سودن چور کے
26 نومبر 2018 2018-11-26

قارئین کرام، ہم تو بچپن سے ہی یہ سنتے آئے، اور پڑھتے آئے ہیں کہ سودن چورکے ، تو ایک دن سادھ کا ، مگر جب سے ”حکومتی یوٹرن “ جائز قرار دے دیا گیا ہے کہ نظریہ ضرورت کو ”جائز“ سمجھتے ہوئے ، کسی بھی مفاد کے مدنظر خواہ وہ ذاتی ہو، خواہ ملکی ، تو اپنے بیان سے بھی ”منکر“ ہوا جاسکتا ہے۔

جیسے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا، کہ معاہدے اوروعدے ، کوئی آسمانی صحیفے نہیں ہوتے کہ بدلے نہ جاسکیں، موجودہ اور سابقہ حکومت کے درمیان بیان بازی میں اتنی زیادہ ہم آہنگی ومماثلت ہوسکتی ہے، اتفاقیہ ہو، مگر یہ مستقبل کے مفاہمتی، ساتھی بھی بن سکتے ہیں، اور اگر ایسا ہوگیا ، تو پھر یہ دونوں اپنے آپ کو سادھ سمجھنے کے دعویٰ دار بن جائیں گے، سادھ کا لفظی مطلب ہے، نیک، پارسا، پرہیزگار، جوگی، فقیر، سادھو وغیرہ۔

جہاں تک میراخیال ہے ، کہ اپنے آپ کو نیک پاکبازاور پارسا سمجھنا، کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں، نیک کہلانے کا حق دار تو وہ ہے، جسے لوگ نیک کہیں، حضورﷺ کی حدیث ہے، کہ جس کا مفہوم اس طرح سے ہے، کہ ایک انسان نیک نہ ہو، مگر لوگ اسے نیک سمجھیں ، اس سے بہتر ہے کہ بندہ نیک ہو، اور لوگ اسے برا سمجھیں،بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف جہاد تحریک انصاف کا انتخابی نعرہ تھا، اور کوئی بھی باشعور ، محب وطن ، پڑھا لکھا یا ان پڑھ شہری یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دنیا میں محض اس حوالے سے پہچانا جائے، مگر دنیا میں کسی ایک ملک کے سربراہ کا نام میرے ذہن میں نہیں رہا، کہ اس نے اپنے ملک کے عیب ، دوسرے ملک میں جاکر گنوائے ہوں، حالانکہ ہمارے ملک میں بہو اور ساس کے درمیان عموماً ”اینٹ اور کتے کا ویر“ ہوتا ہے، اور اس کا شکار خودموصوف بھی رہے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں، نہ تو بہو ، اور نہ ہی ساس یہ چاہتی ہے، کہ ان کے اختلافات کی کہانیاں ان کے ہمسائے سنیں، میں نے جیسے کہ پہلے عرض کیا تھا، تقسیم ہند سے پہلے ہندوستانی ریاستوں کے نواب اور امراءاپنے بچوں کو تہذیب واخلاق کی تربیت کے لیے لکھنو میں طوائفوں کے پاس کچھ عرصے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے، کیا ہمارے سیاستدان یہ نہیں جانتے کہ ہمارے جان سے پیارے نبی اکرم ﷺ دنیا میں حسن خلق ، اور تربیت اخلاق کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے معبوث فرمائے تھے، مگر ہمارے سیاستدان تو ایک دوسرے کے زندہ یا مردہ والدین کو بھی اپنی دشنام طرازی میں نہیں بخشتے ، یہ ضروری نہیں کہ پیپلزپارٹی، ن لیگ ، یا دوسری کسی بھی جماعت بشمول تحریک انصاف میں کوئی خامی نہ ہو، اور وہ صرف خوبیوں ہی کی مالک ہو،مگریہ انتہائی نامناسب ہے کہ کسی کے عیب کو اس قدر اچھالا جائے، کہ ہمارے معاشرے کے عوام اور نوجوانوں میں تحمل اور برداشت کا جذبہ ہی مفقود ہو جائے، وزیراعظم، حکومت سنبھالنے کے بعد ہی کچھ مثبت کرنے کے بجائے مسلسل یہ نوید سناتے رہیں ، کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، اور سب کو جیل بھیجوں گا، جبکہ ہماری گزارش یہ ہے کہ ان کو جیل بھیجیں یا نہ بھیجےں ، ان سے وہ پیسہ تو نکلوائیں، جو انہوں نے بدعنوانی کے تحت کمایا ہے، نواز شریف سے وہ تین سوارب کیوں نہیں نکلواتے، زرداری سے لوٹی ہوئی رقم واپس لینے میں کیا دیر ہے، جبکہ حکومتی عہدے داروں کا دعویٰ ہے کہ ہمارے ملک میں حکمران جماعت کے سیاستدانوں نے ،جو ایک ماحول بنادیا ہواہے، دوسری جماعتوں کے اراکین کو لامحالہ اور بادل نخواستہ، دعویٰ جواب دعویٰ اور جواب الدعویٰ والے قانون کے ملک میں اس کا جواب دیناناگزیر ہوجاتاہے، جو معاشرے میں ہیجان خیزی کا سب سے بڑا سبب ہے، انسانی، اور حکمرانی کے کاموں کو چاہے وہ مثبت ہوں، چاہے منفی اوپر والا براہ راست دیکھ رہا ہوتا ہے، شاید اسی لیے علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں

اللہ کی دین ہے، جسے دے

میراث نہیں بلند نامی !

ہے آب حیات اسی جہاں میں

شرط اس کے لیے ہے تشنہ کامی!

اس کو مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے ، کہ ”کم بولنا“ ہی انسان کی کامیابی ،یا اکابرین اور رہنماﺅں کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے، کافی عرصہ پہلے دو ڈاکٹروں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، ایک نے اشتہارات کی اتنی بھر مار کی کہ ریلوے سٹیشن سے اپنے کلینک تک مسلسل ہرجگہ ان کے اشتہارات نظر آتے تھے، جب کہ دوسرے ڈاکٹر نے محض اپنے کلینک کے باہر اپنا بورڈ لگایا، میں نے ان سے کہا، کہ آپ کیوں بورڈ اور اشتہار نہیں لگاتے، تو انہوں نے کہا تھا، کہ میرا کام ہی میرا نام بنائے گا، انشاءاللہ میرا کیا ہوا کامیاب آپریشن میرا نام بنائے گا، اور ایسا ہی ہوا، وقت کے صدر مشرف نے اسلام آباد سے ہیلی کاپٹر بھیج کر اپنے کسی عزیز کا ان سے آپریشن کروایا تھا، اور پھر خصوصی طورپر لاہور آنے پر ان کا شکریہ بھی اداکیا۔

اب ہمارے ہم وطن، خود جو ملک میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں، اس پر تبصرے کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے، عمران خان نے جنوبی پنجاب کو دوسرا صوبہ بنانے کی جو حمایت کی تھی، بلکہ وعدہ بھی کرلیا تھا، وزیراعظم کا خود اپنا بھی تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، ان کے وزیر خارجہ، اور خسرو، جو اس صوبے کے روح رواں تھے، اور جنہوں نے سابق وزیراعظم پاکستان میر بلخ شیرمزاری کو اور نصراللہ دریشک کو بھی حکومت پہ دباﺅ ڈالنے کے لیے اکٹھا لا بٹھایا تھا، اب کہاں گئے وہ وعدے، جنوبی پنجاب کا صوبہ، اور اس کا مطالبہ خود اپنی موت آپ مر گیا، کیونکہ ”مستقبل بہت بعید “ میں بھی اس کا کوئی امکان نہیں حتیٰ کہ فیصل آباد کے وکلاءنے جو توڑ پھوڑ کی، اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے کہا کہ وہ وکلاءجنہوں نے توڑ پھوڑ کی، ڈپٹی کمشنر کی بے عزتی کی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا، ہم نے ان کے نام نوٹ کرلیے ہیں، ان کے خلاف فوراً قانونی کارروائی کی جائے گی ....وہ قانونی کارروائی کہاں گئی .... مگر کیا، فیصل آباد میں ہائیکورٹ کا مطالبہ غلط تھا، بالکل جائز مطالبہ تھا، مگر اب تک کیوں پورا نہیں ہوا ؟

قارئین اس سے پہلے کہ پیمرا کے بعد کوئی آمرانہ ادارہ بناکر صحافیوں کی زبانیں بند کردی جائیں ، یہ واقعہ سن لیں ، قارئین میرے بہت پرانے تعلق والے عطا الحق قاسمی صاحب نے جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں ایک کالم لکھاتھا کہ چور گھر کی دیوار پھلانگ کر صحن میں گیا، تو اس نے دیکھا، کہ ایک شخص چارپائی پہ لیٹا ہوا ہے، وہ چپکے سے اندر گیا اور سامان اپنی پگڑی کھول کر اس میں لے آیا، جب وہ باقی سامان لینے اندر گیا، تو اس لیٹے ہوئے شخص نے وہ پگڑی اٹھالی، وہ دوبارہ اندر گیا، اور قمیض اتار کر اس میں سامان لایا، جب باہر رکھا، تو لیٹے ہوئے شخص نے چپکے سے وہ بھی اٹھالی.... چونکہ چورکو بہت جلدی تھی کہ کہیں صبح ہی نہ ہو جائے، اس نے مجبوری میں اپنی دھوتی اتار لی، اور اس نے اس میں سامان بھر لیا، اور باہر آگیا تاکہ باہر کا دروازہ کھول کر فٹافٹ باہر لے جائے جب وہ سامان اٹھانے لگا، تو لیٹے ہوئے شخص نے اچانک بلند آواز میں چورچور کہہ کر آسمان سرپہ اٹھا لیا، یہ صورتحال دیکھ اور اپنے جسم کے سارے کپڑے اتروا کر باہر بھاگنے سے پہلے اس نے گھر کے مالک کی طرف دیکھ کر اسے گالی دی، اور کہا کہ ابھی بھی میں چورہوں۔


ای پیپر