حکومت مخالف تحریک یا احتجاج
26 May 2019 2019-05-26

سچ پوچھیے تو اپوزیشن گزشتہ ایک سال سے حکومت کے ساتھ چھیڑ خانیاں ہی کر رہی ہے۔ بقول غالب ’’چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد‘‘ جواب میں اسے گالیاں، تھپڑ، کرپشن کے طعنے چور ڈاکو کے القابات اور بھانت بھانت کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، اینٹ کا جواب بھاری پتھر سے دیا جاتا ہے۔ فواد چودھری کا تنقید کے تیر برسانے کا اپنا انداز تھا، نشانے کی پروا کیے بغیر تیر چلانے کے قائل تھے، چومکھی لڑنے کے ماہر، معصوم چہرے کے ساتھ زخم لگاتے تھے جو اپوزیشن کے ہر چھوٹے بڑے رہنما کو برا لگتا تھا۔ بندہ چہرے مہرے سے شریف لگے لیکن باتیں شریفوں جیسی نہ کرے تو کیسے برداشت کیا جائے۔ وہ پردہ اسکرین سے غائب ہوئے تو فردوس باجی آگئیں بلکہ چھا گئیں، ان کی باتیں بھی وہی کڑوی کسیلی جنہیں سننے کے بعد منہ میں گڑ کی ڈلی رکھنی پڑے لیکن لہجہ دھیما، ایک طویل دور تک اپوزیشن ہی کا حصہ رہیں۔ ادھر آئی ہیں تو اپوزیشن کے پول کھول رہی ہیں۔ جن ’’چوروں ڈاکوئوں‘‘ کے ساتھ اتنا وقت گزارا ان کے بارے میں سب کچھ جانتی ہیں سو روزانہ ٹی وی اخبارات میں ان ہی کا چہرہ نظر آتا ہے۔ عرض کر رہے تھے کہ چھیڑ خانیاں چل رہی ہیں۔ اچانک اپوزیشن جماعتوں کو جانے کیا سوجھی کہ بیٹھے بٹھائے عید بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ لوگوں نے کہا اعلان قبل از وقت کامیابی کا امکان کم ہے کیا منصوبہ بندی ہے۔ کس بات پر تحریک چلے گی؟ کون سنجیدہ ہے کون غیر سنجیدہ؟ چھیڑ چھاڑ ٹھیک لیکن تحریک قبل از وقت ایجنڈا کیا ہے۔ کس بات پر تحریک چلائیں گے کوئی اسکینڈل، رسی کا کوئی سرا جسے کھینچا جائے اور ناطقہ بند کردیا جائے، ایک اعلان پر کتنے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، مہنگائی پر تحریک چلائیں گے؟ پرانا موضوع ہے، عوام ابھی تک وعدوں پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔’’ بیٹھے ہیں سب تصور خوشحالی لیے ہوئے۔‘‘ مہنگائی کے زلزلے کا پہلا جھٹکا جھیل گئے ہیں۔ دلوں میں رنج اور غم و غصہ پل رہا ہے لیکن دو چار جھٹکوں کے بعد ہی آتش فشاں بنے گا۔ حکومت مخالف تحریک کی فصل پکی نہیں، اس لیے کاٹنے کا وقت نہیں آیا مگر اپوزیشن کے تینوں ’’بڑوں‘‘ کو بڑی جلدی ہے۔ دو کو مستقبل کی فکر تیسرے کو حال کاٹنے کو دوڑ رہا ہے۔ مولانا ہمیشہ اسمبلی میں رہے اب باہر ہیں۔ برا تو لگے گا حکومت مخالف تحریک چلانا ان ہی کی ضد تھی جو باقی دو کی مجبوری بن گئی۔ ایک جیل میں پڑے ہیں ضمانت کی کوشش کی تھی پہلی سماعت ہی میں رد کردی گئی۔ ڈھیل ملے تو ڈیل کی بات چلے باہر سے بھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا۔ دوسرے کو ڈھیل دی جا رہی ہے لیکن ہر پیشی پر گرفتاری کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ضمانت میں توسیع لیکن جیل کے مخصوص سیل کی تزئین و آرائش اور صفائی ستھرائی کی خبریں۔ ’’زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے‘‘ دامن کی فکر ہے پگڑی سنبھال رہے ہیں لیکن دونوں غیر محفوظ، مولانا پرانے تجربہ کار سیاستدان، کمال ہے ابھی تک حالات کا اندازہ نہیں کر پائے کہ ہوا کا رخ بدل گیا ہے، گیلپ سروے ہی پڑھ لیتے، حقیقت پسندانہ تجزیہ کرلیتے تو عوام کے موڈ کا اندازہ ہوجاتا ابھی تک 78 فیصد عوام اتنے تنگ نہیں آئے کہ بجنگ آمد کی نوبت آجائے تو حکومت مخالف تحریک کیسے چلے گی۔ مولانا دس بیس ہزار کارکن اکٹھے کرلیں گے۔ دونوں بڑی جماعتیں فی الحال اتنے کارکن نہیں لا سکیں گی گھر کے حالات کا بخوبی علم ہونے کے باوجود حکومت گرانے چلے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیںعید بعد ٹر، کیا ہوگا؟ کچھ نہیں ہوگا ٹائیں ٹائیں فش، احتجاج برحق تحریک قبل از وقت، احتجاج کریں کہ بقول فردوس باجی یہ اپوزیشن کا حق ہے۔ یہ الگ بات کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھی خطرناک دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے جائیں گے اور وہ بعد میں پکڑے جانے کے خوف سے گائوں دیہات میں چھپتے پھریں گے، حکومت مخالف تحریک کا مشورہ کس نے دیا؟ منصوبہ بندی کس نے کی؟ ایک بندہ ایک بندی شریک، باقی جماعتیں دل و جان سے شرکت پر آمادہ سہی لیکن شرکت سے گریزاں، بندہ بندی دونوں سیاست میں نووارد، دونوں کے والد نیب کے شکنجے میں اس لیے دونوں کو میدان سیاست میں کودنا پڑا اتنا تجربہ نہیں مگر جوش و جذبہ دیدنی، لاٹھیاں پتھر کھا کے ہی تجربات حاصل ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پہلا پتھر پھینکا، ’’بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘‘ اسلام آباد میں ان کا افطار ڈنر تحریک کی ابتدا ٹھہرا۔ سیاسی افطار ڈنروں کا رواج عام ہے۔ سابق حکومتوں میں تو افطار ڈنروں کی بھرمار ہوتی تھی موجودہ حکومت ’’قدرے کنجوس‘‘ واقع ہو رہی ہے جس وزیر مشیر کی جیب میں پیسے ہوں وہ ڈنر دے، لیکن نیب کا ڈر لگا رہے گا اس نے پوچھ لیا پیسے کہاںسے آئے آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں دھر لیے جائیں گے۔ اس لیے افطار ڈنر کم کم ہی ہو رہے ہیں۔ لیکن بلاول نے تو روزانہ پوچھ گچھ کے دور میں بھی عالی شان افطار ڈنر کا اہتمام کر کے دوستوں دشمنوں سب کو اکٹھا کرلیا۔ خلوص تھا یا ضرورت سب بھاگے چلے آئے۔ مریم نواز ن لیگ کا اعلیٰ سطح وفد لے کر پہنچ گئیں۔ اے این پی کے اسفند یار ولی کی عین موقع پر طبیعت خراب، سہمے سہمے میری سرکار نظر آتے ہیں۔ خود تو نہ آئے دو چار رہنما بھیج دیے۔ مولانا فضل الرحمان تو اس دن کے لیے جیسے دن گن رہے تھے کشاں کشاں تشریف لے آئے۔ اختر مینگل حکومتی اتحاد میں شریک، طرح دے گئے۔ دل کسی کے ساتھ تلوار کسی اور کے لیے بے نیام، سیاست کی بھول بھلیاں، گڑ کھائیں گلگلوں سے پرہیز، ہر ہفتہ ایک بیان میں حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی، علیحدگی کا ابھی حکم نہیں آیا، جماعت اسلامی بھی حکومت مخالف جماعتوں میں شامل ہوگئی لیکن سولو فلائٹ کی پالیسی برقرار، عید بعد اکیلے تحریک چلائے گی۔ اپوزیشن کے لیے بڑا سیٹ بیک، ساتھ ہوتی تو ملین مارچ ہوجاتا، واحد جماعت ہے جس کے پاس منظم افرادی قوت اور ایک کال پر میدان عمل میں کود پڑنے کی روایات موجود ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں بڑی جماعتیں، غیر روایتی اتحاد، ندی کے دو کنارے متوازی چل سکتی ہیں مل نہیں سکتیں، کوئی دریا یا پنچند نہیں جس میں جاگریں اور خطرے کا باعث بن جائیں، ن لیگ تنظیم سے عاری، حامیوں کی تعداد لاکھوں کروڑوں ممکن لیکن نواز شریف کو دیکھ کر سڑکوں پر آنے کے قائل، لانگ مارچ کے لیے نواز شریف ماڈل ٹائون سے نکلے تو اچھرہ پہنچتے پہنچتے لاکھوں لاہوریے ساتھ تھے۔ ایک زندہ دل نوجوان اپنا بچہ کندھے پر اتھائے نعرے لگا رہا تھا۔ ’’اوئے نواز شریف کلا ای باہر نکل آیا جے‘‘ (نواز شریف اکیلا ہی باہر نکل آیا ہے چلو ساتھ دو) نواز شریف شاہدرہ پہنچے تو حکومت دہل گئی اور وزیر آباد پہنچتے پہنچتے۔ جج صاحبان آزاد اور بحال کردیے گئے (بعد ازاں اسی نواز شریف کو اقامہ پر تاحیات نا اہل قرار دے دیا گیا) عوام ن لیگ سے زیادہ نواز شریف کے ساتھ ہیں ووٹ دے دیں گے سڑکوں پر نکلنے کا یقین نہیں، نواز شریف تحریک میں شامل ہوتے تو الگ بات تھی مریم نواز کیلئے نیا تجربہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں ’’ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘‘ بلاول کتنے بندے اکٹھے کرلیں گے۔ چھوٹی پارٹیاں بہت چھوٹی کچھ حکم کی منتظر کچھ لبیک والوں کے ’’حشر نشر‘‘ سے خوفزدہ، ساری باتیں مد نظر رکھی جائیں اور عید بعد مولانا فضل الرحمان کی اے پی سی میں ان پر غور کرلیا جائے تو بہتر ہوگا۔ انہی حالات کے پیش نظر چوہدری شجاعت نے قریب کی چیز دکھائی نہ دینے والے چشمہ سے دور کی چیز دیکھ لی ہے اور کہا ہے کہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔ خیر یہ تو ان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ جس شاخ پہ آشیانہ بنا ہے۔ وہی قائم نہ رہی تو کیا بنے گا ،طے کیا پایا؟ پتا نہیں، وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا لیکن فی الحال انگلی نہیں اٹھے گی۔ حکومت مخالف تحریک قبل از وقت اقدام ہوگا۔ البتہ مہنگائی، نا اہلی، اور عوامی مشکلات کے خلاف احتجاج کیا جاسکتا ہے۔ احتجاج ہی بعد میں تحریک کی شکل اختیار کرے گا۔ ابھی تحریک چلانے میں کچھ وقت لگے گا۔ ابھی تو حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی کوئی کل سیدھی نہیں، ڈ ریکولا کا خوف، چھترول کا ڈر، احتجاج کے لیے بھی بہت کچھ سوچنا سمجھنا ہوگا۔ تحریک کے فوری نتائج؟ جواب منفی۔


ای پیپر