جگاڑ بندی
26 نومبر 2018 2018-11-26

حالیہ دنوں میں ہمیں اپنے ہی گھر میں خود اپنے ہی معاملات میں کچھ ایسے مشاہدات اور تجربات ہوئے ہیں جن سے ہم پر خود ہماری اپنی ہی حماقت اور ذہانت عیاں ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے حماقت کا اظہار ایکشنز یعنی اعمال میں ہوا ہے جبکہ ذہانت کا اعتبار ان حماقت زدہ ایکشنز کے نتائج اخذ کرنے کے حوالے سے ہوا ہے اور چونکہ ہم ذہانت اور حماقت کو ایک قومی امانت سمجھتے ہیں چنانچہ خود کو نعوذ باللہ صادق اور امین سمجھتے ہوئے اپنے ان معاملات، مشاہدات اور تجربات مع نتائج آپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

آج صبح بیگم صاحبہ یعنی ہماری اپنی بیگم بقلم خود اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے چائے بنا کر لائی۔ اچھا یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ ہمارے لیے ہماری چائے ہماری بیوی ہی بناتی ہے۔ اگر آپ کو یہ سہولت میسر نہیں تو آپ اپنی کمپنی سے بات کر سکتے ہیں۔ بیوی نے چائے میز پر رکھی اور پہلا وہی عمومی سوال کیا۔ آج دوپہر کو کیا پکانا ہے۔ خدا نخواستہ ہماری بیوی ہم کو پکانے کا نہیں کہہ رہی تھی۔ ہمیں ایسا مذاق پسند نہیں۔ ہاں البتہ سنجیدگی دوسرا معاملہ ہے۔ بیوی کا مطلب تھا۔ لنچ میں کیا کھائیں گے اور ہمارا وہی عمومی جواب تھا آپشنز کیا ہیں؟ اور اس کے بعد ہم آج کی پکایئے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں جب سے ہم نے آج کی پکایئے کھیلنا شروع کیا ہے، یہ احساس ہونے لگا ہے ہم بوڑھے ہو رہے ہیں۔ پکانے کے ساتھ ساتھ بیوی دوسری شاپنگز، مختلف بلز، خرچے اور آمدن کا بھی ذکر کرتی رہی۔ ہم بیوی کے یہ تمام تفکرات، گھریلو معاملات اور بیویانہ احساسات سنتے رہے اور اپنے چائے کے کپ میں چمچ چلاتے رہے تاکہ چینی گھل مل جائے۔ تین چار منٹ کے بعد چائے کا گھونٹ بھرا تو وہ پھیکا تھا۔ یعنی ہم نے چائے میں چینی ڈالی نہیں تھی اور تین چار منٹ سے چمچے کو ہلا رہے تھے۔۔۔ چلا رہے تھے۔ ہماری بیگم نے ہماری اس بیکار کی محنت اور حماقت پر مسکرا دیا لیکن ادھر اب ہماری ذہانت چمک رہی تھی چنانچہ ہم نے بھی مسکرا کر کہا آج ایک بات تو ثابت ہو گئی اگر چائے میں چینی نہ ہو تو آپ بے شک چمچے کو تین چار منٹ کیا ، تین چار سال چلاتے رہیں، ہلاتے رہیں، چائے میٹھی نہیں ہو گی پھیکی رہے گی۔

دوسرا واقع دوپہر کو ہوا۔ ہمارے گھر کی چھت کے ساتھ ساتھ متوازی طور پر ایک پائپ چلتا ہے۔ یہ بارش کے پانی کے نکاس کا پائپ ہے۔ یہ پائپ درمیان سے لیک کر رہا تھا کچھ دن تو ہم نے حسب معمول پرواہ نہیں کی۔ یہی سوچتے رہے، دیکھ لیں گے۔ آپ جانتے ہیں

چیزوں کو ملتوی کرنا ہمارا قومی شعار ہے۔ کبھی کبھار ایک آدھ بارش ہوتی۔ پانی لیک کرتا اور گھر کے فرنٹ دروازے پر چھپڑ لگ جاتا۔ ہم اور ہمارے بچے اسے پھلانگ کر گھر میں داخل ہوتے اور سب ایک دوسرے کو گھوری نما دیکھتے۔ ہمارے پاس چونکہ ویٹو پاور بھی ہے۔ چنانچہ ہم بچوں کو ڈانٹ اور دبک کر پوچھتے۔ یار اسے ٹھیک کیوں نہیں کرواتے۔ پھر بارش رک جاتی اور ہم بھول جاتے لیکن ادھر چند دنوں سے موسم تبدیل ہو گیا اور بارش روز کا معمول بن گئی۔ پانی مسلسل لیک کرنے لگا۔ ایسے جیسے مکان سے کوئی آبشار گر رہی ہو۔ گورے سامنے سے گزرتے تو حیران پریشان ہو کر دیکھتے۔ ہم اندر کھڑکی سے شرمندہ ہو کر دیکھتے۔ ایک دن تو انتہا ہو گئی۔ ایک کمبخت گورا اپنے بچے اٹھا لایا۔ عین ہمارے گھر کے سامنے چھتری تلے کھڑا ہو کر انہیں دکھا رہا تھا۔ آبشار ایسی ہوتی ہے۔ پہلے تو غصہ آیا پھر سوچا ٹکٹ لگا دیتا ہوں۔ تب کونسل کا خیال آیا اور آخر میں یہ کہ کوئی جگاڑ لگانی چاہیے تاکہ یہ ایشو فکس ہو۔ سوچتے ہوے ایک خیال ذہن میں ایا۔ ہتھوڑی پکڑی اور باہر آ گیا۔ پلان یہ تھا چونکہ پائپ درمیان سے لیک کر رہا ہے۔ اگر اسے ایک جانب سے اندر کی طرف ٹھوک دوں تو یہ واپس جڑ جائے گا اور لیکیج بند ہو جائے گا۔ ظاہر ہے یہ ایک جگاڑ تھا اور ہماری حماقت کا غماز تھا لیکن ہم اپنے گھر کو اسی قسم کے جگاڑوں اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے چلانے کے عادی ہیں۔ ہم نے ہتھوڑی اٹھائی اور نشانہ لے کر پائپ پر چلائی۔ لگا، پائپ کچھ آگے کھسکا ہے۔ ہم نے جوش جذبات میں آ کر طاقت بڑھائی اور زیادہ زور سے ہتھوڑی چلائی۔ بس اس کے بعد ایک آواز آئی۔ ہارڈ پلاسٹک کا پائپ ٹوٹ چکا تھااور ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا اور ہمارا معاملہ کچھ ایسا تھا، اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔ چندھائی ہوئی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ ہماری اس حماقت کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا یعنی ہمیں اپنی حماقتوں سے خود ڈر نہیں لگتا، دنیا سے ڈر لگتا ہے۔ کہیں انہیں معلوم نہ ہو جائے۔ ہم اپنے گھر کو ایسے چلاتے ہیں۔ ادھر ادھر کوئی نہیں تھا۔ بس ہماری بیوی کھڑکی سے ہمیں مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ ہم نے ٹوٹے ہاتھوں سے ہتھوڑی پکڑی، پائپ کے ٹوٹے ٹکڑوں کو ٹکر ٹکر دیکھا اور اندر آ گئے۔ بیوی بدستور مسکرا رہی تھی۔ ہم نے ایک پھیکی مسکراہٹ سے بیوی کو دیکھا اور ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوے کہا۔ آج ایک بات تو ثابت ہو گئی۔ ہر ایشو کا علاج طاقت نہیں ہے اور ایکسٹرا طاقت تو بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ جگاڑ بندی سے گھر چلانے کی پالیسی نقصان ہی کرتی ہے اور نقصان یہ ہوا کہ جو لیکیج چالیس پاؤنڈ سے ٹھیک ہونا تھا۔ وہ دو سو چالیس پاؤنڈ سے ٹھیک ہوا ہے۔ ہمارا خیال ہے اگر دوسو پاؤنڈ سے جو تجربہ ہوا ہے اور جس طرح ہم پر ہماری حماقت اور پھر ذہانت عیاں ہوئی ہے۔ یہ سودا مہنگا نہیں۔ شرط صرف اتنی ہے اگر ہم سیکھ لیں اور جگاڑ بندی ، تک بندی اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے بعض آ جائیں لیکن اپنی حماقتوں کی تاریخ اور روایت کو دیکھیں تو کام مشکل ہی نظر آتا ہے۔

اور آخری بات، آپ جانتے ہیں یہ ایک فکاہیہ علامتی کالم ہے لیکن اس کے باوجود کچھ زہین اور اصلاح کار یہ کالم پڑھ کر ہمیں کہیں گے۔ جناب ، یہ باتیں تو ہمیں بہت پہلے سے معلوم تھیں۔ چینی کے بغیر چائے میٹھی نہیں ہوتی اور طاقت کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے اور جس کا کام اسی کو ساجھے۔ افسوس آپ کو اب پتہ چلا۔ آئندہ احتیاط کریں اور یہ کہ آپ کے نقصان پر آپ سے ہمدردی ہے، یقین کر لیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیں عزیز ہیں۔ ہمیں پیارے ہیں اور انہی کے دم سے مسکراہٹیں قائم ہیں اور خوشیاں برقرار ہیں ورنہ پھیکی چائے میں مزہ کہاں اور طاقت کے بغیر جگاڑ کہاں ۔


ای پیپر