یہ ترقی ہمیں کس موڑ پہ لے آئی ہے
26 May 2018 2018-05-26

ماہ رمضان رحمتیں، مغفرتیں لئے گزرتا چلا جا رہا ہے۔ پکار تو لگ رہی ہے۔ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ اے بدی ، بدکرداری کے شوقین رک جا! (ابن ماجہ) مگر بلند آہنگ موسیقی ، توتکار، چیخ و پکار میں سماعتیں کمزور پڑ چکی ہیں۔ جنت کے سارے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، دوزخ کے سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں ، شیاطین (حقیقی) جکڑ دیئے جاتے ہیں (بخاری) ، (جیسے معزز مہمان کے آنے پر کتا دور لے جا کر باندھ دیا جاتا ہے) ۔ لیکن بہت سے کم نصیب بند دروازے کھٹکھٹاتے ، شیطان کے فراق میں مہینہ گزار دیتے ہیں۔ یہ مہینہ بوسیدہ ،۔۔۔ میلی کچیلی ، بدبودار عادات باطل عقائد نکال پھینکنے ، اجلے ستھرے ہو جانے کا ہے۔ تمناؤں ، خواہشوں ، حسرتوں کی درستی اور تازگی کا ہے۔ رحمن کے عرش سے چلتی عطر بینر ہواؤں سے اعمال و احوال کو معطر کر لینے کا ہے۔ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی زبان میں: علم کی حد سے پر ے بندۂ مومن کے لئے۔۔۔ لذت شوق بھی ہے نعمت دیدار بھی ہے۔ ! سو یہ وہی دن اور راتیں ہیں۔ رب تعالیٰ ہمیں لذت شوق سے بہرہ مند فرمائے۔ ان کم نصیبوں میں سے نہ کرے جو رمضان پا کر بھی محروم رہ جائیں اور حضرت جبرئیلؑ کی بددعا کی مہر ثبت کروا لیں۔ اللھم احفظنا! گردوپیش کیا ہو رہا ہے؟ جسٹس شوکت صدیقی ہلکان ہو گئے نجی چینلوں پر اسلام کا بھرے رمضان میں تمسخر اڑاتے اداکاروں ، اینکروں کا پیچھا کرتے ، ڈانٹتے ڈپٹے۔ مگر نتیجہ وہی کہ چوری سے جائیں ہیرا پھیری سے نہیں جاتے۔ بے خوفی کی حد تو یہ ہے کہ اپنی لاعلمی اور جہل میں اسلام سے کھیلنے والے نہیں جانتے کہ یہ مولوی کا اسلام نہیں، رب کائنات کا دین ہے جو خالق مالک رب ہے۔ جس کے ہم ہیں اور جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا اور جوابدہی ایک جیتی جاگتی اگلی زندگی میں کرنی ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) جہاں نمرود و فرعون اور ابوجہل بھی کان دبائے حاضر ہو گئے۔ کیوں عزرائیل کی ڈیوٹی نجی چینلز نے اپنے سر لے رکھی ہے؟ بہکنے اور بھٹکانے کی؟ دوسری جانب ’او لیول‘ کے امتحان رمضان میں جمعے کے دن ، جمعے کے اوقات منعقد ہوتے رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس کی درستی نہ ہوئی۔ ہفتے کے سارے دن چھوڑ کر ماہ مقدس کا مقدس دن۔؟ سیاستدان ، قیادت کے دعویدار بھی کچھ کم نہیں۔ دانیال عزیز صاحب ڈٹ کر چیونگم چبا رہے تھے کہ صحافی نے ٹوک دیا تو یاد آیا کہ پاکستان میں یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ اسی دوران یہ خبر بھی چلی کہ بحریہ یونیورسٹی نے طلباء طالبات کے لئے پہلے مہذب لباس کا ڈریس کوڈ (ضابطہ) جاری کیا تھا۔ اب ہدایت نامہ یہ جاری ہوا کہ طلباء و طالبات چھ انچ کا فاصلہ رکھیں با ہم کھڑے ہونے ، بیٹھنے میں ! چھونے سے منع کیا۔ جس پر اعلیٰ تعلیم کے ٹھیکے داروں میں ہا ہا کار مچ گئی۔ پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشنوں کی فیڈریشن کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ پاریچ نے یہ نوٹی فیکشن واپس لینے کا مطالبہ فرمایا۔ یعنی فاصلہ چھ انچ سے کم رکھا جانا ، چھونا اور غیر مہذب لباس پہننا تعلیمی ترقی کے لوازم میں سے ہے؟ فرماتے ہیں کردار سازی کی ضرورت ہے۔ چھ انچ سے کم فاصلے پر کونسی کردار سازی فرمائیں گے؟ یونیورسٹی کے اخلاقی حالات اور تعلیمی معیار کا زوال اظہر من الشمس ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ساتھ ہی ’ہراسمنٹ‘ کمیٹیوں کے بنائے جانے کا تقاضا بھی فرمایا جا رہا ہے! طالبات کا لباس اور فاصلہ منفی دہشت گردوں کا سا ہو۔ لیکن نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے۔ یہ جو شکوہ تھا۔ کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر۔ اسے ہراسمنٹ کمیٹیوں کے دفاتر پر لکھ کر لگا دیں۔ پچھلے سال اسلامک یونیورسٹی نے جب طالبات کو رقیق لباس، بلا آستین قمیض، پھنسی ہوئی جینز، ٹائٹس (چھلکا نما پاجامہ) ، میک اپ اور بھاری زیورات سے منع کیا تھا تو اس پر بھی ایسا ہی تنقید کا طوفان اٹھا تھا! یہ الگ کہانی ہے کہ جن گوروں کی تقلید اور شوق میں یہ دیوانے ہوئے جا رہے ہیں، ان کا طالب علم ، تعلیم کے دوران پتہ مار قسم کی محنت کرنا ہے بننے سجنے سنورنے کا ہوش کسے؟۔ رات گئے تک کتابوں لائیبریوں ، کمپیوٹروں میں سر دیئے پڑھتے اور نتائج دیتے ہیں۔ تفریح کی ہوش ملے تو چھٹی کے دن شاید ممکن ہو۔ ان کی طالبات نہ ہماری بیوٹی پارلر برانڈ معطر یونیورسٹی طالبات کی سی ہوتی ہیں نہ دوران تعلیم طلباء عشق عاشقی کے مناظر اور 6 انچ کا فاصلہ، برانڈ شوشوں میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ ہمارے پروفیسر حضرات اس نوٹس پر تو تڑپ اٹھے۔ اور دوسری جانب چکوال کے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں کیمسٹری کے پروفیسر نے طالبات کے نقاب اتروا کر تصاویر اور ویڈیو بنائی۔ وجہ تسمیہ یہ کہ ان حضرت کے نہ پڑھانے اور امتحانات میں نمبر دینے کے لئے رشوت مانگنے پر شکایت کنندہ طالبات کے ساتھ یہ غیر اخلاقی رویہ اپنایا گیا۔ اس پر تعلیم کے مذکورہ بزرجمہروں نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ گر ہمی مکتب وہمی ملا۔ ! عصری تعلیم کو چار چاند لگانے میں جو کسر ہے وہ ان کے ہاتھوں پوری ہو جائے گی۔ اسی دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے پریشان کن افواہیں چل پڑیں۔ دوسال سے ان کے اہل خاندان ، بچھڑے بچوں ، بوڑھی والدہ اور سرگرداں بہن ڈاکٹر فوزیہ کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ انسانی حقوق اور جینوا کنونشنز کے سارے پرخچے اڑائے جاتے ہیں۔ حد درجے متنازعہ ، غیر انسانی 86 سال کی قید بلا حقوق جو ہماری مایہ ناز سائنسدان بیٹی کو دی گئی ہے اس پر پورا ملک گونگے کا گڑ کھائے بیٹھا ہے۔ میڈیا جو ملالہ اور ہر دیگر ایشو پر بڑھ چڑھ کر شہ سرخیاں لگاتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کفر کے ہاتھ بیچی گئی بیٹی پر کوئی کفارہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ بس اتنا ہوا کہ پاکستانی قونصلر خاتون نے جیل میں ڈاکٹر عافیہ سے مل کر خیریت کی خبر دے دی۔ گھر والوں سے اس دور میں دو سالوں میں فون پر بات بھی ممکن نہیں۔؟ پسماندہ علاقے کی کم فہم ، کم علم ، لڑکی کا افسانہ گھڑ کر اس کا ’ملالہ‘ بنا دیا گیا۔ آسمان پر چڑھایا مغرب کی ڈارلنگ بن گئی اور عافیہ اپنے ایمان اور راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کی بنا پر مظلومیت میں ضرب المثل ہو گئی!

اسی دوران امریکہ میں ہر سال گولیوں کی بوچھاڑ سے مرنے والے 30 ہزار میں سے ایک گولی کم عمر پاکستانی بچی کو نگل گئی۔ جسے والدین نے امنگوں آرزؤں کے ساتھ بڑا حوصلہ کر کے بھیجا تھا۔ غم کا کیا عالم ہو گا کہ اب جب اس کے لوٹنے کے وہ شدت سے منتظر تھے تو ان کے خواب امریکی قاتل نوجوان نگل گیا۔ (لیکن اسے تو دہشت گرد کہنے کی بھی اجازت نہیں!) ہمارا معاشرہ جہاں آج بھی17-16 سالہ نوخیز بچی ، چچا ماموں کے گھر بھی دوسرے شہروں میں تنہا نہیں بھیجی جاتی ، کس دل سے اکیلی امریکہ بھیجی گئی ہو گی۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ خون خاک نشنیاں (پاکستانی ہونے کی بنا پر) رزق خاک ہو جائے گا۔ مگر امریکہ تا پاکستان بہت بھاری سوگ منایا گیا۔ پاکستان میں تو ہونا ہی تھا۔ تا ہم غیر معمولی طور پر وزیر اعظم خاقان عباسی بھی ان کے گھر گئے۔ (ہم ان کے ڈاکٹر عافیہ کی خبروں میں پھیلی پریشانی کے تناظر میں ان کے گھر بھی ان سبھی کے جانے کے منتظر رہے۔ لیکن۔ !) جنازے میں گورنر ، وزیر اعلیٰ سندھ ، تمام سیاسی لیڈر ، امریکی کونسل جنرل تھے۔ ایئرپورٹ پر گارڈ آف آنر دی گئی۔ دکھی والدین کے غم میں سبھی شریک ہوئے۔ امریکی سیکرٹری سٹیٹ (اگرچہ امریکہ ہم سے بگڑا بیٹھا ہے) نے تعزیت کی۔ سینٹ کام کے امریکی جنرل کا تعزیتی فون آیا۔ کم عمر طالبہ کی اتنی پذیرائی پر ہم حیرت زدہ یوں تھے کہ ہم پر پیچ و تاب کھاتے، دشمنی پر کمربستہ امریکہ نے ہمارا غم کیونکر کھایا؟ خبروں میں جب امریکی یوتھ ایکس چینج پروگرام (yes) کی تفصیلات پڑھیں تو اندازہ ہوا کہ اس پروگرام کا تحفظ مطلوب و مقصود ہے۔ 9/11 کے بعد پاکستانی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اپنے ہاتھ میں لیکر ان کی ذہن سازی، گلوبل مقاصد کے تحت کرنے کے لئے 2002ء میں یہ پروگرام شروع کیا گیا۔ نوخیز مسلمان طلباء طالبات (زیادہ تعداد طالبات کی) کو اس کے تحت امریکہ لے جا کر خاندانوں کے بیچ رکھ کر امریکی تہذیب اور کلچر سے روشناس کروانے ڈانس پارٹیوں میں شرکت سمیت اور اپنے ڈھب پر لانے کے مقاصد کار فرما ہیں۔ یہ بچی بھی ایک کٹر مذہبی عیسائی گھرانے میں رہی۔ علاقہ بھی کٹر مذہبی تھا۔ جس کے 6 بچے (جو غیر معمولی ہے) ہیں اور جو تادیر گھر پر بچوں کو تعلیم دیتے ہیں (جو ان کے ہاں بنیاد پرست عیسائیوں کا طریقہ ہے) ۔ بچی کی اپنی اٹھان میں بھی خصوصی تذکرہ ، حقوق نسواں اور عورت کو بااختیار بنانے (Empowerment) کے ولولے کا ہے۔ سو اتنی غیر معمولی پذیرائی اس پروگرام کے تحفظ کے لئے ہے کہ کہیں پاکستانی بچے بھیجنا چھوڑ نہ دیں۔ اس گروپ میں بھی 75 طلباء طالبات 10 ماہ کے لئے امریکہ گئے تھے۔ مقصد اگر صرف تعلیم کی ترویج ہوتی تو عافیہ یوں ہر حق سے محروم جیل میں سڑ نہ رہی ہوتی باوجود اعلیٰ ترین سائنسی تعلیم کے۔ اللہ تعالیٰ سبیکا کے والدین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ (آمین) تا ہم کم عمر نوخیز بچیوں کے لئے فیصلے کرتے ہوئے علماء سے اجازت لینا بھی اہم ہے۔ مسلمان بچی کی قدوقیمت، تقدس اور تحفظ کی بنا پر ، جسے اللہ نے مقدم رکھا ہے۔ ہر دنیاوی فائدہ جس کے مقابل ہیچ ہے۔ اسی دوران برطانوی شاہی خاندان میں آنجہانی ڈیانا کی نئی بہو شامل ہوئی۔ بہت سی شاہی روایات ٹوٹیں۔ کنواری باکرہ ملنی تو اب خواب و خیال ہو گئی۔ عقدنامے میں وہ الفاظ بھی میگھن مرکل حذف کر گئی جس میں شوہر کی اطاعت کا عہد مذکور تھا! عمر میں بڑی ہے ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی اطاعت کا عہد باندھا ہو۔ امریکہ اسرائیل میں سفارتخانے سے گریٹر اسرائیل کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ دنیا کا دھیان بٹانے کو یہ شادی خوب رہی! ترقی ہمیں کس موڑ پہ لے آئی ہے۔


ای پیپر