پچاس سالہ ۔۔۔ ماڈل ۔۔۔؟؟
26 نومبر 2018 2018-11-26

’’مرد کی شادی کے لئے مناسب عمر کیا ہے؟‘‘ پچاس سالہ شفیق اعوان نے ہانپتے کانپتے پارک میں تیز تیز چلتے ہوئے مجھ سے پوچھا ’’آپ اس حد کو کراس کر چکے ہیں؟‘‘ میں نے رک کر شفیق اعوان کے چہرے کی طرف معنی خیز انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’’یہ آپ نے میرے چہرے پر فیصلہ کن نظر ڈالتے ہوئے ’’یہ جھوٹ کیوں بولا‘‘۔۔شفیق اعوان نے سنجیدگی سے پوچھا۔

حضور والا۔۔ چہرہ انسان کے دلی جذبات کا غماز ہوتا ہے۔۔۔ آپ جذباتی نہ ہوں‘؟ آپ نے بند رکو دیکھا ہے؟۔۔۔ ’’ بندرکے دو دماغ ہوتے ہیں‘‘ میرے سوال پر انہوں نے یہ نئی وضاحت پیش کی۔

’’لیکن کیا فائدہ‘‘۔۔۔؟! یہاں آدھے دماغ والے ایسے ایسے کام کر جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے جبکہ بندر دو دماغوں کے باوجود۔۔ماچس جلانے سے قاصر ہے۔۔۔ ہاں میں بتانا چاہ رہا تھا کہ بندراکثر اپنے خاندان کا پورا پورا خیال رکھتا ہے۔۔۔ وہ اپنے بچوں سے بے پناہ پیار کرتا ہے۔۔۔ شاید بندر ہی وہ جانور ہے جو ایک طے شدہ معاشرتی نظام کے تابع رہ کر زندگی گزارتا ہے،

دہلی میں سنا ہے کچھ علاقوں میں جتنے انسان ہیں ان سے کہیں زیادہ بندر وہا ں قیام پذیر ہیں اور چونکہ یہ ہندو مذہب میں ’’مقدس‘‘ سمجھا جاتا ہے اس لئے اس پر تشدد کی وہاں اجازت نہیں حالانکہ بندر وہاں من مانیاں کرتے پھر رہے ہیں۔۔ ویسے ہم نے اپنے ملک کے چڑیا گھروں میں اکثر بندروں کی من مانیاں دیکھی ہیں۔اکثر دیکھا ہے کہ بندر من مانی کرنے میں انسانوں سے کہیں آگے ہیں۔۔۔ بات شروع ہوئی تھی شفیق اعوان کی پچاس سال کی عمر میں ہونے والی شادی سے اور جا پہنچی بندروں کی من مانیوں تک۔

میں نے شفیق اعوان کو سمجھا یا کہ ہر کام اپنے وقت پر ہو تو اچھا لگتا ہے۔۔۔ وقت سے بہت پہلے بھی ٹھیک نہیں اور وقت گزر جانے کے بہت بعد بھی ٹھیک نہیں۔۔۔ پھر تو پچھتاوا ہوتا ہے مایوسی ہوتی ہے یا بہت سی الجھنیں۔۔۔!

’’ تو جب بندہ پچاس سال کی عمر میں معاشی طور پر مستحکم ہوتا ہے تو وہی وقت شادی کے لئے بہتر ہوتا ہے‘‘۔۔۔شفیق اعوان اپنی بات پر قائم تھا۔۔۔۔ جو میں سمجھا وہ میں اسے سمجھا نہیں سکا۔۔۔۔ ہاں البتہ میں نے یہ محسوس کیا کہ وہ ذہنی طور پر مزید بکھر گیا الجھ کر رہ گیا لیکن اپنی ضد پر قائم رہا۔۔۔اچانک شور سا اٹھا۔۔۔۔ میں نے دیکھا کچھ خوبصورت چہرے باغ میں نمودار ہوئے۔۔۔۔ ہم نے اس شور شرابے کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ نامور ماڈل تشریف لائی ہیں۔۔۔۔ ایک صابن کا اشتہار تیار ہو گا۔۔۔ سنا یہ ہے کہ نامور ماڈل سائیکل چلائیں گی۔۔۔ پھر وہ بیلنس خراب ہونے پر گر پڑیں گی۔۔ ہیرو اٹھائے گا لیکن ان کی خوبصورت پوشاک پر داغ لگ جائیں گے اور پھر صابن اور پاؤڈر کا اشتہار چلے گا۔۔۔

ہم نے دیکھا کہ جب جدید دور کی ماڈل نے سائیکل پکڑا اور اس پر سوار ہوئیں تو یوں لگا جیسے وہ سائیکلنگ میں مس ایشیاء کا ایوارڈ جیت چکی ہیں۔۔۔ یہ جاوہ جا۔۔۔ ڈائریکٹر۔۔۔ پروڈیوسر پیچھے سے آ وازیں دے دے کر بلا رہے تھے۔۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وہاں پر موجود سبھی حاضرین’’ ماڈل ‘‘ پر آوازے کس رہے تھے۔۔۔ یعنی ماڈل کو آ وازیں دے دے کر واپس بلانا چاہ رہے تھے۔۔۔وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئیں۔۔۔ پروڈیوسر نے جلدی سے اپنا موبائل فون جیب سے نکالا اور ’’ ماڈل ‘‘ کو مس کال دی۔۔۔’’حضور مس کالیں مت دیں ممکن ہے ماڈل صاحبہ تیز تیز سائیکل چلاتے ہوئے کسی دوسرے پروڈیوسر کو ملنے چلی جائیں۔۔۔ اس لئے آپ کنجوسی نہ کریں۔۔۔ ماڈل کو کال کریں اور واپس آنے کا حکم سوری درخواست جاری کریں۔۔۔۔ اگر ان کا موڈ ٹھیک ہوا تو آ جائیں گی ورنہ جب دل ہوا۔۔۔آئیں گی۔۔۔۔گھبرائیں مت۔۔۔ کال ہوئی۔۔۔بیل بجتی رہی۔۔۔ فون نہیں اٹھایا۔۔۔ سب مایوس ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔۔۔باغ کے درختوں پر کوئے نہ جانے کیوں کاں کاں۔۔ کائیں کائیں۔۔کرنے لگے۔۔۔ پھر سے شور مچ گیا۔۔وہ آ گئیں۔۔وہ آ گئیں۔۔۔بائیں طرف سے دیکھا تو ماڈل نہایت تیزی سے سائیکل چلاتی ہوئی ہنسی مسکراتی چلی آ رہی تھیں۔ میڈم آپ کہاں چلی گئی تھیں۔۔پروڈیوسر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔ جی ۔۔میں باغ کا چکر لگا نے چلی گئی تھی۔ صرف تین کلو میٹر کا تو چکر ہے۔۔۔ ٹھیک پندرہ منٹ میں دیکھ لیں میں چکر لگا کر واپس آ گئی ہوں۔ پروڈیوسر نے التجا کی۔۔۔ ’’میڈم آپ نے نزاکت سے سائیکل چلانا ہے۔۔۔ اور چند گز کے فاصلے پر سائیکل سمیت گر جانا ہے یہ ہی سین کی ڈیمانڈ ہے۔۔۔ دوسرے سین میں بشیر ماہی آگے بڑھ کر آپ کو اٹھائے گا۔۔۔ اور پھر ’’تالیاں‘‘ شفیق اعوان نے آ ہستہ سے کہا تو سب نے گھور کر دیکھا اور ہم چپکے سے باغ میں چکر لگانے لگے۔۔ ابھی ہم نے آدھا چکر ہی مکمل کیا تھا کہ شفیق اعوان نے مجھے متوجہ کیا۔۔۔ وہ دیکھیں ماڈل پھر سے سائیکل چلاتی ہوئی آ رہیں ہیں۔۔۔ ماڈل پاس آ ئیں تو ان کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔۔۔’’السلام علیکم۔۔۔ ماڈل نے سائیکل ایک طرف گراتے ہوئے کہا۔۔۔ وعلیکم السلام۔۔ میں نے جواب دیا۔۔۔’’ارے فریدہؔ آپ۔۔؟!

ہم دونوں ایک پرائیویٹ کالج میں ’’آسان انگلش‘‘ کلاس میں اکٹھے پڑھتے تھے۔۔۔ یہ کوئی پچیس سال پرانی بات ہے۔۔۔ انگلش نہ فریدہ سیکھ سکی نہ مجھے انگلش پر دسترس حاصل ہوئی۔۔۔ میں نے ملازمت اختیار کر لی اور فریدہ نے ایک ہوٹل کے باورچی خانے میں نوکری شروع کر دی۔ فریدہ نے بتایا کہ دو سال پہلے میری اسی ہوٹل کی لابی میں پروڈیوسر رحیم عنایت سے ملاقات ہوئی انہوں نے ماڈلنگ کی دعوت دی اور اب میں ملک کی چوٹی کی ماڈلز میں شریک ہوں۔۔۔ زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے۔ دیر آئددرست آئد۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ فریدہ نے ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی صحیح‘‘ یعنی جاتی عمر میں بھی ماڈل بن کر خود کر نہ صرف منوایا۔۔۔ بلکہ نام اور دولت بھی کمائی۔۔۔ شفیق اعوان نے میرے کندے پر ہاتھ مارا۔۔۔۔ لو بھئی۔۔۔میں نے اس ماڈل سے سبق سیکھ لیا۔۔۔اب میں بلا جھجھک پچاس سال کی عمر میں شادی کروں گا۔ فریدہ۔۔۔ اڑتالیس سال کی عمر میں ماڈل بن کر نام اور دولت کما سکتی ہے تو میں شادی کیوں نہیں کر سکتا۔۔۔۔!

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔شفیق اعوان میری نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔۔۔ ماڈل فریدہ ۔۔۔۔ ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔۔۔ میں بھی ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔۔ کہ دور سے پروڈیوسر صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ آتے دکھائی دیئے۔۔۔ ہم دونوں کو بیٹھے دیکھ کر مسکرائے۔۔۔ جوس کا ایک ایک پیکٹ ہم دونوں کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔۔فریدہ دیر ہو رہی ہے آئیں۔۔۔’’ٹاسک ‘‘ مکمل کریں۔۔۔ پروڈیوسر نے التجا کی۔۔۔ ’’ہو جائے گا۔۔۔۔ ٹاسک ۔۔۔ مکمل‘‘۔۔۔ پروڈیوسر صاحب۔۔۔ ویسے اک رائے ہے میرے۔۔۔۔ میرے ساتھ’’کو سٹار‘‘ کے طور پر مظفر صاحب اگر ہوں تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔ میری ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔جوس کا ایک فوارہ میرے منہ سے نکل کر پروڈیوسر کی سفید شرٹ پر جا گرا۔۔۔’’بوڑھا گھوڑا۔۔۔ لال لگام‘‘۔۔۔میں بولا اور ہنستا ہوا۔۔۔ ایک طرف بھاگ نکلا۔۔پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور نہ ہی پیچھے سے کسی نے آ واز دی۔ میں اکیلا ہی چلتا ہوا کافی دور نکل آ یا۔۔۔ درختوں پر بیٹھے پرندے پھر سے چہچہانے لگے۔۔۔ شفیق اعوان نہ جانے کہاں تھا۔۔۔اور فریدہ کو پروڈیوسر اور اس کا عملہ پھر سے منا کر لے گئے۔۔۔ میں اکیلا ٹریک پہ چل رہا تھا۔۔۔۔’’اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے پھر مجھے بچا لیا‘‘۔۔۔ بلا شبہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔۔۔ پاکستان میں ججزشاید پہلے ہی بحال ہو جاتے۔۔۔ لیکن اس وقت عوام کو پوری دنیا کو شاید اس بات کا اندازہ نہ ہوتا کہ میاں نواز شریف کے پاس سٹریٹ فورس کتنی ہے۔۔۔ شہباز شریف تقریر کے فن سے کس قدر آشنا ہو چکے ہیں۔۔۔ عمران خان، قاضی حسین احمد، وکلاء حضرات اورسول سوسائٹی تربیت کے مراحل سے گزر کر میچور سیاست کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔۔۔۔ بینظیر بھٹو شہید کے دور میں جو پیپلز پارٹی ایک نہایت طاقت ور جماعت تھی لیڈر شپ کے فقدان کے بعد اس پارٹی میں دراڑیں بھی پڑ سکتی ہیں۔محترمہ شیریں رحمن کو جھاڑیں بھی پڑ سکتی ہیں۔

نواز شریف سعودی عرب جاسکتے ہیں تو بوقت ضرورت ہر طرح کے خطرات کے باوجود جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں بھی اتر سکتے ہیں۔۔۔۔ یہ سب عوام پر واضح ہو گیا۔۔۔۔ اور عوام خوش بھی ہو گئے اور مطمئن بھی۔۔۔۔ صدر آصف زرداری نے کیا خوب کہا کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔۔۔ ہمیں ٹھیک ٹائم کا انتظار تھا۔۔۔۔ سو ٹھیک وقت پر ٹھیک کام ہو گیا۔۔۔۔لیکن انہوں نے یہ شعر کیوں پڑھا۔۔۔۔ یہ مجھے سمجھ نہ آئی۔۔۔۔ شاید ان لوگوں کو سمجھ آ گئی ہو جو اندر کی بات جانتے ہیں۔

عوام کو بھی اس سے کوئی خاص سروکار نہیں۔۔۔ سابق صدر پاکستان نے جو شعر پڑھا وہ ملا حظہ کریں۔۔

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے


ای پیپر