راہ نجات
26 May 2018 2018-05-26

جب تک موجودہ سیاسی نظام جس نے پوری قوم کو جکڑکر رکھا ہوا ہے کے اجزائے ترکیبی مثلاً وزیراعظم کا عہدہ، ایوان پارلیمنٹ، انتخابات اور آئین مملکت سے نجات حاصل نہیں کر لی جاتی اس وقت تک ہم سیاسی انتشار اور قومی خلفشار سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔۔۔ اس انتشار و خلفشار کی کوکھ سے عدم استحکام جنم لیتا ہے۔۔۔ جس کی بنا پر قوم کی کشتی طوفانوں کی زد میں رہتی اور ساحل مراد سے ہمکنار نہیں ہو پاتی۔۔۔ کسی قسم کی منصوبہ بندی کام نہیں آتی۔۔۔ کوئی پالیسی پائیدار نہیں ہوتی اور ترقی کے خواب چکنا چور ہوتے رہتے ہیں۔۔۔ ہم ایک قدم آگے کی جانب بڑھاتے ہیں تو دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔۔۔ ایک چکر ہے جس میں مبتلا ہیں۔۔۔ ایک دائرہ ہے جس کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔۔۔ آج بھی کم و بیش اسی صورت حال سے دو چار ہیں جس سے قیام پاکستان کے پہلے گیارہ سالوں میں تھے۔۔۔ جس کی وجہ سے مارشل لاء لگانے پڑے۔۔۔ جمہوریت کی پے در پے ناکامیاں دیکھنے کو ملیں۔۔۔ مارشل لاؤں اور نام نہاد جمہوریت دونوں نے قوم کو دھوکہ دیا۔۔۔ مارشل لاء والے صدارتی نظام کے قائل تھے۔۔۔ اس کے تجربات بھی کرتے رہے۔۔۔ ایوب نے اس کی خاطر آئین دیا۔۔۔ اس کے تحت اسمبلیاں بنائیں۔۔۔ صدارتی انتخاب بھی کرایا۔۔۔ پھر ایسی آندھی چلی کہ اس کے بنائے ہوئے سارے نظام کو خش و خاشاک کی طرح آڑا کر لے گئی۔۔۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے بھی اپنے اپنے دور میں صدارتی نظام کا تجربہ کر دیکھا۔۔۔ ناپائیدار اور ناکام ثابت ہوا۔۔۔ مقابلے میں بی جمہوریت یا یوں کہیے سول والوں کی حکمرانی جب جب آئی۔۔۔ اس نے پارلیمانی نظام کو حرز جان بنائے رکھا۔۔۔ اس کے پاؤں بھی آج کی مانند مسلسل اکھڑے رہے۔۔۔ مارشل لاؤں کی راہ ہموار کرتے رہے۔۔۔ خدا نہ کرے پہلے جیسے انجام سے دو چار ہو۔۔۔ مگر آثار اچھے معلوم نہیں ہوتے دو ماہ بعد اگر انتخابات ہو بھی گئے تو امکان غالب ہے آج جس انتشار نے ہمیں لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس طرح کے خلفشار کی کھائی میں گرے ہوئے نظر آر ہے ہیں۔۔۔ اس کی یہ کیفیت زیادہ تکلیف دہ ہو جائے گی۔۔۔ موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام کی روح پوری طرح کھینچ لی جائے گی۔۔۔ بوسیدہ ڈھانچہ باقی رہ جائے گا۔۔۔ اسی کو جمہوریت کا نام دے کر ہر روز نیا ناٹک رچایا جائے گا۔۔۔ دوسرے الفاظ میں ہمارے ملک کے اندر صدارتی اور پارلیمانی نظام دونوں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔۔۔ ان کا بار بار تجربہ کیا جا چکا ہے۔۔۔ کئی آزمائشوں سے گزرے ہیں۔۔۔ حاصل مگر منہ کے بل گرنے کے سوا کچھ نہیں ہوا۔۔۔پس ضرورت ہے تیسرے نظام کی۔۔۔ جو دونوں کی خامیوں سے پاک اور منزہ ہو۔۔۔ وہ کونسا ہو سکتا ہے۔۔۔ جواب سیدھا اور واضح ہے۔۔۔ نظام خلافت! ہم مسلمانوں کے لیے اس سے بہتر نظم مملکت کوئی نہیں۔۔۔ اس کے گن بھی ہمارے یہاں دن رات گائے جاتے ہیں۔۔۔ اس روز سعید کا بڑی بے تابی اور شدت کے ساتھ انتظار رہتا ہے کب نظام خلافت آئے گا۔۔۔ مسلمانوں کا عہد زرین ایک مرتبہ پھر رنگ لائے گا۔۔۔ اس کا پودا دوبارہ شجر توانا بن کر ایسے برگ و بار لائے گا اور ثمرآور ثابت ہو گا کہ پورا چمن کھل اٹھے گا۔۔۔ ہم فیض یاب ہوں گے۔۔۔ تمام دلدّر دور ہو جائیں گے۔۔۔ پوری دنیا کو شاد کام نظر آئیں گے۔۔۔ مگر بدقسمتی یہ ہے گزشتہ کئی صدیوں سے نامساعد حالات کی ماری ہوئی یہ قوم شدید خواہش اور بے شمار تمناؤں کے باوجود اس جنّت ارضی کے اندر داخل ہونے کی اہلیت سے محروم ہے۔۔۔ بار بار ٹھوکریں کھا کر زخموں سے چور بیٹھی ہے۔۔۔ نظام خلافت اپنانے کے قابل نظر نہیں آتی۔۔۔ اس کے لیے لمبی جدوجہد، دہائیون کی تربیت، ایثار اور قربانیوں کی ضرورت ہے۔۔۔ مگر اس وقت تک کیا کیا جائے۔۔۔ اچھے دنوں کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو بیٹھا نہیں جا سکتا۔۔۔ موسم گل تو جب آئے گا سو آئے گا ۔۔۔ فوری طور پر راہ نجات کیا ہے۔۔۔ جس پر چل کر باہم آرام و سکون کی زندگی گزار سکیں۔۔۔ میری رائے یہ ہے درمیانی عرصے کے لیے جو شاید خاصا لمبا ہو سکتا ہے ہم موجودہ نظام کی آلودگیوں سے نجات حاصل کر لیں۔۔۔ اس کی گلی سڑی عمارت کو زمین بوس کر دیں۔۔۔ تعمیر سے پہلے تخریب ضروری ہوتی ہے۔۔۔ زنگ آلودہ، گلے سڑے اور آلودگیوں سے بھرے نظام کی تاریک سرنگ سے باہر نکلیں گے تو روشنی کی کرن شاید نظر آجائے۔۔۔ آئیے تعمیر نو سے پہلے تخریب کا کام ابھی سے شروع کر دیں۔۔۔ زیادہ تاخیر نہ کریں۔۔۔

موجودہ نظام کی بوسیدہ عمارت کو گرانے کے لیے پہلا اور ضروری اقدام وزیراعظم کے عہدے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا ہو گا۔۔۔ جب تک یہ عہدہ برقرار رہے ہم آگے کی جانب نہیں بڑھ سکتے۔۔۔ یہ ہمارے پاؤں کی زنجیر بنا ہوا ہے۔۔۔ اس عہدے اور اس کے منصب داروں کو کام کرنے کا بار بار موقع دیا گیا۔۔۔ ہر مرتبہ مایوس کیا۔۔۔ دو چار یا چھ سات نہیں آج کی تاریخ تک تیرہ کے تیرہ بھگتائے جا چکے ہیں۔۔۔ ہر ایک کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ اس کا دوش کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔۔۔ جو بھی وزیراعظم آیا خود نالائق تھا۔۔۔ نا اہلی اس کے ماتھے پر لکھی ہوتی تھی۔۔۔ دو اڑھائی سال کی حکومت کے بعد اس کی نا لائقی اور نا اہلی پوری طرح آشکارہ ہو جاتی تو بالغ نظر اور محب وطن مقتدر قوتوں کو مجبوراً اسے ٹھکانے لگانا پڑتا مگر جو بھی اس کی جگہ لیتا رہا وہ پہلے سے بدتر ثابت ہوا۔۔۔ بظاہر بڑے بڑے نام سامنے آئے۔۔۔ لیاقت علی ، خواجہ ناظم الدین، چودھری محمد علی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو وغیرہ وغیرہ جبکہ نواز شریف ایک نہیں تین بار آزمایا گیا۔۔۔ سب کھوٹے سکے نکلے۔۔۔ کوئی نا اہل تھا۔۔۔ ایک بڑا نامور تھا مگر قاتل نکلا۔۔۔ آخری کی بہت بڑی چوری پکڑی گئی ہے۔۔۔ آگے جو آئے گا۔۔۔ کیا ان سے بہتر ثابت ہو گا۔۔۔ جی نہیں۔۔۔ اس کا خمیر بھی اسی آٹے سے اٹھے گا۔۔۔ جو پہلوں کا تھا۔۔۔ وزیراعظم کی ذات میں جو نقائص پائے جاتے ہیں سو پائے جاتے ہیں اس عہدے اور منصب کے اندر بھی مضمر ہے صورت اک خرابی کی جو وزیراعظم کی ذات کو مزید گدلا کرتی ہے۔۔۔ یہ عہدہ اور عہدیدار دونوں کم از کم ہمارے ملک کے لیے ناموزوں ثابت ہوئے ہیں۔۔۔ بہتر ہے عہدے کو ہی

ختم کر دیا جائے۔۔۔ وزیراعظموں سے خود نجات مل جائے گی۔۔۔ ہر دو اڑھائی برس بعد ایک کو برطرف دوسرے کو اس کی جگہ لانے کے تکلیف دہ چکر کا گرفتار نہیں ہونا پڑے گا۔۔۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔۔۔ یہ عہدہ نہیں ہو گا تو اس پر براجمان ہونے والے نا اہل قاتل اور چور لامحالہ ہمارے سیاسی اور قومی منظر سے غائب ہو جائیں گے ۔۔۔ ایک بڑے روگ سے جان چھوٹ جائے گی۔۔۔ مقتدر قوتیں بھی ہمیشہ کے لیے سکون کا سانس لیں گی۔۔۔ لہٰذا جس قدر جلد ہو یہ نیک کام کر ڈالنا چاہیے۔۔۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے وزیراعظم آتا کہاں سے ہے۔۔۔ کس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔۔۔ کون اسے ہمارے سروں پر سوار کرتا ہے۔۔۔ آپ جواب دیں گے پارلیمنٹ۔۔۔ بالکل درست۔۔۔ پارلیمنٹ کس بلا کا نام ہے۔۔۔ پھر جواب آئے گا۔۔۔ قوم کے منتخب نمائندوں کا ایوان ۔۔۔ جو بظاہر درست ہے۔۔۔ لیکن بنظر غائر دیکھا جائے تو اس سے بڑی دھوکے کی ٹٹی کوئی نہیں۔۔۔ یہ لوگ قوم کی آنکھوں میں جھول ڈال کر، دھوکہ دے کر، ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت بہا کر اور ووٹروں کو سبز باغ دکھا کر پارلیمنٹ کے اندر آ جاتے ہیں۔۔۔ اس میں بیٹھ کر جعلی اکثریت ثابت کرتے ہیں۔۔۔ جس کی بنیاد پر حکومت بناتے ہیں۔۔۔ ان میں سے ایک وزیراعظم ہوتا ہے باقی چالیس چور۔۔۔ اراکین پارلیمنٹ کی بھاری تعداد خاندانی لوٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔۔۔ وفاداریاں بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔۔۔ ایوان کے اندر کم آتے ہیں۔۔۔ اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے جائز اور ناجائز کام نکلوانے کے لیے وزارتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں ۔۔۔ زیادہ توجہ ان کی اپنی تجوریوں کو مزید بھرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔۔۔ تاکہ جو پیسہ انتخاب پر خرچ کیا تھا اس سے کئی گیا زیادہ کما کر اگلے چناؤ کا بندوبست بھی کر لیا جائے اور اولاد کے لیے بھی دولت کے انبار لگا دیئے جائیں۔۔۔ یہ پارلیمنٹ کے ایوان میں قانون سازی کرنے آتے ہیں۔۔۔ لیکن اس عمل سے پوری طرح بے خبر ہوتے ہیں۔۔۔ لاپروائی بھی برتتے ہیں۔۔۔ اصل کام دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے یا ناقص طریقے سے ہوتا ہے پارلیمنٹ کا ایوان ان کی ناپسندیدہ اور ناجائزہ سرگرمیوں کے لیے آماجگاہ کام دیتا ہے۔۔۔ جس کی بنا پر وہ بلیک میلنگ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔۔۔ پھر کیوں نہ پارلیمنٹ کے وجود پر بھی خط تنسیخ پھیر دیا جائے۔۔۔ اس ایک اقدام کے نتیجے میں نہ صرف وزیراعظم اور اس کے عہدے کی صفائی ہو جائے گی بلکہ وزراء کی فوج ظفر موج، لاتعداد پارلیمانی سیکرٹریوں اور ان کے کندھوں پر سوار ہو کر بقیہ اراکین پارلیمنٹ قوم کو لوٹنے کا جو کاروبار جاری رکھتے ہیں۔۔۔ سب کا صفایا ہو جائے گا۔۔۔ پارلیمنٹ نہ ہو گی تو یہ کہیں کے نہ رہیں گے۔۔۔

اسی سے اگلا سوال پیدا ہوتا ہے۔۔۔ پارلیمنٹ کو کون وجود میں لاتا ہے۔۔۔ جواب اس کا بھی سادہ ہے۔۔۔ انتخابات جو اپنی جگہ ایک بیماری ہیں جس نے قوم کو ناقابل علاج روگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔ یہ اگر نہ کرائے جائیں تو بہت بڑے درد سر سے نجات مل جائے گی۔۔۔ ووٹروں سے جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں۔۔۔ سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر پُرفریب نعرہ ایجاد کرتی ہیں۔۔۔ روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔۔۔ دھاندلی کی جاتی ہے۔۔۔ ہر کوئی اس کا مرتکب ہوتا ہے مگر الزام حریف پر لگاتا ہے۔۔۔ جو کامیاب ہوتا ہے وہ اور اس کی جماعت فتح و کامرانی کے جشن مناتی ہے۔۔۔ جو ہار جاتا ہے وہ اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔۔۔ الزامات اور جوابی الزامات کی بارش ہوتی ہے نیا محاذ جنگ کھل جاتا ہے۔۔۔ کامیاب ہونے والی جماعت اکثریت کے بل بوتے پر حکومت بنا لے تو مخالف جماعتیں اس کا ناطقہ بند کر کے رکھ دیتی ہیں۔۔۔ چلنے نہیں دیتیں۔۔۔ تماشا لگا رہتا ہے۔۔۔ اکثر و پیشتر حکومت کا کام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔۔۔ قوم کا پیسہ، قیمتی وقت، اہلکاروں کی صلاحیتیں پر چیز ضائع ہوتی ہے۔۔۔ پاکستان میں کوئی ایک مرتبہ انتخابات تھوڑی ہوئے ہیں۔۔۔ 1970ء سے یہ کھیل جاری ہے۔۔۔ اب پھر ان کا شور و غوغا ہے۔۔۔ ماہ جولائی میں گیا رہویں بار ہوں گے۔۔۔ پہلے چناؤ نے ہی منفی بلکہ مہلک اثرات دکھا ڈالے تھے۔۔۔ معلوم نہیں اس کے باوجود ہم ان کے نشے میں کیوں مبتلا ہیں۔۔۔ ہر چوتھے پانچویں سال ان کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔۔۔ کرپٹ لوگوں کو ملک و قوم پر سوار کیا جاتا ہے۔۔۔ پارلیمینٹس بنتی اور ٹوٹی ہیں۔۔۔ حکومتی آتی اور جاتی ہیں۔۔۔ وزرائے اعظم اپنی کابینہ سمیت حلف اٹھاتے ہیں۔۔۔ پھر انہیں بر طرف ہونے میں بھی دیر نہیں لگتی۔۔۔ قوم سخت ابہام کا شکار رہتی ہے۔۔۔ انتشار پیدا ہوتا ہے۔۔۔ خلفشار بڑھتا رہتا ہے۔۔۔ یہ سب کچھ انتخابات کی وجہ سے ہوتا ہے اس کانٹے کو بھی جسد قومی سے نکال باہر پھینکنا چاہیے۔۔۔ آخر ان کی ضرورت کیا ہے۔۔۔ ہمارا ملک ویسے ہی باصلاحیت افراد اور انواع و اقسام ٹیکنو کریٹس سے بھرا پڑا ہے۔۔۔ ان کی موجودگی میں انتخابات کے ذریعے نااہل لوگوں کے ہاتھوں قوم کی زمام کار دے دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔۔۔ اسی ضمن میں آخری اور بنیادی سوال یہ ہے انتخابات ہوں یا پارلیمنٹ وزیراعظم اور اس کے نا اہل وزراء ہوں یا ان کی حکومت ان سب کو سند جواز کہاں سے ملتی ہے۔۔۔ ان کے اختیارات کون تفویض کرتا ہے۔۔۔ یہ تمام بلائیں کس کے کھونٹے پر مسلط ہوتی ہیں۔۔۔ جواب اس کا بھی موجود ہے اور ہر ایک کو معلوم ہے۔۔۔ وہ ہے کتاب آئین۔۔۔ زیادہ سے زیادہ دو کلو وزن رکھتی ہے۔۔۔ کاغذ کے ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔۔۔ 1956ء تک وجود نہیں رکھتی تھی تو کیا ملک ہمارا نہیں چلتا تھا۔۔۔ آخر کون سی افتاد آن پڑی تھی جو اسے تیار کر کے نافذ کیا گیا۔۔۔ تب سے بلائے بے درماں بنا ہوا ہے۔۔۔ اچھا کیا پہلے مارشل لاء والوں نے پرزے پرزے کر کے اٹھا پھینکا۔۔۔ مگر 1973ء میں یہ نئے روپ میں ہمارے سروں پر سوار ہو گیا۔۔۔ اسی کے اندر لکھا ہوا ہے کہ انتخابات کرائے جائیں۔۔۔ پارلیمنٹ کو بھی یہی کتاب جواز بخشتی ہے اور وزیراعظم کے سارے اختیار ات اس میں درج ہیں۔۔۔ گویا جملہ بیماریوں کا سرچشمہ یہ واحد دستاویز ہے۔۔۔ جنرل ضیاء الحق اور ان کے اور جنرل مشرف نے کمال تدبر اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے اس کے اندر 58(2)B جیسی ترامیم متعارف کرائی تھیں۔۔۔ بعد میں آنے والے سول لوگوں نے انہیں بھی مٹا ڈالا۔۔۔ ان کی یادگار کے طور پر 62 اور 63 رہ گئی ہیں اگرچہ مفید ثابت ہو رہی ہیں مگر سول لوگوں نے آئندہ موقع پر انہیں بھی ختم کر دینے کی ٹھان رکھی ہے ۔۔۔ جبکہ اس کے اندر ایک شق ایسی ہے جس نے بہت فساد برپا کر رکھا ہے۔۔۔ وہ ہے دفعہ 6۔۔۔ نواز شریف نے اسی کو بروئے کار لا کر جنرل مشرف جیسی محترم شخصیت کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ دائر کر دیا۔۔۔ اس جرم پر اس کی گرد مروڑی گئی تو چیخ و پکار کر رہا ہے۔۔۔ یہ آئین اگر نہ ہوتا ۔۔۔ اس کے اندر دفعہ 6 بھی نہ ہوتی تو جناب جنرل مشرف کو زندگی کے ایام جلاوطنی میں بسر نہ کرنے بہتر ہے ایک یا دو دفعات نہیں پورے کے پورے آئین کو کہیں لے جا کر ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔۔۔ یوں پورے کے پورے بدبودار نظام کی بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے گی۔۔۔ مگر اس سے جو خلا وجود میں آئے گا اسے کون پر کرے گا۔۔۔ ایک اور مارشل لاء؟ نہیں نہیں اس کا نام ہرگز نہ لیجیے۔۔۔ بہت بدنام ہو چکا ہے۔۔۔ ویسے بھی سات آٹھ سال کے اندراپنی وقعت کھو دیتا ہے۔۔۔ خلا کو پر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ محترم چیف جسٹس آف پاکستان ایک آرڈر جاری فرمائیں۔۔۔ حکم صادر کیا جائے کہ اگلے پچاس سالوں کے لیے آئین ہو گا نہ انتخابات نہ پارلیمنٹ اور نہ وزیراعظم۔۔۔ اس کی جگہ سینئر جرنیلوں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور بیورو کریسی کے چنیدہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل حکومت قائم کی جائے۔۔۔ فیصلوں کی آخری طاقت ہر صورت میں قابل قدر جرنیل حضرات کے پاس ہونی چاہیے کیونکہ اعلیٰ ترین ملکی مفادات اور قومی سلامتی کے نازک ترین تقاضوں کا ان سے زیادہ ادراک کوئی نہیں رکھتا۔۔۔ ان دنوں بھی دیکھیے جنرل (ر) اسد درانی نے کیسی ذہانت سے کام لیتے ہوئے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ کتاب لکھ ڈالی ہے۔۔۔ پورے ہندوستان کو رام کر لیا ہے۔۔۔ وہاں سوچا جا رہا ہے کیوں نہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورے کی دعوت دی جائے۔۔۔ اب جو جنرل درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کیا گیا ہے تو اسے سرزنش کی بجائے شاباش ملنی چاہیے۔۔۔ جرنیلوں، ججوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت کا عرصہ دو تین کی بجائے پچاس سال سے کم نہ ہو۔۔۔ اس میں شامل جو حضرات ریٹائر منٹ کی عمر کو پہنچ جائیں ان کی جگہ نئے لے لیں۔۔۔ یوں بغیر کسی رکاوٹ کے نظام چلتا رہے۔۔۔ نصف صدی تک اس کا تجربہ کیا جائے۔۔۔ پورے ملک بلکہ گلی گلی محلے محلے کی صفائی ہو جائے گی۔۔۔ سیاستدان اور ان سے متعلقہ اداروں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔۔۔ اس کے بعد اگر ضرورت محسوس کی گئی تو کوئی نیا نظام متعارف کرایا جائے گا ورنہ اس کو جاری رکھنے میں حرج نہ ہو گا۔۔۔ اس راہ نجات پر چل کر ہم کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔۔۔ اور بلاشبہ قوموں کی صف میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔


ای پیپر