ٹرمپ کے الزامات کی اصل حقیقت؟
26 نومبر 2018 2018-11-26

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مختلف ادوار میں نشیب فراز سے دوچار رہے ہیں پاکستان نے جب بھی اپنے مفادات کے تحفظ اور برابری کی سطح کے تعلقات پر زور دیا تو امریکہ نے پاکستان پر الزامات لگائے ۔دہشت گردی کا خاتمہ امریکہ کیلئے ہی نہیں پوری دنیا کیلئے چیلنج ہے جس کے تدارک کے بغیر دنیا میں قیام امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتالیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کیخلاف متحد ہونیوالے اتحادی ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان نہ ہو۔دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے اگر پاکستان کے کردار کو دیکھا جائے تو نائن الیون سے قبل پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے لیکن اس واقعہ کے بعد پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا اہم اتحادی بن کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گیایہی نہیں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بن کر بے شمار قربانیاں دیں۔لیکن امریکہ نے ہمیشہ دہشت گردی کیخلاف کئے جانیوالے پاکستان کے اقدامات اور قربانیوں کو بے ثمر کرتے ہوئے الزامات لگائے جس کے باعث پاک امریکہ تعلقات نزاع کا شکار ہی رہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی پاکستان کو قربانیوں سمیت دل کیساتھ قبول نہیں کیاتاکہ جنوبی ایشیاء کے خطے میں بھارت کو بااختیار نگران بنایا جائے ڈونلڈ ٹرمپ ہی نہیں امریکہ کی پچھلی حکومتیں اور انتظامیہ اس فیصلے پر پہنچی تھی کہ خطے میں نہ صرف بھارت کو اہمیت دی جائے گی بلکہ اس کی اہمیت کو تسلیم بھی کیا جائے گا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم جنوبی ایشیا کو زیرو سم گیم کے طور پر نہیں لیتے اور امریکہ نے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کو الگ الگ کمانڈ کے ذریعے ڈیل کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے کردار کو موردالزام ٹھہرانا اور امریکہ کی توقعات پر پورا نہ اترنے کا الزام دینا امریکہ کی طوطا چشم فطرت کا عکاس ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ کی الزامات سے لتھڑی ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کر کے حقائق واضح کئے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 123ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا اور 75ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ امریکہ نے صرف بیس ارب ڈالر کی امداد دی۔ ٹرمپ کے الزامات کے بعد پاکستان کے بھر پور احتجاج پر امریکی میڈیا نے ٹرمپ کے پاکستان پر لگائے جانیوالے حالیہ الزامات پر شدید تنقید کی کہ امریکہ نے پاکستان کو بھڑکا کر عقلمندی نہیں کی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے

کے بعد نہ صرف امریکہ کی خارجہ پالیسی کھل کر بے نقاب ہوئی بلکہ بری طرح ناکام بھی ہوئی ٹرمپ جو کہ دنیا میں اخلاق باختہ اور غیر سفارتی زبان استعمال کرنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں وہ اپنی ہٹ دھرم خارجہ پالیسی کے ذریعے امریکہ کی عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کی پچھلی حکومتوں کی نسبت میری خارجہ پالیسی بہتر ہے۔حالانکہ ٹرمپ کے برسراقتدار میں آنے سے لیکر ابتک انکی خارجہ پالیسی کا خلاصہ اتنا سا ہے کہ شمالی کوریا کیساتھ معاندانہ پالیسی اور مشرق وسطی میں شام اور ایران کے حوالے سے انکی خارجہ پالیسی کو ہزمیت سے دوچار ہونا پڑا یہی نہیں یروشلم کے سلسلے میں اٹھائے گئے ٹرمپ کا اقدام بری طرح ناکام ہوا بلکہ سنگین ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔اب جو ٹرمپ نے پاکستان پر حالیہ الزامات لگائے ہیں دیکھنا ہوگا کہ امریکہ پاکستان کی امداد بند کر کے دہشت گردی اور افغانستان کیخلاف جنگ کو جاری رکھ سکتا ہے کیا امریکہ جنوبی ایشیاء میں اپنے سامراجی ایجنڈا کی تکمیل پاکستان کے بغیر کر سکتا ہے اس تناظر میں اگر خطے کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے تعاون کے بغیر امریکہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتاامریکہ کو حقائق پر نظر رکھنی چاہیے کہ افغانستان میں امریکہ سمیت ستر ممالک کا اتحاد کولیشن فنڈ کی مد میں سات سو ارب ڈالر خرچ کر کے بھی ناکام ہے اور اب بھی 43فیصد افغانستان پر امریکہ کا کنٹرول نہیں ہے۔موجودہ حالات میں افغانستان میں امریکہ کے انتظامی امور نہ ہونے کے برابر ہیں ‘افغان طالبان مضبوط ہوتے جا رہے ہیں‘منشیات کا کاروبار عروج پر ہے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے تعلقات نزاع کی حالت میں ہیں ایسے میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرانا امریکہ کیلئے نا گزیر ہو چکا ہے۔خطے میں پاکستان کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ امریکہ کو تاریخ پر نظر رکھ کر لگانا چاہیے جب امریکہ کی فوجی طاقت‘اسلحہ اور بارود اس وقت تک ناکارہ تھا جب تک پاکستان نے افغانستان میں سویت یونین سے برسرپیکار امریکی بندوق کیلئے اپنا کندھا پیش نہیں کیا تھا۔امریکہ کو پاکستان پر لگائے جانیوالے الزامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا آج بھی پاکستان نے اپنی بحری‘بری اور فضائی حدود امریکہ اور نیٹو کیلئے کھول رکھی ہے اگر آج پاکستان اپنی ائیر لائن آف کمیونیکیشن کو ہی بند کر دے تو امریکہ کی فضائی جنگ افغانستان میں بند ہو جائے گی کیونکہ امریکہ کیلئے افغانستان میں اپنے ائیر کرافٹ بھیجنے کے لئے پاکستان کے علاؤہ کو ئی اور راستہ نہیں ہے۔امریکہ کے پاس بہت اچھا موقع تھا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اس سے بہتر تعلقات استوار کرتا اور پاکستان بھی نہیں چاہتا کہ امریکہ جیسی اقتصادی اور فوجی قوت کیساتھ تعلقات خراب ہوں واشنگٹن میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کس سمت جا رہے ہیں ۔ ٹرمپ کے پاکستان پر لگائے جانیوالے الزامات کے بعد پاکستان کے شدید احتجاج کے بعد امریکہ کے سنئیر حکام نے دفتر خارجہ کیساتھ تحریری رابطہ کیا اور اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ رواں سال مائیک پومیو کے کئے جانے والے دورہ اسلام آباد میں طے کئے گئے معاملات پر رابطے جاری رکھے جائیں گئے اور امریکہ پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف دی جانیوالی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے امریکہ کو پاکستان کے تعاون کی ضرورت رہے گی۔پینٹا گون کو بھی پاکستان اور امریکہ کے موجودہ کشیدہ تعلقات کی صورتحال سے اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اگر امریکہ نے افغانستان میں رہنا ہے تو پاکستان کیساتھ بہتر تعلقات استوار رکھنا ہونگے۔حالانکہ پاکستان نیٹو سپلائی بھی بند کر سکتا ہے فضائی حدود پر پابندی بھی عائد کر سکتا ہے افغان طالبان کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور یہ بات امریکہ کو بخوبی سمجھ لینی چاہیے کہ افغانستان اور خطے میں پاکستان کے کردار کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔آج اگر پاکستان عزت و احترام کے رشتہ کے تحت اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے چین کیساتھ روابط مضبوط کر رہا ہے اور روس کیساتھ فضائی اور دفاعی نظام کیلئے بات چیت کر رہا ہے تو امریکہ کو بھی چاہیے کہ پاکستان کیساتھ برابری کے تعلقات قائم کر کے اس کے مفادات کا تحفظ کرے۔پاکستان کوئی چھوٹا اور کمزور ملک نہیں ہے وہ اپنے جغرافیائی خدوخال کیساتھ جنوبی ایشیاء میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ملک ہے امریکہ پاکستان کیساتھ ملکر ہی افغانستان میں صلح اور امن قائم رکھ سکتا ہے ٹرمپ نے جو پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر غیر سفارتی زبان کا استعمال کیا ہے مہذب امریکہ کے صدر ٹرمپ کو احساس ہونا چاہیے کہ دنیا کے مہذب معاشروں میں ایسے غیر سفارتی عمل کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔بہتر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جو ٹرمپ کو انہی کی زبان میں صائب مشورہ دیا ہے کہ وہ حقائق جاننے کی کوشش کریں تا کہ امریکہ کیلئے دی گئی پاکستان کی قربانیوں کا انہیں اداراک ہو سکے۔۔۔!


ای پیپر