نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا جھگڑا کیا ہے
26 مئی 2018 2018-05-26

دیکھیں اگر میں یہ کہوں کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی جھگڑا ملک و قوم کی ترقی و سالمیت کے حوالے سے ہے ۔ یہ کہ یہ ایک فلاحی ریاست اور سکیورٹی ریاست کا جھگڑا ہے ۔ یہ کہ یہ ایک ترقیاتی معیشت اور جنگی معیشت کا جھگڑا ہے ۔ یہ کہ یہ ترجیحات کا تنازع ہے ۔ یہ کہ یہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا تنازع ہے تو کچھ لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں آئے گی۔ اگر میں یہ کہوں کہ نواز شریف اس ملک کی ترقی و خوشحالی اور یکجہتی و سالمیت چاہتا ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ایسا نہیں چاہتی تو کچھ لوگ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ اور جواب میں کرپشن اور غداری کے فتوے لانا شروع کر دیں گے۔ اور سیاستدانوں کی نااہلیت اور حماقتوں کے قصے بیان کریں گے۔ اچھا ستر اور اسی کی دہائیوں میں میں بھی اپنی اسٹیبلشمنٹ کو لے کر کچھ ایسا ہی جذباتی اور حساس تھا۔ تب میں کہتا تھا۔ ہماری فوج ہمارے ملک کی واحد بائنڈنگ فورس ہے ۔ اور فوج کے ہوتے ہوئے ہمیں سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔
چنانچہ میں یہ نہیں کہتا کہ اسٹیبلشمنٹ اس ملک کی معاشی ترقی اور تعلیمی سدھار نہیں چاہتی۔ اگر میں یہ کہوں گا۔ تو کچھ لوگ کہیں گے۔ میں فوج کے خلاف ہوں۔ مزے کی بات یہ ہے ۔ ان کچھ لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو ایک ہی چیز سمجھ رکھا ہے ۔ حالانکہ یہ حقیقت نہیں۔ ہم جب اسٹیبلشمنٹ کو لے کر بات کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہم فوج کے خلاف ہیں۔ دراصل ہم ان مقتدر حلقوں کی بات کرتے ہیں جنہوں نے اس ملک کی سول بالا دستی کو غضب کر رکھا ہے ۔ سول حکومتوں کے اختیارات سلب کر رکھے ہیں۔ اور اس ملک کی سکیورٹی اور معیشت اور معاشرت کا بیانیہ یہی قابض حلقے ترتیب دیتے ہیں اور منتخب وزیراعظم کی عزت کرنے کو تیار نہیں اور یہی وہ جھگڑا ہے جو منتخب وزرائے اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ستر سالوں سے چل رہا ہے بلکہ یوں کہہ لیں یہ کسی شخص اور اسٹیبلشمنٹ کا جھگڑا نہیں ہے ۔ یہ منتخب وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ کا تنازع ہے ۔ جب ایک شخص منتخب ہو کر وزیراعظم کی سیٹ پر بیٹھتا ہے ۔ تو اسے پتا چلتا ہے ۔ وہ ایک ایسا وزیراعظم ہے ۔ جسے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس ملک کی پالیسیاں بنانے کا اختیار نہیں۔ اچھا کچھ کمزور وزیراعظم اختیارات کے بغیر بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے ۔ جب اسٹیبلشمنٹ ان وزرائے اعظم کو اپنا ذاتی ملازم سمجھ کر ان سے توہین آمیز سلوک کرتی ہے اور درشت رویہ استعمال کرتی ہے ۔ تب ظفراللہ جمالی جیسا مسکین وزیراعظم بھی قبول نہیں رہتا۔ اگر آپ نے اسٹیبلشمنٹ کی حاکمانہ اور سرپرستانہ سائیکی سمجھنا ہو تو آپ شوکت عزیز کو یاد کریں جو ببانگ دہل کہتا رہا۔ جنرل مشرف اس کا باس ہے ۔ پچاس کی دہائی میں بھی ایک وزیر اعظم ایسا آیا تھا۔ محمد علی بوگرا جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ سیدھے آ کر وزیراعظم بن گئے۔ امریکہ کے ساتھ سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدے کیے۔ اسٹیبلشمنٹ سے چھیڑ خانی کی۔ برطرف ہوے اور سیدھے واپس جا کر دوبارہ امریکہ میں سفیر بن گئے اور امریکہ میں پاکستانی سفیر امجد علی یہاں آ کر وزیر خزانہ بن گئے۔ ہے نہ مزے کی بات۔
اچھا کچھ لوگ کہتے ہیں۔ وزرائے اعظم بھیگی بلی کیوں بنتے ہیں۔ مقابلہ کیوں نہیں کرتے۔ اور پھر خود ہی جواب دیتے ہیں۔ چونکہ کرپٹ ہوتے ہیں۔ اس لیے مقابلہ کیا خاک کریں گے۔ یہ بات ٹھیک ہے ۔ جو کرپٹ ہو گا۔ وہ مقابلہ تو نہیں کرے گا۔ جو کمزور ہو گا وہ بھی مقابلہ نہیں کرے گا۔ اور جو مقابلہ کرے گا وہ کرپٹ نہیں ہو گا۔ اور نہ ہی کمزور ہو گا۔ تو اس کا مطلب ہوا۔ نواز شریف کرپٹ نہیں اور کمزور بھی نہیں۔ انہیں تو آفر تھی۔ اور اب بھی ہے ۔ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ لیکن وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ جیل جانے کو تیار ہیں۔ یہ کیسا عجیب آدمی ہے ۔ اسے آرام و آسائش کی زندگی میسر ہے ۔ لیکن وہ اپنے آرام اور اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کر رہا۔ کیا اس سے پہلے لیاقت علی خان کو قتل نہیں کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا گیا۔ بگٹی کو ہلاک نہیں کیا گیا۔ بھٹو کا عدالتی قتل نہیں ہوا۔ تو پھر یہ کیسا شخص ہے جو بے خوف ہو گیا ہے ۔ اچھا کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں۔ تولے گئے تو ہلکے نکلے۔ بھئی تولنے والے آپ کون ہیں۔ کبھی خود کو تولا۔ کبھی کہتے ہیں جب حکومت چھن گئی تو ملک دشمنی پر اتر آیا۔ عجیب شخص ہے ۔ کرپشن الزامات سے بچنے کے لیے اس سے بڑا جرم کر رہا ہے ۔ سیدھا آرٹیکل سکس ہے ۔ یہ بھی کہتے ہیں۔ بطور سابق وزیراعظم راز افشاء نہ کرتا۔ پہلی بات تو یہ ہے ۔ راز افشاء ہوا نہیں۔ محض پراپیگنڈا ہے ۔ ورنہ لگا دیں آرٹیکل سکس۔ وہ تو خود کہہ رہا ہے ۔ ایک قومی کمیشن بناؤ اور یہ سابق وزیراعظم والی بھی خوب ہے ۔ آپ وزیر اعظم کو توہین آمیز طریقے سے نکالو۔ اسے رسوا کرو۔ اسے غدار اور ملک دشمن ڈکلیئر کرو۔ اس کے خلاف بدترین پراپیگنڈا کرواؤ۔ اسے دیوار سے لگا دو۔ اگر وہ سانس لینے کو جگہ مانگے۔ اسے موت کے حوالے کر دو۔ اور جب وہ آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ یہ اعلان کر دے۔ وہ آپ کا ستر سال سے چلایا یہ تماشا مزید نہیں چلنے دے گا۔ تو آپ اسے یاد کروانے بیٹھ جائیں۔ آپ تو سابق وزیراعظم ہو۔ جب آپ سب کچھ کریں تب آپ کو یاد نہیں وہ سابق وزیراعظم ہے ۔ یہ بھی فرماتے ہیں۔ آپ کی مزاحمت سے ملک اور جمہوریت کو نقصان ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی تو ممکن ہے ۔ یہ مزاحمت ہی ملک اور قوم کو سدھار دے۔ اور پھر آپ خود کیوں نہیں یہ سوچتے۔ آپ کو عادت پڑی ہے ۔ کوئی آپ کے سامنے اف نہ کرے۔ آپ کا رسوا کن اور توہین آمیز رویہ خاموشی سے برداشت کرتا رہے۔ شاید وہ ایسا کر بھی لے۔ اگر آپ کی پالیسیوں سے ملک کو فائدہ ہو رہا ہو۔ ملک تو برباد ہو گیا۔ برباد ہو رہا ہے ۔ اور ستم ظریفی یہ ہے آپ اس بربادی کا ذمہ دار بھی سیاستدانوں کو ٹھہراتے ہیں۔ یعنی اختیار آپ کا ۔ ذمہ داری ان کی۔ کیا غیر ریاستی عناصر اتنے ہی اہم ہیں ؟
صرف ایک سال پہلے یہ ملک ایک معاشی ترقی کی راہ پر چل پڑا تھا۔ ہر طرف سے اچھی خبریں آ رہی تھیں۔ اور آج کیا حال ہے ۔ یار کچھ تو سوچو۔ اس ملک کا غریب تو روکھی سوکھی کھا کر جی لے گا۔ آپ جو زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا کیا بنے گا۔ کم ازکم اگلا الیکشن ہی صاف شفاف اور غیر جانبدارنہ کروا دیں۔


ای پیپر