پا کستا ن کا اقتصا دی نظا م اور سو دی معیشت
26 May 2019 2019-05-26

قران مجید کی سورۃا لبقرا کا ر کو ع 38(آ یا ت 274سے278)سود کے حر ام ہو نے پر ایک مکمل بیا نیہ ہے۔جس میں سو د لینے اور دینے والوں کو خدااور اس کے پاک ر سو ل ﷺ کے خلا ف جنگ میں مصر و ف ہو نا قرا ر دیا گیا ہے۔چنا نچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستا ن کے ا قتصا دی نظا م کی تبا ہی کی اصل وجہ سو د ی معیشت ہے۔ پا کستا ن کا سو دی معا شی نظا م سر ما یہ دا را نہ ہے اور اس طر ح کی جو نک کے ما نند ہے جو اس نظا م کے سڑا ند شد ہ جو ہڑ میں رو ز گا ر تلا ش کر نے وا لے غر یب اور متو سط طبقہ کا خو ن نچو ڑ تی ہے اور سر ما یہ دار کو تحفظ دیتی ہے۔ سود اس کی بنیا دی ا کا ئی ہے۔ اس کا تو پھر صا ف مطلب یہ ہو ا کہ حکو متِ پا کستا ن سو دی نظا م کو جا ری ر کھ کر غیر آ ئینی اور غیر اسلا می ا قد ا م کی مر تکب ہو رہی ہے۔ اسی طر ح سو دی نظا م پر مبنی ـ’ کا میاب نو جو ا ن پر و گر ام ‘ریا ستِ مد ینہ کے اصو لِ معا ش کی بھی نفی ہے۔اس پس منظر کے سا تھ ذرائع ابلاغ میں کئی طرح کی خبریں ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے۔ کچھ کی پیشگی اطلاعات ہیں، نزول ابھی باقی ہے۔ ان پر بعدمیں بات ہوجائے گی۔ سب سے پہلے معیشت، جس کی او پر تمہید با ند ھی گئی ہے اور جس میں کہنے کی حد تک بہتری کی چند نشانیاں اُفق پر نظر آنا شروع ہوئی ہیں۔ ڈالر چند پیسے سستا ہوا ہے، سونے کے نرخوں میں 800 روپے تخفیف ہوئی ہے اور سٹاک مارکیٹ میں تقریباً 1200 پوائنٹس کی بڑھوتری مشاہدے میں آئی ہے۔ تا ہم ذہن میں ر کھنے کی با ت یہ ہے کہ اس سے صر ف دو روز پہلے سٹا ک ما رکیٹ قر یباً 33000کی حا لیہ نچلی تر ین سطح کو چھو آئی ہے۔ اس کے سا تھ دو سر ی طر ف اقتصادی ٹیم کے ایک اہم رکن کے استعفیٰ کی خبر آئی ہے اور پھر وفاقی معتمد خزانہ بدلے جانے کی خبر ہے۔ دونوں خبریں پریشان کن ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کی شرائط پر اقتصادی ٹیم کے ممبران میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ نے مستعفی ہونے کی وجہ یہ بتائی کہ مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے تناظر میں جو ماحول قائم ہوا ہے، اس میں ملک میں سرمایہ کاری کی اہمیت ثانوی رہ گئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مستعفی ہونے کے لیے یہ موقع بہترین ہے، نہ کہ اس وقت جب انہیں سرمایہ کاری نہ ہونے پر ہر کوئی موردِ الزام ٹھہرارہا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں جانے والے نے یہ پیش گوئی بھی کردی ہے کہ ملک میں خاطر خواہ سرمایہ کاری، بالخصوص بیرونِ ملک سے متوقع نہیں۔ وفاقی معتمد خزانہ کے تبادلے کی جو وجہ گردش کر رہی ہے وہ بھی مالیاتی فنڈ سے معاہدہ ہی ہے۔ جانے والے معتمد خزانہ سابق وزیر خزانہ کی اس ٹیم کے اہم رکن تھے جو مالیاتی فنڈ کے ساتھ فیصلہ کن مرحلے پر مذاکرات کر رہی تھی۔ بتایا جارہا ہے کہ معتمد مذکور کے خیال میں موجودہ مشیر خزانہ جن شرائط پر مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے جارہے ہیں وہ پاکستان کے لیے اچھی نہیں۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیر خزانہ نے مالیاتی فنڈ کی شرائط میں بڑی حد تک نرمی حاصل کرلی تھی۔ ایک بڑی خرابی جو مشیر خزانہ کی مذاکراتی کمزوری کی وجہ سے معاہدے کا حصہ بننے کو ہے۔ یہ ہے کہ اب پاکستان کو مالیاتی فنڈ کی تمام شرائط معاہدہ شروع ہونے پر پورا کرنا ہوں گی جبکہ سابق وزیر خزانہ فنڈ کو اس بات پر آمادہ کرچکے تھے کہ شرائط معاہدے کے دورانیے میں، یعنی تین سال کی مدت کے دوران، رفتہ رفتہ پوری کی جائیں گی۔ اگر ایسا ممکن ہوسکتا تو ملک اور شہریوں کے لیے یقینا کم تکلیف دہ ہوتا۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو جو شرائط مشیر خزانہ طے کررہے ہیں ان سے حکومت کا ایک وعدہ تو پورا ہوتا نظر آرہا ہے، یعنی عوام کی چیخیں نکل جائیں گی؛ اگرچہ سننے والوں کو تو لوگوں کی چیخیں اب بھی سنائی دے رہی ہیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیا ہمارے معاملات ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہیں؟ اگر ہمارے معاملات ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہوں تو ظاہر ہے کہ ہم صرف وہ فیصلے کریں گے اور صرف وہ شرائط ماننے پر آمادہ ہوں گے، جو ہمارے اپنے مفاد میں ہوں گی۔ اگر ہمارے معاملات اغیار کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں تو فیصلے کرنے والوں، فیصلے اپنے ہی حق میں کریں گے، ظاہر ہے ہمارے حق میں نہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کا مفاد ان کا ثانوی ہدف تو شاید ہوسکتا ہے، اولین کبھی نہیں، ہرگز نہیں!

آثار اچھے نہیں۔ ہمارے حالات، ملک کے حالات، ہر فرد کے حالات تیزی سے روبہ زوال ہیں۔ مہنگائی، معاشی بدحالی کے سبب ہر شخص بے حال ہے۔ کمر ٹوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں بچی۔ اگر کوئی کسر ہے تو دوسری خبریں پوری کردیتی ہیں۔ امسال اب تک پولیو کے 19 مریض سامنے آچکے ہیں۔ سنتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب کے پولیو کے لیے فوکل پرسن کو انعام میں کوئی بہتر عہدہ دے دیا گیا ہے۔ سندھ میں ایچ آئی وی نے چھائونی ڈال رکھی ہے۔ سنتے ہیں کہ بھٹو خاندان کا ملکیتی ضلع لاڑکانہ اس معاملے میں سرفہرست ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاری کررہے ہیں۔ وجہ سمجھ سے باہر ہے، سوائے سیاسی وجہ کے۔ جو اُ ن کے لیے تو وجہ ہوسکتی ہے، عام آدمی کے لیے نہیں۔ بچوں، بچیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ جاری ہے۔ تشویش اور شرم دونوں ضروری ہیں۔ جو تیل اور گیس نکلنے کی خوش خبری جناب وزیر اعظم نے قوم کو بنفسِ نفیس دی تھی وہ نہیں نکل رہے۔ ڈرلنگ سائٹ سے کچھ نہیں ملا۔ خبر یہ بھی ہے کہ سعودی عرب سے 3.2 ارب ڈالر کا تیل ادھار ملے گا۔ قیمت کی ادائیگی فی الحال التوا میں رہے گی۔ گو یا ہم ایک ایسی قو م بن چکے ہیں جس کے گھر میں بے سر و ساما نی کا یہ عا لم ہے کہ رو ز مر ہ ضر و رت کی کو ئی سہو لت میسر نہیں لیکن مکین ادھا ر لیکر فا ئیو سٹا ر ہو ٹلز میں لنچ اور ڈ نر کر ر ہے ہیں۔ہم بھو ل ر ہے ہیں کہ سعو دی عر ب سے ملنے و ا لے تیل کی ادائیگی بہرحال کبھی نہ کبھی تو کرنا ہی ہے۔ یہ کیسے ہوگی؟ کب ہوگی؟ اس بارے میں سوچنے کا کسی کے پاس وقت نہیں۔جس طرح ہم دوسرے قرضے حاصل کررہے ہیں، یہ بھی ایک طرح کا قرضہ ہے جو ہمیں ہی ادا کرنا ہے۔ ہمارے معاشی حالات کے پیش نظر اس خبر سے اطمینان ضرور ہوا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں خوش ہونے والی یا فخر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ جس قوم میں عزت نفس کی حس زندہ ہو اسے اس خبر پر خوش ہونے کی بجائے شرمسار ہونا چاہیے! ہم میں عزت نفس ہونے یا نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ہر قرضہ ملنے پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔یعنی پیٹ سے خا لی ، طبیعت خو ش۔


ای پیپر