یاد آئیں تو آنکھیں پُر نم ہو جائیں۔۔۔!
26 نومبر 2018 2018-11-26

تقریباً ساڑھے پانچ عشروں پر محیط شعبہ تعلیم و تدریس سے وابستہ عملی زندگی کے دوران بہت ساری شخصیات سے واسطہ پڑا۔ اِن میں سے بعض کے ساتھ رسمی راہ و سم رہی اور کچھ کے ساتھ قریبی دوستانہ اور نیازمندانہ تعلقات قائم ہوئے تو کچھ کی ’’نوازشات اور عنایات‘‘ کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ آج جب ماضی میں جھانکتا ہوں تو کچھ ایسی شخصیات کے ہیولے ذہن کے نہاں خانے میں ابھرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر اگرچہ اُس دیس سدھار چکی ہیں جہاں سے کسی نے واپس نہیں آنا ہوتا لیکن پھر بھی اُن کو یاد کیا جائے تو دل سپاس و تشکر کے جذبات سے ہی نہیں بھر جاتا ہے آنکھیں بھی پُر نم ہو جاتی ہیں۔ میں نے پچھلے کالم میں اپنے ماضی کے ایسے ہی چند بھولے بسرے کرداروں کا ذکر کیا تو احباب نے اِسے بہت پسند کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومی معاصل کے ادارتی صفحہ جس پر میرا کالم چھپتا ہے اُس کے تقاضے کچھ اور ہیں جن میں ذاتی معروضات اور حوالوں کی زیادہ گنجائش نہیں ہو سکتی۔ تاہم میرے احباب کے خیال میں پھر بھی مہینے میں ایک دو بار سیاسی اور حالاتِ حاضرہ کے موضوعات سے ہٹ کر اِس طرح کے موضوعات پر خیال آرائی کر لی جائے تو شاید اِس کی کچھ گنجائش نکل سکتی ہے۔ خیر جو کچھ بھی ہے ماضی کو کچھ یاد کر لیتے ہیں۔

پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے اِبتدائی برسوں میں جب میں نے کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں بطورِ پرائمری سکول ٹیچر ملازمت کا آغاز کیا تو اُس وقت کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے تعلیمی اِداورں بالخصوص پرائمری سکولوں کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خلیق صاحب کے نام کے ایک بزرگ متعین تھے۔ لانبے قد، لمبی داڑھی کے ساتھ شیروانی زیب تن کیے اور پان چباتے ہوئے لکھنوی تہذیب کا ایک چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ تیزی سے اُردو بولا کرتے ۔ لالکڑتی راولپنڈی میں گپتا بلڈنگ کے نام سے تقسیم سے پہلے کی بنی ایک اُونچی چار منزلہ (یا شاید تین منزلہ) متروکہ وقف عمارت کے ایک حصے میں رہائش پذیر تھے۔ ہم اُنہیں باوا کہہ کر پُکارتے تھے۔ سکولوں کے باقاعدگی سے معائنے کرتے اور اپنی رپورٹ لکھ کر جاتے۔ مجھے اُن سے کچھ کچھ ڈانٹ بھی پڑتی رہی لیکن زیادہ شفقت کا ہی مظاہرہ کرتے رہے۔ اُن کی ریٹائرمنٹ پر (اُس وقت میں سنٹرل ٹریننگ لاہور میں بطور ریگولر سٹوڈنٹ داخلہ لے کر بی ایڈ کر رہا تھا) محمد افضل فردوسی جن کا تعلق لاہور سے تھا نئے ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ متعین ہوئے۔ فردوسی صاحب نے پنجاب یونیورسٹی لاہو رسے ایم اے ایڈ کی ڈگری لے رکھی تھی۔ وہ بڑی مثبت سوچ اور شگفتہ طبیعت کے مالک تھے۔ عرفان صدیقی کے ساتھ میں بھی اُن کے قریبی احباب میں شامل ہو گیا۔ فردوسی صاحب کو بھی تاش کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے ولو بھائی روڈ لالکڑتی پر ایک بڑا مکان اُنہیں رہائش کے لیے ملا ہوا تھا۔ وہاں راقم ، محترم عرفان صدیقی، راجہ اشتیاق مرحوم، ہمارے ایک رفیق کار ملک غلام رسول مرحوم ، فردوسی صاحب کے پرانے دوست عاصی صاحب جو اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں ملازم تھے اور دوسرے دوست اکثر اکٹھے ہو جایا کرتے تھے اور تاش کھیلتے ہوئے کتنے ہی گھنٹے گزر جاتے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں بھارت کی مداخلت و جارحیت کی وجہ سے 3دسمبر 1971ء کو پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو ہم اکثر جنگ کی خبریں اُن کے گھر بیٹھ کر ٹی وی پر دیکھتے اور سُنا کرتے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کو پسپائی اور دباؤ کا سامنا تھا اور وہاں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ لیکن ہمارے فوجی حکمران اپنی کامیابیوں کے دعوئے کرتے نہیں تھکتے تھے۔ یہاں تک کہ 16دسمبر کو سقوط مشرقی پاکستان کا الم ناک سانحہ رونما ہوا۔ 20دسمبر1971ء کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے صدرِ مملکت اور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھالا تو اُنہوں نے قوم سے طویل خطاب کیا جو رات گئے تک جاری رہا۔ بھٹو کا یہ خطاب بھی ہم فردوسی صاحب کے گھر سُنا۔ فردوسی صاحب بعد میں اپنی فیملی سمیت امریکہ چلے گئے۔ میرے دل میں زندگی کے آخری سانسوں تک اُن کے لیے احسان مندی اور تشکر کے جذبات موجود رہیں گے ۔

میں اب ماسٹر لالہ سرور کا ذکر کرنا چاہوں گاسرور صاحب نارمل سکول لالہ موسیٰ میں عرفان صاحب کے کلاس فیلو تھے اِسی واسطے سے میرا اُن کے ساتھ تعلق بنا اور احباب کے نزدیک میری، عرفان صاحب کی اورلالہ سرور صاحب کی رفاقت نے دوستی کی تکون کی شکل اختیار کیے رکھی۔ لالہ سرور کو گھر گرہستی کے معاملات سے بڑی دلچسپی تھی اور وہ اکثر ہمیں اپنے گاؤں ’’کالا پھڈا‘‘ کے قصِے سُنایا کرتے تھے۔ جو روات اور مندرہ کے درمیان جی ٹی روڈ سے ذرا ہٹ کر پاکستان کے پہلے نشانِ حیدر کیپٹن سرور شہید کے گاؤں سنگھوری کے نواح میں واقع ہے ۔سرور صاحب سنٹرل ٹریننگ لاہور سے بی ایڈ کرنے کے بعد ترقی پا کر سی بی ہائی سکول گوالمنڈی راولپنڈی (موجودہ ایف جی پبلک پرائمری سکول گوال منڈی ) میں متعین ہوئے۔ بڑا عرصہ وہ سیکنڈری کلاسوں کو انگریزی پڑھاتے رہے ۔بعد میں ہیڈ ماسٹر کے طور پر ترقی پا کر وہ اٹک چلے گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ اب کئی سال ہو گئے اُن سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی اُن کی کوئی خیر خبر ہے ۔

سی بی ہائی سکول گوال منڈی (موجودہ ایف جی پبلک پرائمری سکول گوال منڈی )کا ذکر چلا ہے تو مجھے وہاں کے کچھ ایسے اساتذہ کے نام یاد آنے لگے ہیں جن کا خیال آتے ہی سر احترام سے جھک جاتا ہے۔ حافظ سعید صاحب، حافظ مشتاق صاحب، مولوی حبیب الرحمن صاحب، اشرف اعوان صاحب (جو بعد میں آر اے بازار سکول کے ہیڈ ماسٹر بنے) اور فقیر محمد رشید صاحب جو بعد میں سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول لالکڑتی میں ٹرانسفر ہوئے۔ ایک سے ایک بڑھ کر قابلِ قدر شخصیات تھیں۔ فقیر محمد رشید صاحب سے توانتہائی قریبی نیازمندانہ تعلقات قائم ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی کے متفقین اور مولانا مودودیؒ کے معتقدین میں شامل تھے۔ 1964ء میں صدر ایوب خان کی حکومت نے

جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے کر اس پر پابندی لگائی تو سرکاری ملازمین کے لیے سوالنامے کی صورت میں ایک حکم نامہ جاری کیا کہ وہ بتائیں کہ جماعت اسلامی سے اُن کا کوئی تعلق تو نہیں۔ فقیر محمد رشید راولپنڈی کینٹ بورڈ کے ملازمین میں غالباً واحد شخصیت تھے جنہوں نے سوالنامے کے جواب میں جماعت اسلامی سے اپنے تعلق کی تردید نہیں کی۔ اس طرح کے قول و فعل میں تضاد نہ رکھنے والے لوگ یقیناًاب ناپید وہ چکے ہیں۔ میرے ماضی کی بھولی بسری مگر قابل قدر شخصیات کا تذکرہ اگر موقع ملا تو چلتا رہے گا۔ آئندہ کسی کالم میں سرسید سکول و کالج کے اپنے کچھ ساتھیوں اور دوسرے احباب کا ذکر کرنے کی کوشش کروں گا۔


ای پیپر