حاجی عبد الوہاب صاحبؒ تبلیغ اور فکراسلام کے داعی
26 نومبر 2018 (23:40) 2018-11-26

مفتی محمد وقاص رفیع:

حاجی عبد الوہاب صاحبؒ 1923ءکو ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ زمانہ¿ طفولیت میں قرآنِ مجید پڑھا اور اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے، جہاں سے آپ نے عصری علوم کی تکمیل کی اور تحصیل دار کے منصب پر فائز ہوئے۔

آپؒ کا اصلاحی تعلق اسی کالج کی پڑھائی کے زمانہ ہی میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ سے ہواتھا پھر اس کے بعد حضرت اقدس قاضی عبد القادر رائے پوریؒ سے قائم ہوگیا تھا، علاوہ ازیں مولانا محمد احمد صاحبؒ سے بھی آپؒ کا اصلاحی تعلق رہا۔ جس کی بدولت ہمہ اطراف سے آپؒ کی خوب تعلیم و تربیت ہوئی۔

یہ اسی نیک اور عمدہ تربیت کا اثر تھا کہ شروع میں آپؒ مجلس احرار اسلام سے وابستہ ہوئے اور پھر آپؒ نے بانی¿ تبلیغ مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒ کی خدمت میں آنا جانا شروع کردیا، اللہ کے اس ولی¿ کامل نے آپؒ پر ایسی پُرتاثیر نگاہ ڈالی کہ آپؒ تبلیغی کام سے منسلک ہوکر فنافی التبلیغ ہو گئے، یہاں تک کہ اس کام کی خاطر ملازمت تک ترک کر دی۔ اولاد وغیرہ تو ویسے بھی کوئی نہیں تھی صرف ایک اہلیہ تھیں اور وہ بھی کچھ عرصہ بعد انتقال کرگئیں، اس لئے اس کے بعد آپؒ نے اپنے آپ کو ہمہ تن دعوت وتبلیغ کے کام کے لئے وقف کردیا۔

تقسیم ہند کے فوراً بعد 1948ءمیں حاجی صاحبؒ کی تشکیل ہندوستان سے پاکستان کے شہر کراچی ہوئی۔ پھر 1952ءمیں مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کے سفر پاکستان کے بعد آپؒ کی تشکیل رائے ونڈ ہوگئی۔ جس زمانے میں حاجی صاحبؒ رائے ونڈ تشریف لائے اس زمانے میں رائے ونڈ مرکز کی جگہ کی صورت حال ایک خار دار گھنے جنگل کی تھی، جہاں ہر طرف کیکر کے درخت، کانٹے دار جھاڑیاں، تاریک موسم، بلکہ مرکز میں جہاں پہلے پرانا مطبخ اور ابھی نئی مسجد ہے وہاں ہندو مردے جلایا کرتے تھے، کھانے پینے کو کچھ نہ ملتا تھا، لکڑی اور گھاس پھونس کی ایک جھونپڑی نما مسجد تھی، گشتوں اور ملاقاتوں کے سلسلے میںروزانہ پیدل لاہور آنا جانا عام تھا۔ لیکن حاجی صاحبؒ کی مسلسل جد و جہد اور مجاہدہ کی برکت سے آج اللہ تعالیٰ نے رائے ونڈ مرکز کو مرجع عام وخاص بنا دیا ہے، جہاں سے آج تعلیم و تعلم کے چشمے پھوٹ رہے ہیں، دعوت و تبلیغ کی ہوائیں چل رہی ہیں۔

حاجی صاحبؒ کے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں اندرون و بیرون اسفار ضبط تحریرسے باہر ہیں۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی اشاعت اسلام میں گزار دی۔ اندرون و بیرون ملک آپؒ کی گراں قدر دعوتی و تبلیغی خدمات قابل رشک ہیں۔ آپؒ ہاتھ پر سینکڑوں غیر مسلموں نے کلمہ پڑھا۔

حاجی صاحبؒکا 1948ءسے لے کر تادم واپسیں 2018ءتک قیام رائے ونڈ مرکز میں ہی رہا، جہاں آپ پہلے 1948ءسے لے کر 1959ءتک ابتداءمیں رائے ونڈ مرکز کی مختلف دعوتی و تبلیغی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور پھر 1960ءکو جب رائے ونڈ مرکز میں مدرسہ کی بنیاد پڑی تو آپؒ پر ایک کے بجائے دو ذمہ داریاں آپڑیں، جنہیں آپؒ اس وقت سے لے کر اب تک حسن تدبیر سے چلاتے رہے۔ 1992ءمیں جب الحاج محمد بشیر کا انتقال ہوگیا تو آپؒ کو تبلیغی جماعت پاکستان کا امیر مقرر کردیا گیا۔

عمان کے تحقیقی ادارے ”رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹیڈیز سینٹر“ نے اکتوبر 2014ءکی 500 عالمی بااثر شخصیات میں سے حاجی صاحبؒ کو 10 ویں نمبر پر رکھا ہے۔

حاجی عبد الوہاب صاحبؒ اگرچہ باضابطہ کوئی حافظ یا عالم نہیں تھے لیکن دعوت و تبلیغ کی محنت پیہم اور جہد مسلسل کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو قطب و ابدال جیسے خاص مقام پر فائز فرما رکھا تھا۔ آپؒ کے سینے میں امت کا غم اور فکر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ آپؒ ہمیشہ اسی تگ ودو میں رہے کہ کس طرح پوری امت اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور نبی اکرم کے طریقوں پر آجائے اور جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والی بن جائے۔

آپؒ نے دعوت و تبلیغ والے کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنارکھا تھا۔ نہ راحت و آرام کا کوئی پتہ اور نہ ہی کھانے پینے کی کوئی فکر، بس ایک ہی غم، فکر اور کڑھن تھی کہ کس طرح تمام اللہ تعالیٰ کا یہ مبارک دین پوری دنیا کے تمام انسانوں کی زندگیوں میں آجائے اور تمام انسان حضور نبی اکرم کی مبارک زندگی کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے بن جائیں۔

چنانچہ استاد محترم مولانا احسان الحق صاحب نے خود یہ واقعہ سنایا کہ تمہیں کیا احساس کہ فکر و کڑھن کسے کہتے ہیں؟ فکر سیکھنی ہے تو محترم حاجی صاحبؒ سے سیکھو! بندہ ناشتہ لے کر حاضر ہوا، اس وقت مہمانوں سے ملاقات کا وقت بمشکل نکالا جاتا ہے، حاجی صاحبؒ نے لقمہ توڑا اور منہ کی جانب لے جانے لگے کہ اتنے میںمہمان آگئے، ان سے دعوت کی بات شروع کر دی، ان کو ہدایات و نصائح سے رخصت کیا، لقمہ منہ کے قریب تھا کہ اور مہمان آگئے، ان سے دعوت کی بات شروع فرمادی، حتیٰ کہ یہ سلسلہ چلتا رہا، مہمانوں کی آمد و رفت میں دعوتی فکر غالب رہی، تقریباً بیالیس منٹ بعد حاجی صاحبؒ نے وہ لقمہ منہ میں رکھا۔ یہ فرماتے ہوئے مولانا احسان الحق صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

چند سال قبل کی بات ہے کہ پاکستان کے مشہور شو ” طارق عزیز شو“ میں ایک مرتبہ یہ سوال اٹھایا گیاکہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ بولنے والا شخص کون ہے؟ تو اس سوال کے چاروں طرف سے مختلف جوابات سامنے آئے، کسی نے کس کا نام لیا اور کسی نے کس کا؟ لیکن اس کا سب سے بہترین اور عمدہ جواب جو کسی نے دیا اور اسے ترجیحی بنیادوں پسند کیا گیا وہ یہ تھا کہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے بولنے والے شخص تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبد الوہاب ؒ ۔

چنانچہ خوب یاد پڑتا ہے کہ 2002ء زمانہ¿ طالب علمی میں جب ہم چلے میں چل رہے تھے تو ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ صبح فجر کی نماز کے بعد تقریباً ساڑھے چھ بجے حاجی صاحبؒ کا بیان شروع ہوا اور چلتاہی گیا، یہاں تک کہ گیارہ بج گئے، ہم چار گھنٹے مسلسل ایک ہی جگہ پر بیٹھے بیٹھے تھک گئے، اس لئے دل نے چاہا کہ تھوڑی دیر کے لئے باہر نکل کر تھکاوٹ دور کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے چند ضروری کام بھی نمٹا لیے جائیں۔ چنانچہ ہم چند ساتھی وہاں سے اٹھے، وضو تازہ کیا اور اپنے کام نمٹائے، یہاں تک کہ دن کا ایک بج گیا، اب ہم نے واپسی کی ، ظہر کی نماز کی تیاری کرکے دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حاجی صاحبؒ اسی طرح ابھی تک بیان فرما رہے ہیں، اس لئے ہم دوبارہ بیان میں بیٹھ گئے اور بیان سننا شروع کردیا، یہاں تک کہ ڈیڑھ پونے دو بج گئے اور ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا، تب حاجی صاحبؒ نے اپنا بیان ختم فرمایا اور ہمیں ظہر کی نماز کی تیاری کے لئے وقت دیا۔

گفتار کی طرح رفتار میں بھی حاجی صاحب کا کوئی ثانی نہیں تھا، آپؒ مختلف عوارض و امراض کے باوجود بڑھاپے میں بھی اتنا تیز چلتے تھے کہ کوئی نوجوان چلنے میں آپؒ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، بلکہ وہ دوڑ تے ہوئے چل کر آپؒ تک پہنچ سکتا تھا۔ 2007ءمیں جب آپؒ نے حج کے لئے رخت سفر باندھا تو اس وقت آپؒ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے اور وہیل چیئر پر اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے، لیکن جوں ہی آپؒ دیارِ حرم میں پہنچے ، تو آپؒ نے آنحضرت کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ” زم زم کا پانی جس جائز مقصد کے لئے پیاجائے اس سے وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے(مسنداحمد، ابن ماجہ)“ زم زم کا پانی اس نیت سے پیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت و تندرستی عطاءفرمائے اور میں دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہو جاو¿ں تو اللہ تعالیٰ نے آپؒ کا یہ مقصد حل فرمایا اور اسی وقت آپؒ کو صحت یاب فرما دیا۔

انہیں دنوں بات ہے کہ استادِ محترم شیخ الحدیث مولانا جمشید علی خان ؒ بھی چلنے پھرنے سے قاصر تھے اور وہیل چیئر پر اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے۔ چنانچہ حاجی صاحبؒ نے اسی وقت حرم پاک سے مولانا جمشید صاحب ؒ کی طرف رائے ونڈ فون کیا اور اپنا واقعہ سنایا کہ میں نے زم زم کا پانی اس نیت سے پیا تا کہ اس سے مجھے اللہ تعالیٰ صحت و تندرستی نصیب فرمائیں اور میں دوبارہ چلنے پھرنے لگ جاو¿ں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت و تندرستی عطا فرمادی اور میں نے وہیل چیئر کو چھوڑ کر اب اپنے قدموں پر چلنا پھرنا شروع کردیا ہے، لہٰذا آپ بھی زم زم کا پانی اس نیت سے استعمال فرمائیں اور وہیل چیئر کو چھوڑ کر اپنے قدموں پر چلنا شروع کردیں۔ مولانا جمشید صاحب ؒ کا بدن چوں کہ حاجی صاحبؒ کی بہ نسبت خاصا بھاری بھرکم تھا، اس لئے ہم نے دیکھا کہ مولانا جمشید صاحب ؒ نے وہیل چیئر پر بیٹھنا تو ترک کردیا، لیکن بھاری بھرکم جسامت کی وجہ سے آپؒ کے لئے چلنا پھرنا پہلے تو قدرے دشوار ہوا، لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو صحت عطا فرما دی اور آپ نے بھی وہیل چیئر پر بیٹھنا ترک کر دیا۔ پھر اخیر عمر میں جب بالکل آپؒ ضعیف و ناتواں ہوگئے اور پہلے والی ہمت و طاقت ختم ہوگئی تو دوبارہ آپؒ وہیل چیئر پر بیٹھنے لگ گئے۔

حاجی صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے خشیت و للہیت اور تقویٰ وطہارت کے سبب غنائے ظاہری و باطنی جیسی بے بہا دولت سے بھی نواز رکھا تھا۔ آپؒ نے پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آپ کے قدموں میں ڈال رکھا تھا۔

چنانچہ نوے کی دھائی کے اواخر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں رائے ونڈ مرکز حاجی صاحبؒ سے ملاقات کرنے کے لئے حاضر ہوئے، حاجی صاحب ؒ نے میاں صاحب کو دین کی دعوت دی اور انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقت لگانے کے لئے کہا، میاں صاحب نے کہا کہ: ” وقت تو میرے پاس نہیں ہے، البتہ یہ کچھ ہدیہ آپؒ کے لئے لایا ہوں ”تین ارب اسی کروڑ روپے “یہ قبول فرما لیجئے! “ حاجی صاحبؒ نے فرمایا: ” میاں صاحب! ہمیں آپ کی رقم کی ضرورت نہیں، ہمیں تو آپ کا وقت چاہیے، آپ بس ہمیں تین دن دے دیں! “میاں صاحب نے کہا : ” حاجی صاحبؒ! میرے پاس وقت نہیں ہے، میں تین دن نہیں دے سکتا!“ حاجی صاحب نے فرمایا : ”پھر ہمیں آپ کی اس رقم کی کوئی ضرورت نہیں، آپ اسے واپس لے جایئے!“ میاں صاحب یہ نہیں جانتے تھے کہ اس بے تاج بادشاہ کے سامنے ٹھیکریاں اور اشرفیاں ایک برابر ہیں، اس لئے انہوں نے دولت کے نشے میں مخمور ہوکر کہا : ” حاجی صاحبؒ ! اتنی بڑی رقم آج تک کسی نے آپؒ کو نہیں دی ہوگی!“ حاجی صاحبؒ نے فوراً پلٹ کر جواب دیا کہ: ” اتنی بڑی رقم آج تک کسی نے ٹھکرائی بھی نہیں ہوگی، جاو¿ اپنی رقم اٹھا کر لے جاو¿، ہمیں تمہاری رقم کی کوئی ضرورت نہیں!“ چنانچہ میاں صاحب نے اپنا بریف کیس بغل میں دبایا اور جاتی امراءکو چلتے بنے۔

خشیت و للہیت اور تقویٰ و طہارت کے ساتھ ساتھ حاجی صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد اور کامل بھروسہ بھی حاصل تھا، چنانچہ کئی بار دیکھنے اور سننے میں آیا کہ حاجی صاحبؒ کے ڈرائیور سے کبھی گاڑی کہیں لگ گئی یا کہیں اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تو دنیا داروں کی طرح یہ نہیں کہ اس کی پٹائی شروع کردی، یا اسے نوکری سے علیحدہ کر دیا، بلکہ آپؒ ڈرائیور سے فرماتے کہ بھائی ! کوئی بات نہیں بس ہمارے مقدر میں یہ مصیبت اور دکھ سہنا لکھا تھا جو ہمیں مل کر رہا لہٰذا تم ہی نے آئندہ بھی گاڑی چلانی ہوگی۔

اسی طرح دنیا بھر میں اگر کہیں دعوت و تبلیغ سے متعلق کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آجاتا یا کوئی خاص سانحہ رونما ہو جاتا تو اخبارات و مجلات اور میڈیا پر اس کی تشہیر کرکے عالمی فورم پر اپنی آواز اٹھانے کے بجائے فوراً اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی ہی عاجزی و انکساری کا اعتراف کرتے کہ یا اللہ! تو ہمیں معاف فرمانا کہ ہماری ہی کم زوری اور ہماری ہی لاپرواہی کے سبب یہ سانحہ پیش آیا کہ ہم نے ہی صحیح طرح سے دین کی محنت کرنے میں سستی سے کام لیا اور لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی ذات سے روشناس نہ کرایا۔

جماعت کے ساتھیوں کو ہدایات دیتے ہوئے حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ : ” جب تم چار چیزوں کو تھکا دوگے تب اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کا سورج بنائے گا(۱) زبان کو دعوت میں (۲) قدموں کو گشت میں (۳) دماغ کو فکر و کڑھن میں (۴) اور آنکھوں کو آنسو بہانے میں، یہاں تک کہ زبان بولنے سے عاجز آجائے، قدم چلنے سے انکار کردیں، دماغ پھوڑے کی طرح دکھنے لگے اور آنکھیں رو رو کر پتھراجائیں۔“ یقینا حاجی صاحبؒ نے اپنے آپؒ کو ان چاروں کاموں میں تھکا اور گھسادیا تھا، جس کے سبب آپؒ ایک لمبا عرصہ صاحب فراش رہے، تاہم اس کے باوجود آپؒ کا وجودِ مسعود نئے اور پرانے ہمہ قسم کے فتنوں کے پھلنے پھولنے کے راستے میں رکاوٹ تھا اور ان کے شرور و فتن سے بچے رہنے میں حصار کا کام دے رہا تھا، لیکن چوں کہ موت کا وقت ہر انسان کا مقرر ہے، جس پر اس نے بہرحال اس فانی دُنیا سے کوچ کرکے اپنے رب کے یہاں جانا ہے، اس لئے حاجی صاحبؒ بھی ایک طویل مدت علیل رہنے کے بعد اپنی حیات مستعار کی لگ بھگ ساڑھے نو بہاریں دیکھنے کے بعد اپنے پس ماندہ گان میں لاکھوں تربیت یافتوں اورکروڑوں عقیدت مندوں کو سسکیاں لیتے اور ہچکیاں بھرتے ہوئے چھوڑ کر اس دارِ فانی سے دارِ بقاءکی طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روانہ ہوگئے۔

٭٭٭


ای پیپر