوٹرن“ لے کر پارٹی بدلی تھی۔

یوٹرن اور وزیراعظم عمران کے تناظر میں یہاں ایک اور مثال پیش کرنا سیاق و سباق سے بعید نہیں ہو گی ۔ یہ مثال سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے امریکی صحافی اوریانا فلیسی کو دیئے گئے انٹرویو سے ہے۔ جب اوریانا فلاسی نے یہ انٹرویو کیا تو اس سے قبل وہ اندرا گاندھی سے بھی انٹرویو لے چکی تھیں۔ اوریانا فلیسی ذوالفقار علی بھٹو سے سوال پوچھتی ہیں کہ ” اندرا گاندھی نے مجھے کہا ہے کہ بھٹو ایک غیر متوازن آدمی ہیں۔آج کچھ کہتے ہیں کل کچھ اور، کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ اُن کے دماغ میں کیا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ بھٹو شہید اس کا جواب یوں دیتے ہیں۔ ”ہاں اُن کا کہنا درست ہے، لیکن مَیں اس کا فوری دو ٹوک جواب نہیں دے سکتا۔ مَیں مشہور فلسفی جان لاک کے اِس بیان کو قبول کر سکتا ہوں، ” ایک ہی بات پر اڑے رہنا چھوٹے ذہن کے لوگوں کی خاصیت ہوتی ہے“۔ مَیں سمجھتا ہوں انسان کو اپنے بنیادی نظریے پر سختی سے قائم رہنا چاہئے، تاہم ا±س مرکزی نظریے کے دائرے میں رہ کر اِدھر ادھر ہونا ضروری ہے۔ ایک ذہین آدمی کو کبھی ایک ہی جگہ منجمد نہیں رہنا چاہئے، ذہین آدمی تصورات و نظریات میں تیرتا رہتا ہے، سیاست تو ہے ہی تحرک کا نام، اِس لئے سیاست دان کو بھی متحرک ہونا چاہئے، اُسے کبھی بائیں اور کبھی دائیں حرکت کرتے رہنا چاہئے، اُس کے اندر تضادات اور شکوک و شبہات رہنے چاہئیں، اس کی کامیابی یہی ہے کہ خود کو مسلسل تبدیل کرتا رہے، چیزوں کو بغور جانچے، مخالفوں پر ہر طرف سے حملہ آور ہو، صرف اپنے مخالف کا کمزور پہلو تلاش کر کے اُسے ہدف نہ بنائے۔ یہ اُس کی ناکامی ہے اگر وہ موقف پر اڑا رہتا ہے۔ اگر وہ اُن نئے راستوں کو بند کر دیتا ہے۔۔۔۔۔غیر مستقل مزاجی در حقیقت ذہین آدمی کی بنیادی خوبی ہوتی ہے اور سیاست دانوں کی تو یہ بنیادی ضرورت ہے۔ اگر مسز اندرا گاندھی اِس بات کو نہیں سمجھتیں تو پھر وہ سیاست کی خوبصورتی کو بھی نہیں جان سکتیں، حالانکہ ان کے والد اسے اچھی طرح سمجھتے تھے“۔

اب آتے ہیں یوٹرن پر دی گئی وزیراعظم عمران کی دلیل کی طرف، جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ یوٹرن کی تعریف کرتے ہوئے بھٹو جیسے استدلال پر مبنی دلیل استعمال نہیں کر سکے۔ انہوں نے اپنے بیانیہ کو مضبوط بنانے کے لئے ہٹلر اور نپولین کے نام استعمال کئے، جب کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک فلسفی کے قول سے اپنی غیر مستقل مزاجی کا دفاع کیا، جس نے کہا تھا ایک ہی نکتے پر اڑے رہنا چھوٹے ذہن کے لوگوں کی پہچان ہوتی ہے۔ بھٹو تو یہاں تک کہہ گئے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنا موقف بدلنا سیاست دانوں کی ضرورت ہے۔ عمران خان بھی اگر بھٹو کی طرح دلیل سے اپنا مو¿قف پیش کرتے تو وہ کر سکتے تھے کہ تبدیلی اور مو¿قف میں نئے امکانات کو شامل کرنا سیاست دان اور سیاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا ہو جاتا تو نہ اتنا ہنگامہ شروع ہوتا اور نہ مخالفین یوٹرن کی اصلاح کو مذاق کا نشانہ بناتے۔

٭٭٭


ای پیپر