غربت
26 May 2019 2019-05-26

کہا جاتا ہے کہ دنیا کی دو تہائی آبادی کا مسکن جنوبی ایشاء ہے جو انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور بھوٹان پر مشتمل زرخیز خطہ ہے۔ لیکن غربت اس خطہ سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق نصف سے زائد آبادی خطہ کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔اس میں قریباََ 67فیصد بچے بھوک کا شکار ہیں، 30فیصد ناخواندہ ہیں اس کے باوجود سری لنکا کی شرح خواندگی قابل تحسین ہے۔

اس خطہ کی معیشت کا انحصار زراعت، جنگلات، ٹورازم اور معدنیات ہے۔ خطہ کی بد قسمتی دیکھیے کہ 2015؁ء میں دنیا میں آنے والی قدرتی آفات آدھی سے زیادہ نے اپنا رخ جنوبی ایشاء کی طرف کر لیا۔ جس سے اس کی معیشت کو خاصے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں زلزلے، موسم کی حدت اور شدت اور سیلاب وغیرہ شامل تھے۔ اگر ایک نگاہ ہم سائوتھ ایسٹ ایشاء پر مرکوز کریں تو ترقی دیکھ کر ورطہ حیرت میں گم ہو جاتے ہیں اس کی بلند و بالا عمارتیں اس کی ترقی کے نمایاں نشاں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے فنی تعلیم یافتہ معاشرہ، گڈ گورننس سے خوبصورت اقدامات ہیں۔ جو اس خطہ کے عوام کی فی کس آمدنی کو 27گنا بڑھا دیتے ہیں جو قابل توجہ ہے۔

جنوبی ایشاء میں یوں تو دیگر ممالک بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ خطہ در اصل دو ایٹمی طاقت سے ہی پہچاناجاتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان اگرچہ رقبہ کے اعتبار سے ہم پلہ تو نہیں لیکن ان کے عوامی مسائل میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ سرد جنگ ان کے مابین مستقل عنوان ہے۔ جس کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ یوں ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ وسائل کا بڑا حصہ سکیورٹی اور تحفظ کے نام پر مختص کر دیتی ہے۔ جو بچ جاتا ہے وہ عوامی فلاح کی نذر کیا جاتا ہے۔ ہر چندصحت، تعلیم ، ہائوسنگ جیسی بنیادی ضروریات کی ضمانت تو آئین بھی دیتا ہے لیکن یہ دعوہ محض کتابی بات تک محدود ہے ۔عملاََ دونوں ممالک کی عوام بنیادی حقوق ہی سے محروم ہیں۔ بڑا المیہ یہ ہے کہ دونوں کے عوام باہمی رنجشیں بڑھانے میں خاصی دلچسپی لیتے ہیں۔ لیکن مثبت رائے عامہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا نہیں کرتے۔

ہندوستانی عوام ہی کی دیکھیے جس کی حالت ِ زار کسی سے پوشیدہ نہیں اُس نے ایک بار پھر نیندر مودی کو ایک بار پھر اپنا سربراہ منتخب کر لیا۔ جنہوں نے انتخاب سے قبل اس خطہ میں جنگی ماحول ہی پیدا نہیں کیا بلکہ پاکستان کی فضائوں کی کھلی جارحیت کی۔ ہندوستانی معاشرہ کئی ذاتوں اور عقائد پر منقسم ہے اس پہ اخلاقی ذمہ داری تو عائد ہوتی ہے کہ وہ خطہ میں امن کے فروغ میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔ بعض مبصرین کی رائے میں بڑا وزن ہے کہ جنوبی ایشاء کی عدم ترقی میں بڑا کردار بھارتی سرکار کے رویے کا ہے۔ جو سماجی اور معاشی ترقی کی بجائے اپنے وسائل اسلحہ کے انبار لگانے پر صرف کر رہی ہے۔ ردِعمل کے طور پر پاکستانی حکومت کو بھی اس کے نقشِ پا پے چلنا پڑتا ہے۔ اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تو صرف عوام ہیں ہیں۔ جہاں کئی لاکھ بچے آج کی گلوبل ولیج میں بھی پیدائش سے چند ماہ بعد موت کے مُنہ میں چلے جاتے ہیں۔ غذائی قلت ان کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت تک رسائی غالب آبادی کو میسر نہیں۔ ناقص پانی بہت سی بیماریوں کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے۔

9/11کے ما بعد حالات نے اس خطہ کو مزید دہشت زدہ کر دیا ہے۔ خود کش حملوں سے لے کر عبادت گاہوں پر دھماکوں نے عوام کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔ جو پہلے ہی غربت کا دکھ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں سری لنکا میں دہشت گردی اپنے اندر یہ پیغام رکھتی ہے کہ کچھ طاقتوں کو اس خطہ کی خوشحالی دل سے قبول نہیں۔ عوامی مسائل کے علاوہ بہت سے انتظامی معاملات میں بھی اس خطہ کی عوام کی تقدیر میں بُرالکھ چھوڑا ہے۔ ماہرین جنوبی ایشاء میں غربت کی جن وجوہات کا تذکرہ کرتے ہیں ان میں بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی، غذائی قلت، نا خواندگی، صحت کی عدم سہولیات عالمی جاب مارکیٹ میں عدم رسائی اور قدرتی آفات ہیں۔ لیکن اس سے بڑا مسئلہ بیڈ گورننس بھی ہے۔

آبادی کے اعتبار سے یہ علا قہ بڑی مارکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ معیشت کی زبان میں سستی افرادی قوت اور بڑا زمینی رقبہ یہاں دستیاب ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ بڑی طاقتیں دونوں ایٹمی قوتوں کو اپنا دست نگر رکھنے کی خواہاں ہیں۔ ورنہ اسلحہ کی فراہمی کی بجائے سرمایہ کاری کا رخ اس خطہ کی طرف موڑ دیا جائے تو انسانیت کا بھلا ہو سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سارک ممالک پر مشتمل فورم کی تشکیل کا مقصد بھی علاقائی طاقتوں کو باہمی مسائل خود حل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا لیکن یہاں بھی ہندوستانی نیتائوں کی’’ جھوٹی انا‘‘ آڑے آ گئی اور مذکورہ فورم خطہ کی تقدیر بدلنے میں قلیدی کردار ادا نہ کر سکا اور بلاآخر اس ناکامی کی بھاری قیمت بھی عوام ہی کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ اگرچہ سی پیک کے پاک چین منصوبے سے ایک اُمید بر آئی ہے کہ معاشی سر گرمیوں کی تیزی کے نتیجہ میں عوام کے معیار زندگی میں کسی حد تک بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ لیکن اب تلک کی خفیہ کارروائیوں کا کھوج بھی سرحد پار نکلتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی سربراہ اپنی عوام کو خطہ غربت کے نیچے رکھ کر سیاست کو روا رکھنے کے حامی ہیں ورنہ عالمی مارکیٹ تک رسائی کا فائدہ دونوں ممالک کے عوام اُٹھا سکتے ہیں۔

ہم مودی جی کی دوسری کامیابی کو مشروط طور پر بُرا شگون قرار نہیں دیتے یہ ان کی عوام کا فیصلہ اور جمہوریت کی فتح ہے۔ تاہم یہ عرض کیئے دیتے ہیں کہ بغل سے چھری نکال کر اس ’’انا‘‘ کو ذبح کر دیں جو اس خطہ میں غربت کا بڑا سبب ہے۔ ممکن ہے یہ آپ کے لیے بہتر نہ ہو لیکن خطے کا اس میں بھلا ضرور ہے۔


ای پیپر