بھارت کے ہاتھ میں چھری ہے یا اس نے رکھ دی ہے: سراج الحق
26 نومبر 2018 (16:28) 2018-11-26

اسلام آباد :امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اصل مسئلہ سڑک کھولنے اور بند کرنے کا نہیں یا کرکٹ اور بس ڈپلومیسی کا نہیں ، اصل مسئلہ کشمیر ہے ۔ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو باقی تمام اقدامات مصنوعی اور وقتی ہیں۔ یہ نہ ماضی میں ثمرآور ہوئے ہیں اور نہ اب ہوں گے اس لئے ہاتھ ملانے سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ بھارت کے ہاتھ میں چھری ہے یا اس نے رکھ دی ہے ۔ اگر اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔ اس کے اقدامات اس طرح خراب ہیں اور وہ اپنے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تو ہم اگر اپنے موقف پر آگے نہیں بڑھتے ہیں تو کم از کم اس پر ڈٹ تو جانا چاہئے۔ حکومت کے پچھلے 100 دن تو مایوس کن ہیں اللہ کرے اگلے 100 دن بہتر ہوں جن میں عوام کو ریلیف ملے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں، احتساب سب کا بلاامتیاز ہونا چاہئے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرف دیکھا جائے تو بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ خلوص کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دغا اور دھوکہ دیا ہے جنگیں مسلط کی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بارڈر کا مسئلہ نہیں ہے نہ سڑک کھولنے اور بند کرنے کا مسئلہ ہے ۔ بنیادی طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا مسئلہ کشمیر ہے ۔ اگر آپ اصل جڑ کو نہیں پکڑتے تو شاخوں پر جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ کرتارپور بارڈر حکومت کا بالکل کنفیوژ فیصلہ ہے ۔ کرکٹ ڈپلومیسی بس ڈپلومیسی امن کی آشہ فن کاروں کا آنا جانا یہ سب پریکٹس پہلے ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی خیر برآمد نہیں ہو ئی۔ جس طرح وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے بالکل واضح موقف اختیار کیا ہے حکومت کو پوری یکسوئی کے ساتھ اس پر ڈٹ جانا چاہئے۔ جب ہم دنیا کو بتاتے ہیں۔ انڈیا کشمیریوں کے ساتھ ظلم کر رہا ہے ان کا قتل عام کر رہا ہے ۔

دوسری طرف بھارت کے ساتھ ہماری دوستی اور یاری کا سلسلہ چل پڑتا ہے تو پھر دنیا ہمارے موقف کو تسلیم نہیں کرتی جس فیصلے کے پیچھے کوئی لاجک اور کوئی خلوص نہ ہو تو کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ ہوتا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر حکومت اچھا کام کرے گی تو ہم اسے شاباش دینے میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان کی جمہوریت اور معیشت مضبوط ہو سب سے بڑھ کر غریب آدمی کو ریلیف ملے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے بڑے دعوے بھی کئے اچھے نعرے بھی دیئے لوگوں نے بڑی توقعات کے ساتھ اس کو ووٹ بھی دیا تھا مگر حکومت توقعات پر پورا اترتی نظر نہیں آ رہی۔ عوام حکومت کے دیئے پانچ سالہ ایجنڈے پر عملدرآمد چاہتی ہے ۔ اس حکومت کے آنے کے بعد عوام پر مہنگائی کا جو بوجھ پڑا ہے اس سے عوام مایوس ہو گئے ہیں۔ 100 دن تو گزر گئے ہیں۔ اللہ کرے اگلے 100 دن بہتر ہوں ملک میں امن اور خوشحالی آئے۔ شروع دن سے ہی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خوشگوار ماحول نہیں بن سکا۔ یہ ناخوشگوار ماحول بنانے میں اپوزیشن سے زیادہ خود حکومتی وزراء کے بیانات اور رویوں کا ہاتھ ہے ۔ ہم چاہتے ہیں حکومت خود ایک منزل اور نصب العین دے جو فلاحی ریاست کے قیام کا ہو جس میں استحصال ظلم اور دہشت گردی نہ ہو ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے اور آگے بڑھنے کے موقع مل جائے اس وقت تک تو یہ سب چیزیں ناپید ہیں۔ ایک وزیر کچھ اور کہتا ہے ۔ دوسرا اس کی تردید کرتا ہے ۔

ایک منتشر ماحول ہے ہم چاہتے ہیں کہ افراد کی بجائے ادارے مضبوط ہوں قانون کی حکمرانی قائم ہوئی اس حکومت نے احتساب کی بات کی ہے ۔ حکومت احتساب اپنی ذات سے شروع کرے۔ پارٹی کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتوں بیوروکریسی سابق جرنیلوں ججوں اور سیاستدانوں کا احتساب ہو۔ سب کے فیصلے دن کی روشنی میں ہوں۔ جب تک افراد کی بجائے ہمارے ادارے مضبوط نہ ہوں قانون کی حکمرانی نہ ہو بے شک جو بھی وزیراعظم بن جائے اسی طرح چل چلاؤ تو ہو گا لیکن ایک ایسا نظام جس میں ایک عام آدمی اپنے آپ اور اپنی نسلوں کو محفوظ سمجھے وہ نظر نہیں آئے گا۔


ای پیپر