احتساب عدالت میں نواز شریف کا تاریخی بیان
26 May 2018 2018-05-26

پاکستان کے تین دفعہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے احتساب عدالت میں کھل کر واضح بیان دیا ہے کہ ان کو کمانڈو جنرل مشرف کے خلاف غداری کا کیس چلانے کی سزا دی جارہی ہے۔

جو بات پاکستان کے ہر باشعور سیاسی کارکن کے ذہن میں تھی اس کو نواز شریف نے صاف الفاظ میں بیان کر کے دراصل پاکستان کے محب وطن اور باشعور شہریوں کی ترجمانی کی ہے۔

نواز شریف نے بتایا ہے کہ ان کے پاس خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا پیغام آیا تھا جس میں انہیں کہا گیا ’یا تو استعفیٰ دے دیں یا طویل رخصت پر چلیں جائیں‘ مگر انہوں نے اس پیغام کو در خور اعتنا نہ سمجھا اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ا س افسر کے خلا ف کوئی ایکشن بھی نہ لیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ جو لوگ منتخب حکومت یا دوسرے لفظوں میں ’ووٹ کو عزت‘ نہیں دیتے ان کے پاس سیاسی حکومت اور سیاست دانوں کو زچ کرنے کے ایک سے زیادہ طریقہ ہوتے ہیں۔یعنی پلان ایک،دو تین چار!

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان کے چوتھے فوجی حکمران جنرل مشرف نے محترمہ بے نظیر اور نواز شریف کے پاکستان واپس آنے کے سارے راستہ بند کر دیے تھے حتیٰ کسی کے تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی لگادی تھی مگر تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ تاریخ کسی فرد کے تابع نہیں ہوتی۔فرانس کے حکمران جنرل ڈیگال نے ایک قبرستان کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ یہاں وہ لوگ دفن ہیں جن کا خیال تھا کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔

آخر ہم نے دیکھا کہ جنرل مشرف کے زمانے میں ہی بے نظیر پاکستان آئیں گو انہیں زندگی کی قربانی دینی پڑی اور پھر نواز شریف بھی واپس آئے اور تیسری دفعہ وزیر اعظم پر پابندی بھی ختم ہوئی۔

مگر مقتدر لوگوں کا ایک حصہ نوازشریف کو وزیر اعظم کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا لہٰذا ہم سب کو معلوم ہے کہ لاہور میں کپتان عمران خان کے جلسہ کا کس نے اہتمام اور انتظام کیا اور پھر راتوں رات کون لوگ عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو گئے۔

پلان نمبر ایک یہ تھا کہ نواز شریف کو 2013ء کے عام انتخابات میں شکست دی جائے، پلان دو تھا کہ الیکشن کے فواراً بعد دھاندلی کا زور شور سے الزام لگایا جائے اور زبردست ایجیٹیشن شروع کی جائے۔لہٰذا ہم نے دیکھا کہ عمران خان کو اس یقین دہانی کے ساتھ اسلام آباد بھیجا گیا کہ اسلام آباد دھرنے کے دوران نواز شریف سے استعفیٰ لے لیا جائے گا۔ اسی لئے عمران خان بار بار ایمپائر کی انگلی کی بات کرتا تھا۔

پلان کے مطابق نواز شریف مخالف قوتوں نے نواز شریف سے استعفیٰ مانگا مگر نواز شریف نے ان کی بات نہیں مانی۔

اس کے بعد نواز شریف کو ہٹانے کے متبادل پلان پر عمل شروع ہو گیا اور آخر کار متبادل پلان کے تحت نواز شریف وزیر اعظم نہ رہا اور اس کے خاندان والوں کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات چل رہے ہیں۔

اب جب کہ ان مقدمات کا فیصلہ آنے والا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف نے بہت سوچ بچار اور ہر قسم کے خطرات کا ادراک رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ وہ جمہوریت دشمن قوتوں کو ننگا کریں۔

میری نظر میں نواز شریف نے سچ بول کر پاکستان پر بہت بڑا احسان کیا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو پہلے کسی بھی سیاست دان کو حاصل نہیں تھا۔پاکستانی سیاست کو ایک ’ تاریخی جست‘ دی ہے۔ گو اس میں بہت خطرات پوشیدہ ہیں اور ان کے خون کے پیاسے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

لیکن نواز شریف کا تاریخ سے نام نہیں نکال سکتے۔


ای پیپر