امریکی و افغان حکام کی غیرذمہ دارانہ بیان بازی
26 نومبر 2018 2018-11-26

امریکہ و افغان حکام کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات کا بنیادی مقصد طاقتور مغربی میڈیا کے ذریعے ڈس انفارمیشن پھیلا کر ایک تو پاکستان کی کردار کشی کرنا ہے اور دوسرا افغان حریت پسند مزاحمتی قوت کو پاکستان کی حمایت کا ’’ہوّا‘‘ کھڑا کر کے اپنے اقتدار کو طول دینا اور افغانستان میں امریکی حکام اور افواج کی موجودگی کو سندِجواز فراہم کرنا ہے ۔ دریں چہ شک کہ عالمی طاقت اور اس کے حلیف مغربی ممالک کی کرم فرمائیوں کی بدولت پہلے حامد کرزئی اور اب اشرف غنی +عبداللہ عبداللہ افغان حکومت کے سربراہ ہیں اور انہیں ذاتی طور پر اس امر کا ادراک و احساس ہے کہ وہ کس حد تک ’’بااختیار‘‘ حکمران ہیں۔ دنیا بھر کی آزاد، حریت پسند اور غیر جانبدار اقوام انہیں افغانستان کے ایک کٹھ پتلی حکمران کی حیثیت سے جانتی ہیں۔ عوامی تائید سے کلی طور پر محروم ایسے حکمرانوں کی جانب سے اپنی مخالف ناقابل تسخیر سیاسی قوت کے حوالے سے یہ بیان داغنا کہ وہ فلاں ہمسایہ ملک کی تائید وحمایت سے17برس سے افغانستان میں گڑبڑ پھیلا رہے ہیں، محض ایک بے بنیاد پراپیگنڈہ ہے۔ افغان حکمرانوں کا یہ واویلا ناقابل فہم ہے۔ وہ ایک نان ایشو کو بلاجواز ایشو بنا رہے ہیں۔ افغان حکام14برس قبل حامد کرزئی دور میں بلاسیاق و سباق اس قسم کی الزام تراشی کرتے رہے ہیں کہ ’’ملا عمر کو کوئٹہ کی ایک مسجد میں نماز جمعہ پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے‘‘۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی اپنے بیانات اور انٹرویوز میں تواتر سے جس مسجد کا حوالہ د یتے رہے ،اس کے بارے واقفان حال جانتے ہیں کہ تادم تحریر وہاں نماز جمعہ ہوتی ہے اور نہ ہی نماز عید۔

سچ تو یہ ہے امریکی و افغان حکام کے پاکستان مخالف تمام بیانات خود تردیدی کا منہ بولتا شاہکار ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر کہ تازہ ترین ریمارکس سراسر لغو ہی نہیں بلکہ سرتاپا بے بنیاد بھی ہیں۔ دوسری طرف اشرف غنی +عبداللہ عبداللہ جیسے تیسے بھی حکمران ہیں، انہیں بہرطور یہ بات پیش نظر رکھنا چاہئے کہ عوامی مرضی، منشاء اور مینڈیٹ کے خلاف بعض طاقتور ممالک نے انہیں افغا ن اقتدار کے کلیدی مناصب پر فائز کر رکھا ہے، اس لئے کوئی بھی بیان دینے سے قبل اس کے نتائج و عواقب پر غور و خوض کرنا ان کے منصب کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور عالمی برادری بخوبی جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں پاکستان نے جملہ ذرائع و وسائل سمیت ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ بایں وجہ اُن دنوں عالمی ذرائع ابلاغ پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف بین الاقوامی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا خطاب بھی دیتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف بین الاقوامی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار اداکرنے والے ملک پر یہ الزام عائد کرناکہ اس نے مبینہ دہشت گردوں میں سے کسی ایک کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے، انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ افغانستان میں افغان عوام کی مرضی، منشاء اورمینڈیٹ کے برعکس غیر ملکی طاقتوں کی تائید و حمایت

سے اقتدار پر قابض ہونے والے عناصر اور ان کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک ایسے ملک کے حوالے سے رکیک الزامات کا طولانی سلسلہ شروع کریں، جہاں ایک منتخب عوامی حکومت جمہوریت کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

طالبان رہنما بلاشبہ افغانستان کے عوامی سطح پر ایک مقبول سیاسی ومزاحمتی گروپ کے رہنما ہیں۔ انہیں پختون اور دیگر افغان اقوام کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ تو ایک مسلمہ صداقت ہے کہ اکتوبر 2001ء میں ملا عمر مجاہد اور ان کے پیروکاروں سے حکومت عالمی طاقت نے میزائل پوائنٹ پر فضائف بالادستی کے بل بوتے پر چھینی تھی۔ وگرنہ طالبان حکومت کو پانچ سالہ دور اقتدار میں افغانستان کے طول و عرض میں مٹھی بھر شمالی اتحادیوں کے علاوہ کسی بھی گوشے سے انہیں کسی قسم کی مزاحمت، دباؤ اور مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کا دور امن و امان کے لحاظ سے افغان تاریخ کا ایک مثالی دور تھا۔ جہاں تک شمالی اتحاد کا تعلق ہے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ اسے ماضی میں روس، بھارت، امریکا ، اسرائیل اور دیگر ہمسایہ ممالک کی جانب سے بھرپور معاونت اور امداد حاصل رہی ہے۔ اسی معاونت اور امداد کے بل بوتے پر شمالی اتحاد نے نصف عشرہ تک طالبان حکومت کے خلاف جنگجویانہ سرگرمیاں اور کارروائیاں جاری رکھیں۔ طالبان حکومت کے انہدام کے ساتھ ہی عالمی طاقت کے زیر سایہ بننے والی عبوری نگران حکومت کے ذمہ داران نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آنے والے چند ہی دنوں میں ملا عمر کو ڈھونڈ نکالیں گے اور ان کی جماعت (طالبان) کا تنظیمی تار و پود بکھیر کر رکھ دیں گے۔ حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ امریکی کٹھ پتلی افغان ذمہ داران کے یہ دعوے تادم تحریر محض کھوکھلے ہیں۔ افغان حکمران اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر بھونڈے انداز میں ڈال رہے ہیں۔ افغان حکام افغان طالبان رہنماؤں کی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجودگی کے حوالے سے بیان داغ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں ، جیسے انہوں نے پاکستان میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہو۔

اگر امریکی و افغان حکام کے بیانات کو ایک لحظہ کے لیے مان لیا جائے کہ افغان طالبان افغانستان سے نکل کربھاگ کر کسی دوسرے میں کامیاب ہو چکے ہیں تو اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں موجود کثیر القومی افواج دہشت گردوں پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ افغان حکام محض مفروضوں اور قیاسات کی بنیاد پر پاکستان پر الزام باری کر رہے ہیں۔ انہیں ایسا کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس قسم کی الزام سازی اور الزام طرازی سے دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ افغان حکام کو پاکستان کے خلاف بیان بازی کرنے کے بجائے اپنے ملک اور عوام کی بہبود کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ افغان حکمران 70 فیصد افغان عوام کی تائید و حمایت سے محروم ہیں۔ ان کا اقتدار افغانستان کے محض چند بڑے شہروں تک محدود ہے۔ افغان حکمرانوں کے افغان عوام پر عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ حکمرانوں کے ذاتی محافظوں میں ایک بھی افغان شہری یا فوجی شامل نہیں ہے۔ جس حکمران کے باڈی گارڈز بھی غیر ملکی ہوں، وہ کس حیثیت سے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسے اپنے عوام کا آشیرباد حاصل ہے۔ اندریں حالات بہتر ہوگا کہ افغان حکام افغان عوام کی تائید و حمایت کے حقیقی حصول کے لیے افعان طالبان سے مفاہمت کی پالیسی اپنائیں ۔

امریکیوں کے تضاد کا عالم یہ ہے کہ آئے روز ایک سانس میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور دوسرے ہی سانس میں ڈو مور کی چھڑی لہرانے سے بھی دریغ نہیں کر تے۔حالانکہ اس ناقابل تردید زمینی حقیقت سے امریکا اور مغربی ممالک سمیت کسی کو بھی مجال انکار نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ملکی معیشت کو پہلے پانچ برسوں میں تقریباً 21 کھرب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق مبینہ’’ دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ ‘‘سے پاکستانی معیشت کو 17برسوں میں130ارب ڈالر کا نقصان ہوا، علاوہ ازیں برآمدات ، غیر ملکی سرمایہ کاری ، نجکاری ، صنعتی پیداوار اور ٹیکس وصولیوں سمیت کئی شعبوں میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر نقصان کا سامنا کرناپڑا۔پاکستان نے امریکی جنگ کی بھاری قیمت چکائی ہے۔


ای پیپر