مودی کی جیت
26 May 2019 2019-05-26

انڈیا میں ہونے والے لوک سبھا کے 17 ویں انتخابات میں توقعات کے عین مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( BJP ) کامیاب ہو گئی ہے۔جبکہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بی جے پی کو 542 میں سے 303 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جوکہ سادہ اکثریت 272 سے زائد ہیں جبکہ اس کے اتحادیوں کو 48 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ کانگریس محض 51 نشستیں جیت سکی جبکہ اس کے اتحادیوں کو 40 نشستیں ملی ہیں۔ علاقائی جماعتیں جن کا تعلق تامل ناڈر، آندرا پردیش، مغربی بنگالی، تلنگانہ اور اڑیسہ سے ہے وہ بھی 102 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

وزیر اعظم مودی کی جماعت کو تمام ایگزٹ پول سے بھی زائد نشستیں ملی ہیں ۔ تمام سروے اور ایگزٹ پول یہ بتا رہے تھے کہ بی جے پی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی مگر اندازے یہی تھے کہ اس کی نشستیں پہلے سے کم ہو جائیں گی۔ ایسا نہیں ہوا۔ وزیر اعظم مودی کو ایک بار پھر اگلے 5 سالوں کا مینڈیٹ مل گیا ہے۔ مودی کی کامیابی میں ان چیزوں نے اہم کردار ادا کیا۔ تنگ نظر، قوم پرستی، مسلم مخالف نعرہ بازی، ہندو توا بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانے کا ایجنڈا، میڈیا کی مکمل حمایت، انڈیا کی کارپوریٹ کلاس کی حمایت اور حزب مخالف کی تقسیم۔

مودی جب 21 ویں صدی کے ’’ نئے انڈیا‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو اس سے مراد ہندو ریاست ہے۔ مودی واضح طور پر گاندھی اور نہرو کے سیکولر بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست بنانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے گاندھی اور نہرو کے انڈین قوم پرستی اور سیکولر ازم کے مقابلے میں ہندو قوم پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے۔ وہ گاندھی اور نہرو کے بھارت کو مودی کا بھارت بنا رہے ہیں۔ جن کی بنیاد نفرت اور تقسیم پر ہے۔ اگلے 5 سال اب وہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔

مودی کے بیانیے کے تین بڑے حصے یا اجزاء ہیں۔ ہندو قوم پر مسلم دشمنی، نیولبرل ازم پر مبنی آزاد منڈی کی معیشت یعنی کارپوریٹ انڈیا کا غلبہ۔ مودی کے نفرت اور تقسیم پر مبنی بیانیے نے گاندھی اور نہرو کے بیانیے کو شکست دے دی ہے۔ مودی ہندو قوم پرستی اور ہندو شناخت کے نعروں اور بیانیے کے ذریعے ذات پات کی بنیاد پر نچلی ذات کی سیاست کرنے والی جماعتوں بہو جن سماج وادی اور سماج وادی پارٹی کے بیانیے کو بھی کمزور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ ہندو قوم کے نعرے کی بنیاد پر مختلف ذاتوں کے تعلق رکھنے والے ہندوئوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ جس طرح ہندو توا بھارت پر ہندوئوں کے غلبے کا ایجنڈا ہ جس کے تحت تاریخ اور ثقافت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہندو قوم پرستی در اصل ذات پات کے نظام کو مضبوط کرنے اور برہنوں کے غلبے کا ایجنڈا ہے۔ مودی اور اس کے ہم خیال اس بیانیے کو فروغ دینے میں کامیاب رہے ہیں کہ ہندو کسی بھی جاتی، ذات، برادری اور گروہ سے تعلق رکھتے ہوں وہ ہندو قوم کا حصہ ہیں اس لیے انہیں ذات پات اور برادری کے تصورات سے اوپر اٹھ کر ہندو قوم پرستی کے تصورات اور تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیانیہ واضح طور پر مسلم دشمنی اور پاکستان مخالفت پر مبنی ہے۔

مودی کی کامیابی میں پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی مسلم دشمنی اور پاکستان مخالف ہندو قوم پرستی کی لہر نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے مودی نے میڈیا کے ذریعے اس تاثر کو پھیلا یا کہ بھارت کو مودی جیسے مضبوط اور دلیر لیڈر کی ضرورت ہے جو کہ پاکستان کو سبق سکھا سکے۔ بھارت کے کارپوریٹ میڈیا نے کھل کر مودی کے بیانیے کو پروان چڑھایا اور مودی کے امیج کو ایک مضبوط قوم پرست اور بھارت کو ترقی دینے کی صلاحیت اور قابلیت رکھنے والے لیڈر کے طور پر اجاگر کیا۔

بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر نے بھی مودی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارت کے تمام بڑے صنعتی اور کاروباری ادارے جو کہ کبھی کانگریس کی حمایت کرتے تھے اب مودی کے حامی اور مدد گار ہیں۔ وہ بھارت میں نج کاری کے ذریعے پبلک سیکٹر کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ایسے لیبر قوانین کے حمایتی ہیں جو کہ کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوں۔ تمام تر مزاحمت اور مخالفت کے با وجود مودی لیبر قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوئے۔ اب ان کا اگلا ہدف نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی معیشت پر مبنی معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھانا اور ریاستی عمل دخل کو معیشت میں مزید محدود کرنا ہے۔ وہ کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کا تحفظ کرنے والے راہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جو کہ ہندو قوم پرستی کے پردے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں، عالمی سرمائے اور نیو لبرل معاشی ایجنڈے کے تحت مقامی سرمایہ داروں کاروباری اداروں کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں اور عوام دشمن اقدامات اور پالیسیوں کو لاگو کر رہے ہیں ۔ بھارت کے میڈیا نے مودی کی معاشی ناکامیوں کو نظر انداز کر کے اسے ’’ نیا بھارت ‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ مودی نے پوری شدت اور طاقت کے ساتھ نیو لبرل معاشی پالیسیوں کو لاگو کیا۔ مودی کے دور میں ایک کروڑ افراد بے روز گار ہوئے۔ غربت اور معاشی بد حالی میں اضافہ ہوا۔ مگر بھارت کا میڈیا اس تاثر کو پھیلا تا رہا کہ مودی کی قیادت میں بھارت نے معاشی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ دوسری طرف اگر کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کو دیکھا جائے تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ وہ مودی کے بیانیے اور زہر آلود نظریات کو بے نقاب کرنے اور اس کے مقابل ایک متبادل بیانیہ سامنے لانے میں کامیاب رہے۔ اگر انتخابات کے نتائج کو بغور دیکھا جائے تو حزب مخالف کی جماعتوں نے مجموعی طو پر بی جے پی اور اتحادیوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں مگر وہ مودی کی کامیابی کو نہیں روک پائے۔ کانگریس بی جے پی کے مقابلے میں قومی سطح کا ایک موثر اور مضبوط اتحاد قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے اپنی حیثیت اور مودی کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔ مودی کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس اور علاقائی جماعتوں کو قومی سطح پر بڑے اتحاد کی ضرورت تھی مگر کانگریس کی قیادت ایسا کرنے میں نا کام رہی۔ مثلاً اگر بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش میں + کانگریس سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج وادی پارٹی کے اتحاد کے ساتھ اتحاد کرنے میں کامیاب ہو جاتی تو بی جے پی کم از کم 25 سے 30 نشتیں ہار جاتی اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو اپنے آبائی حلقے امیٹھی سے شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کانگریس نے اپنی سیاسی طاقت اور حمایت کا درست اندازہ نہیں لگایا اور اس کے نتیجہ بد ترین شکست کی صورت بھگتا۔ کانگریس اور بائیں بازو کی ناکامی کا تفصیلی تجزیہ اگلے کالم میں پیش کروں گا۔

مودی کی اس بڑی کامیابی سے ہندو پسند گروپوں اور تنظیموں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور وہ زیادہ کھل کر مسلم دشمنی اور ہندو انتہا پسندی کا عملی اظہار کریں گے۔ مودی کے دوسرے دور حکومت میں بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست بنانے کی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت مزید بڑھے گی۔ سیاسی مخالفین اور ٹریڈ یونین تحریک کے خلاف اقدامات میں تیزی آئے گی۔ بھارت میں انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست پروان چڑھے گی۔


ای پیپر