ن لیگ اور پی پی کا قصہ ختم ،فواد چوہدری نے بڑی خبر سنا دی
26 نومبر 2018 (18:49) 2018-11-26

اسلام آباد :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک بار پھر اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پوچھتے ہیں کہ اربوں روپے کہاں گئے تو ان کے پسینے چھوٹتے ہیں، مشاہد اللہ اور خورشید شاہ سے پوچھتے ہیں کہ کس طرح تعیناتیاں کی گئیں تو لگتا ہے ان کو ہارٹ اٹیک ہو جائے گا.

یہ اطلاعات سے گھبراتے ہیں،جب ہم پوچھتے ہیں کہ 1.5ٹریلین روپیہ بلوچستان میں کہاں خرچ ہوا گیا تو یہ اٹھ کر کمروں میں بھاگتے ہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں نواز شریف کے منصوبوں کا آڈٹ ہمیں کرنے دیں، ہمارا آڈٹ مسلم لیگ ( ن ) اور پیپلز پارٹی کرلے، یہ اس نظام کو روکنے کے لئے کہتے ہیں کہ بڑے بھائی کے منصوبوں کا آڈٹ چھوٹا بھائی کرے گا، اتنی غیر اخلاقی ڈیمانڈ ہے ان کی اس معاملے میں ، انہوں نے کبھی اخلاقی ڈیمانڈ کی ہی نہیں، اللہ کا شکر ہے کہ ان سے جان چھوٹ گئی ہے، یہ ان سب کے تو آخری آخری الیکشن تھے، اب دیکھتے ہیں نئی لیڈر شپ جو ابھرے گی وہ کیا ہو گی، یہ تو سب قصہ پارینہ ہیں۔وہ پیر کو فیڈرل انفارمیشن کمیشن کی لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اطلاعات تک رسائی کا قانون اب وفاق میں بھی نافذ ہو چکا ہے،ہم نے صحافیوں کو قانون کے ذریعے اطلاعات تک رسائی کا نظام وضع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنی شفافیت ہو گی، اتنی ہی کرپشن کم ہو گی، جب ہم پوچھتے ہیں کہ 1.5ٹریلین روپیہ بلوچستان میں کہاں خرچ ہوا گیا تو یہ اٹھ کر کمروں میں بھاگتے ہیں، قومی اسمبلی میں پوچھتے ہیں کہ اربوں روپے کہاں گئے تو کس طرح ان کے پسینے چھوٹتے ہیں، مشاہد اللہ اور خورشید شاہ سے پوچھتے ہیں کہ کس طرح تعیناتیاں کی گئیں تو ان کے چہرے دیکھا کریں ایسا لگتا ہے ہ ان کو ہارٹ اٹیک ہو جائے گا یہ اطلاعات سے گھبراتے ہیں ۔فواد چوہدری نے کہا کہ جب مجھے پتہ چلا کہ اطلاعات تک رسائی کا ایک ایکٹ تو بن گیا لیکن پچھلی حکومت کمیشن نہیں بنا رہی ، وہ صرف کمیشن لینا جانتے تھے اس طر ح کہ مثبت کمیشن بنا نا نہیں جانتے تھے ، ہم نے کمیشن کو روکنے کےلئے ایک کمیشن بنایا ہے، اب پوچھا جا سکتا ہے کہ کس اخبار اور ٹیلی ویژن کو اشتہار دیئے گئے، ٹھیکیدار کو کتنے پیسے ملے، ساری معلومات ایک ضابطے کے تحت میسر ہوں گی، وسل بلور ایکٹ بھی آ رہا ہے، جس میں 20فیصد رقم کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو ملے گی، اطلاعات تک رسائی کا قانون پنجاب میں پہلے ہی نافذ ہے، اگر کوئی محکمہ دس دن میں معلومات دینے میں ناکام ہو جاتا ہے تو آپ کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں جو متعلقہ محکمہ سے معلومات لے کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں نواز شریف کے منصوبوں کا آڈٹ ہمیں کرنے دیں، ہمارا آڈٹ مسلم لیگ ( ن ) اور پیپلز پارٹی کرلے، یہ اس نظام کو روکنے کے لئے کہتے ہیں کہ بڑے بھائی کے منصوبوں کا آڈٹ چھوٹا بھائی کرے گا، اتنی غیر اخلاقی ڈیمانڈ ہے ان کی اس معاملے میں ، انہوں نے کبھی اخلاقی ڈیمانڈ کی ہی نہیں،عمران خان کو چار سال لگے، چار حلقوں کی دھاندلی کے انصاف کےلئے ڈھونڈتے ڈھونڈتے، ان کو ہم نے چار دن میں کمیٹی بنا کر دے دی، یہ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ 100دن میں کیاکیا؟ ہم نے اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی پلان کی ہے، ہم نے اسٹرکچرل اصلاحات کی ہیں، ہم نے ٹیلی ویژن کو ٹیلی ویژن سینسر شپ سے آزاد کیا، دس سالوں میں پی آئی اے اور اسٹیل مل کو 552ارب روپے کا نقصان ہے، انہوں نے ہمارے ساتھ وہی سلوک کیا جو قصائی بکروں کے ساتھ کرتے ہیں اپوزیشن والے ہر وقت روتے ہیں ، اپنے کرتوتوں کا حساب دینے کا حوصلہ پیدا کریں،یہ بجائے اس کے کہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوں اور ان کی آنکھوں سے آنسو ہی آجائیں ، اللہ کا شکر ہے کہ ان سے جان چھوٹ گئی ہے، یہ ان سب کے تو آخری آخری الیکشن تھے، اب دیکھتے ہیں نئی لیڈر شپ جو ابھرے گی وہ کیا ہو گی یہ تو سب قصہ پارینہ ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان اپنے بچوں کےلئے پیسے نہیں مانگ رہا ہوتا بلکہ پاکستان کے بچوں کےلئے مانگ رہا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیا حکومت پر انحصار کر کے نہیں چل سکتا، آزاد ماڈل بنانے پڑیں گے ، ہم نے 50کروڑ جاری کئے پھر بھی لوگ نکالے جا رہے ہیں، یہ پوچھا جائے کہ کیوں نکالے جا رہے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنائیں گے، ہم نے وہ اقدامات اٹھائے ہیں جو پچھلے ستر سالوں میں نہیں اٹھائے گئے۔ مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کےلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل 225کے سوال کو حل کرنا ہو گا۔


ای پیپر