ریاست ہوگی ماں کے جیسی
26 May 2019 2019-05-26

کل عزیز دوست خالد مسعود ملہی جو ایک معروف براڈکاسٹر ہیں کی طرف سے دی جانے والی سحری میں اللہ کی بے شمار نعمتوں کو چکھنے کا موقع ملا ۔ بہرحال نعمتوں کا شکر ادا کررہے تھے کہ ٹی وی سکرین پر بریکنگ نیوز دیکھی کہ لاہور شہر میں بارش نے موسم کو مزید سہانا کر دیا ہے۔ سحری کر کے وقت سے پہلے ہی ہم سب جب باہر نکلے تو بوندا باندی اب کافی تیز ہو چکی تھی تو دوڑ لگا کر گاڑی میں سوار ہوئے اور اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کیاکہ اس نے اس سواری سے نوازا وگرنہ آج سحری مکمل بھیگ جانی تھی ۔

گھر واپسی کے دوران داتا دربار کے قریب بننے والی پناہ گاہ پر نظر پڑی ۔ خوبصورت عمارت کو دیکھ کر دل خوش ہو ا اور ایک بار پھر شکر ہے اللہ کا کہ ہمارے حکمرانوں کو بھی غریبوں کا احساس ہوا بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پہلی بار کسی نے ان بے کس و لاچار فٹ پاتھوں پر بھوکے مرتے ہوؤں کو انسان سمجھا۔ بہر حال میں ایک لمحے میں دعا ئے خیر کر کے آگے بڑھ گیا۔ پھر سرکلر روڈ سے گزرتا ہوا ریلوے اسٹیشن کے قریب آگیا ۔ یہاں بھی تمام ہوٹلوں پر سحری کے لیے کافی گہما گہمی تھی کہ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ یہاں بھی ایک اور پناہ گاہ۔ اب کیا تھا کہ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں غیر ارادی طور پر اپنی گاڑی کو پناہ گاہ کی جانب لے گیاکہ دیکھوں تو سہی اندر ہے کیا ؟ مرکزی دروازے کے قریب ہی گاڑی کو روک کرپناہ گاہ کے اندر داخل ہونے لگا تو وہاں کھڑے سیکورٹی گارڈ نے جدید قسم کے سکینر سے تلاشی لی او رانتہائی مہذبانہ انداز میں مجھے اندر جانے کا کہا اور یہ بھی بتایا کہ جناب جلدی کریں سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے ۔ ا س کے خیال سے میں کوئی مسافر ہوں جو یہاں سحری کرنے کی غرض سے آیا ہوں۔ استقبالیہ پر ایک نوجوان نے سلام کیا اور مجھ سے آنے کا مقصد پوچھا تو میں نے اپنا تعارف کرایا اور پناہ گاہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ اس نے کچھ دیر بیٹھنے کو کہا اور استقبالیہ رجسٹر میں کچھ کام کرنے کے بعد مجھے اندر لے گیا۔ یہاں زیادہ تعداد دوسرے شہروں سے آئے ہوئے مسافروں کی تھی جو مہنگے ہوٹلوں یا پھر فٹ پاتھوں پر رات گزارنے کی بجائے اب ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ عین اسی لمحے سحری کا وقت ختم ہوا اور سامنے ہال میں کھانا کھاتے لوگوں نے جلدی سے روزہ کی نیت کی اور جو سحری کر چکے تھے وہ بھی اٹھ گئے تاکہ نماز ادا کریں۔ میرے ساتھ موجود نوجوان نے مجھے تمام ہالز کا مختصراً دورہ کرایا جن میں بہت سے لوگ قیام پذیر تھے۔ عورتوں کے لیے الگ کمرے تھے ۔ ہر ہال کے ساتھ بیت الخلا ء کا بہترین انتظام، موسمی شدت سے بچاؤ کے لیے ایئر کنڈیشنر اور پنکھوں کا انتظام، باہر ایک چھوٹا باغیچہ، وضو خانہ اور عبادت کے لئے الگ جگہ، معذور افراد کے اندر لانے، لے جانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چار دیواری اور سیکورٹی کا بھی موثر نظام ہے۔ اس پناہ گاہ میں ڈاکٹر بھی موجود رہتا ہے جو آنے والوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ آنکھیں کہ ہر پل حیران و ششدر کہ کیا یہ سب میرے پیارے پاکستان میں ہی ہو رہا ہے یا میری گاڑی کہیں تیز رفتاری میں کسی یورپی ملک تو نہیں پہنچ آئی؟ نیز ہر وہ سہولت جس کا شاید کبھی ان لوگوں نے خواب دیکھا ہو، پہلی دفعہ شاعر کی یہ بات سچ ہوتی ہوئی دکھائی دی کہ

ریاست ہو گی ماں کے جیسی

ہر شہری کو پیار کرے گی

پناہ گاہ میں بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور میں پانچ پناہ گاہوں کے قیام کا اعلان کیا اور فوری طورپر عارضی پناہ گاہوں کا بندوبست بھی کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں جن علاقوں کا انتخاب کیا گیا ان میں شہر کے مصروف اڈے اور ریلوے اسٹیشن شامل تھے۔ ان پناہ گاہوں میں اب تک تقریباً چونتیس ہزار سے زائد افراد نے قیام کیا جبکہ لاکھوں افراد کو مفت کھانا بھی دیا گیا۔

انسانی خدمت کے اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک بورڈ آف گورنر تشکیل دیا گیا ہے جس نے دوسرے مرحلے میں اب شہر کے بڑے ہسپتالوں میں بھی پناہ گاہوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں ناصرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان سے لوگ اپنے مریضوں کے ہمراہ علاج معالجے کے لیے آتے ہیں اور پھر ان کو شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے لیے ان ہسپتالوں میں جگہوں کا تعین بھی کر لیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے آئندہ سال کے لیے ایک اے ڈی پی سکیم بھی تیار کر لی گئی ہے جس کے مطابق پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے فنڈز مخیرحضرات سے اکٹھے کئے جائیں گے۔ جبکہ ان کو چلانے کے لیے تمام تر اخراجات حکومت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر قیام و طعام کے لیے آنے والوں کی حفاظت کے پیشِ نظر ان پناہ گاہوں کو نادرہ کے خودکار نظام سے بھی منسلک کیا جائے گا ۔ مزید برآں اس منصوبے کو جلد ڈویژنل اور بعدازاں ضلعی سطح پر وسعت دینے کے لیے ایک جامع پالیسی بھی ترتیب دے دی گئی ہے جبکہ قانون سازی کا عمل بھی جاری ہے جسے جلد منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

انسانی خدمت کے ایسے منصوبے نا صرف وقت کی ضرورت ہیں بلکہ عام انسانوں کو ان سے یہ یقینی تاثر بھی ملتا ہے کہ اب حکمران حکومت نہیں بلکہ جمہور کی فکر کر رہے ہیں ۔ معاشرے سے محرومیاں ختم کر کے برابری اور رواداری کی شمع روشن کر کے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنے لوگوں کی سوچ کو مثبت بنا سکتے ہیں۔

بلا شبہ اس منصوبے کو انتہائی قلیل مدت میں پایۂ تکمیل تک پہنچانے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارک باد کے مستحق ہیں اور آخر میں ان سے ایک عرض کہ عام انسان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ جوشِ خطابت میں کتنے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں ، وہ دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہے ہیں ۔ کرتے جائیے اور آگے بڑھتے جائیے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ۔


ای پیپر