پنجاب میں پکتی کھچڑی
26 نومبر 2018 2018-11-26

ایک دو ہفتہ پیشتر چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک میٹنگ کی وڈیو کے ساتھ آڈیو لیکج (leakage) پنجاب کی سیاست میں ایک ارتعاش پیدا کر گئی۔ بنیادی طور پر یہ میٹنگ مسلم لیگ (ق) کے لیڈران یعنی چوہدری پرویز الٰہی ، طارق بشیر چیمہ اور تحریک انصاف کے جہانگیر خان ترین کے درمیان تھی جس کا مقصد سینٹ کے الیکشن کے لیے مسلم لیگ (ق) کی مکمل حمایت حاصل کرنی تھی۔اس میٹنگ کے دوران بہاول پور سے مسلم لیگ (ق) کے اہم لیڈر طارق بشیر چیمہ کے گورنر پنجاب چوہدری سرور سے متعلق کچھ شکوے تھے جو جہانگیر خان ترین کے گوش گزار کیے گئے تاکہ وہ انہیں پارٹی لیڈر عمران خان کے نوٹس میں لا سکیں۔ اس لیکج کے بعد کچھ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ لیکج چوہدری پرویز الٰہی نے جان بوجھ کر کرائی تاکہ چوہدری سرور پر پریشر ڈالا جائے اور اس طرح پوری تحریک انصاف کو بھی مسلم لیگ (ق) کی اہمیت کا اندازہ کرایا جائے۔ کچھ سیاسی لوگ تو یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگرچہ چوہدری پرویز الٰہی کی پنجاب میں اتنی عددی طاقت تو نہیں ہے لیکن ہیں وہ پنجاب کی سیاست کے بہت تجربہ کار اور جہاندیدہ کھلاڑی۔اسی لیے عمران خان نے جو کہ چوہدری برادرا ن کے متعلق اتنے مثبت خیالات نہیں رکھتے تھے ا لیکشن میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کی اور پھر حکومت میں بھی انہیں اپنے ساتھ رکھا۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کا یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا کیونکہ ان کی سیاسی اور حکومتی کارکردگی میں ناتجربہ کار ٹیم سے اتنے بڑے صوبہ پنجاب کو اکیلے سنبھالنا نہ صرف مشکل ہوتا بلکہ شاید مسلم لیگ (ق) کی حمایت کے بغیر پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہی نہ بن سکتی۔ ہم نے چوہدری پرویز الٰہی کے وزارات اعلیٰ کے دور میں ان کے ساتھ کافی کام کیا ہے اس لیے ہم انہیں کچھ حد تک ضرور جانتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کا اس وڈیو لیکج میں قطعاً کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔یہ صرف اور صرف وڈیو بنانے والوں کی ایک ٹیکنیکل غلطی تھی ۔چوہدری صاحب ایک سمجھدار سیاستدان ہیں وہ ایسی حرکت کے قطعاً مرتکب نہیں ہو سکتے کیونکہ اس لیکج سے مسلم لیگ (ق) کو ایک طرح کیembarrasment کا سامنا کرناپڑا ہے اور چوہدری پرویز الٰہی کو باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے اپنی صفائی دینا پڑی۔دراصل پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت عددی طور پر بہت کمزور ہے اور ان کی یہ کمزوری ہر سو نظر آ رہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں عددی طور پر کمزور ہو کر حکومت کرنا بہت مشکل ہوتا

ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ 2013 ء کے الیکشن کے نتائج کا اعلان جب ہو رہا تھا تو میاں نوا زشریف نے بڑے واضح انداز میں ٹی وی پر live کہا تھا کہ مجھےmajority 2\3 چاہیے۔ میاں صاحب چونکہ اس ملک میں کئی دفعہ حکومت کر چکے ہیں اور اس ملک کے سیاسی نظام کا جتنا انہیں تجربہ ہے شاید ہی کسی اور کو ہو۔اس لیے وہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں کمزور حکومت سے بہتر ہے کہ آدمی اپوزیشن میں بیٹھ جائے کیونکہ اس ملک میں کمزور حکومت کو تو لوگ ایک قدم نہیں چلنے دیتے اور اگر کوئی چلانے کی کوشش بھی کرے تو پھر وہ محاورہ یاد آ جاتا ہے کہ " یہ جینا بھی کوئی جینا ہے للوے " ۔آجکل آپ دیکھ رہے ہونگے کہ پنجاب میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کا پنجاب کی حکومت پرکس قدر پریشرہے ۔کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے کام نہیں ہو رہے اور کبھی کہتے ہیں کہ بیورو کریسی ہماری بات نہیں سنتی ، حالانکہ جس انداز میں انتظامی مشینری کی ٹرانسفر ز پوسٹنگ اس دور میں سیاستدانوں کی خواہش پر ہو رہی ہیں اس کی مثال صوبہ پنجاب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہر سیاستدان اپنے اپنے علاقے میں اپنی مرضی کے افسران لگوا رہا ہے۔ سچ پوچھیں صوبہ پنجاب میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔حکومت کے سو د ن پورے ہونے والے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں پڑتا کہ اختیارات کس کے پاس ہیں۔ کچھ لوگ گورنر چوہدری سرور کو اختیارات کا منبع سمجھتے ہیں تو کچھ سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو انتہائی بآثر شخصیت سمجھتے ہیں ۔ کچھ سینئر وزیر علیم خان کو صوبہ کی طاقتور شخصیت کہتے ہیں۔ البتہ چوہدری سرور اور چوہدری پرویز الٰہی بآواز بلند کہتے ہیں کے وزیراعلیٰ کے تمام اختیارات اور پاورز وزیر اعلیٰ محترم عثمان بزدار کے پاس ہیں ۔ یہ سن کر لوگ ہنس دیتے ہیں ، نہ جانے کیوں۔جس صوبہ میں کسی کو حکومت ہی نظر نہ آتی ہو اس کی کارکردگی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ خانصاحب نے تو پہلے سو دن کی achievements قوم کے سامنے رکھنی ہیں ، لوگ حیرا ں ہیں کہ نجانے وہ حکومت پنجاب کی کونسی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے۔ سیاسی طور پر باشعور لوگ اس تمام صورت حال کا ذمہ دار خود خانصاحب کو سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خانصاحب کو اور ان کی جماعت کو ملک کے سب سے بڑے صوبہ کی حکومت پہلی دفعہ ملی ہے۔ اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کے پاس صوبہ پنجاب کی حکومت ہو اسی کے پاس ہی پورے ملک کی حکومت ہوتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر خانصاحب نے سوچا کہ اس صوبہ کی حکومت کا انتظام وہ خود سنبھالیں گے ۔ انہی عزائم کے ساتھ انھوں نے محترم عثمان بزدار جو نہ صرف حکومتی ایوانوں میں نووارد ہیں بلکہ خود تحریک انصاف میں بھی اجنبی ہیں کو پنجاب کی مسند وزارت اعلیٰ پر براجمان کرا دیا ہے۔پوری دنیا کو معلوم ہے کہ محترم عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ بنانے کے پیچھے صرف ایک ہی ہاتھ ہے اور وہ ہاتھ عمران خان صاحب کا ہے۔ عمران خان صاحب ساری عمر ملکی سیاسی پارٹیوں میں آمریت کا ذکر کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ اس ملک میں پارٹیوں کے اندر کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ پارٹی لیڈر ہی سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے ،وہ جو مرضی آئے فیصلہ کرے ۔ پارٹی کے اندر کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ پارٹی لیڈر کے فیصلے کے خلاف ایک لفظ بھی بول سکے۔ اب ذرا غور کریں ، باتیں کیا ہوتی ہیں اور عملی صورت حال کیا ہوتی ہے۔ خود خانصاحب کیا کر رہے ہیں۔

یوں نظر آتا ہے کہ خانصاحب کا یہی آمرانہ فیصلہ ان کی حکومت اور پارٹی کے لیے باعث پریشانی نہ بن جائے۔پوری پارٹی اس فیصلہ سے ناخوش ہے کیونکہ بزدار صاحب کا تحریک انصاف میں نہ کوئی ماضی ہے اور نہ ہی مستقبل۔اور اگر خانصاحب کا یہ خیال ہے کہ وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر پنجاب کی حکومت چلا لیں گے تو یہ ان کی خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں، کیونکہ نہ خان صاحب میں حکومتی ٹیم بنانے کی صلاحیت ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ۔ ہر آدمی کو نظر آ رہا ہے کہ پنجاب میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اور موجودہ دور میں اس ملک کی بیوروکریسی سکتے کی کیفیت میں ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ بیوروکریسی کے لوگ بہت کمزور دل کے ہوتے ہیں کیونکہ نہ تو ان کے پاس سیاستدانوں کی طرح بڑی بڑی جاگیریں ہوتی ہیں نہ شوگر ملیں اور نہ بڑے بڑے کاروبار۔ خانصاحب اور ان کی ٹیم نے ہر طرف احتساب کا شور مچارکھا ہے، اتنا احتساب ہو نہیں رہا جتنا شور برپا ہے۔ کہیں نیب گرفتاریاں کر رہی ہے تو کہیں ایف آئی اے کی پکڑ دھکڑ ہے۔ اس لیے اس ملک میں بیوروکریسی سہمی ہوئی بیٹھی ہے ۔ نہ کوئی initiative اور نہ decision making ،اوپر سے خانصاحب انہیں غیروں کی بیوروکریسی بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔بظاہر صاف نظر آ رہا ہے کہ صوبہ پنجاب کے حالات خرابی کی طرف مائل ہیں جنہیں سنبھالا دینے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں نہ صرف حکومت نا پید اور کمزور ہے بلکہ تحریک انصاف بھی بطور سیا سی پا رٹی انتشار کا شکار ہے ، کئی گروپس بن چکے ہیں۔ خانصاحب ایک اور یو ٹرن لیں اور عثمان بزدار کی ضد کو جانیں دیں۔ خانصاحب کو شاید اس بات کا اداک نہیں کہ پنجاب میں ان کی حکومت کا آشیانہ ایک بہت کمزور اور نازک ڈالی پر قائم ہے جسے ذرا سی تیز ہوائیں بکھیر کر رکھ دیں گی ۔ ان کی اپوزیشن اس ملک کی سیاسی چالوں میں خاصی مہارت رکھتی ہے، وہ بڑے غور سے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔اور یہاں کے سیاستدان تو ادھر ادھر ہونے میں کوئی خاص دیر نہیں لگاتے۔مشتری ہوشیار باش۔


ای پیپر