جہالت کا ایندھن
26 May 2018 2018-05-26

بچپن کی بھولی بسر ی یادوں کے دریچے کو تازہ کریں تو ہمارے سامنے اسلام کے معاشی نظام کا عکس کچھ یوں نمایاں ہوتا ہے کہ جمعرات کے جمعرات دیہات کی مسجد کے امام صاحب کے گھر کھانا دینا، کسی کی فوتیدگی خدانخواستہ ہوجائے تو مخصوص دن کو بچوں کے ہمراہ انہیں گھر مدعو کرنا، ختم پڑھنے کی درخواست کرنا اور پھر کھانا بانٹنا، اگر فصل اچھی ہوگئی تو غرباء میں گندم تقسیم کرنا گھر میں پرانے کپڑے موجود ہیں تو دیہات یا محلے کے نادر بچوں کو دینا، شب برأت کے موقع پر مسجد میں چندہ دینا اور اگر منت پوری ہوگئی ہوتو کسی دربار پر کالے بکرے کے ہمراہ حاضری دینا اور دیگ پکا کر زائرین میں تقسیم کرنا ، کسی گداگر نے دروازے پر صدا لگائی تو اس کے کشکول میں آٹا ڈالنا شامل ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں عیدین کے موقع پر امام جی کی مالی خدمت کرنا قربانی کی کھال کسی مدرسہ میں پھینک آنا اور جو کوئی گھر مبارک باد دینے آتا اسے عیدی سے نوازنا بھی اس خیرات کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ فطرانہ کی ادائیگی کی صدا نہ آتی ہو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم نہ سنایا جاتا ہو لیکن اسلامی فلاحی معاشی نظام زیادہ تررسم و رواج پر مبنی دکھائی دیتا تھا تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ آج بھی صورت حال یکسر مختلف نہیں۔ناقدین اس رویہ کو سامراجی عہد کا اثر مانتے اور ہندوؤں کے کلچر کا عکس گردانتے ہیں ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسلامی فلاحی معاشی نظام کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا۔ہر مدرسہ، مسجد منبر و محراب سے اسکی افادیت ، ضرورت اور اہمیت کی صدا بلند ہوتی عام فرد کو اسکے فوائد بتائے جاتے معاشی سرگرمیوں کاتذکرہ ہوتا جو اس نظام کی بدولت فروغ پاسکتیں لیکن محدود وژن کے بوجھ تلے دیئے ملاء نے اسکو مسجد اور مدرسہ کی تعمیر تک محدود کرکے ساری سرمایہ کاری کا رخ اس طرف موڑنے میں اپنی بقا ء سمجھی۔حالانکہ تعمیر و تدریس کی ذمہ داری تو اسلامی ریاست کو اٹھانا تھی ان میں صاحب علم، اہل دانش کا تقرر اس کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ اگر ایسا تھا تو اسلام کا جو تصور اس وقت عالمی سطح پر نمودار ہورہا ہے، اس سے بہت مختلف ہوتا۔بھاری بھر آپریشنز کی نہ تو ضرورت پیش آتی نہ ہی دہشت گردی اور انتہاء پسندی فروغ پاتی۔ اک منظم معاشی فلاحی نظام وجود میں آتا تو کسی کے سامنے کشکول پھیلانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔

عشر سے لے کر زکوٰۃ تک فطرانہ سے لے کر قربانی کی کھال تک کے نصاب کا دیا ہوا خوبصورت معاشی نظام اپنے اندر معاشی قوت رکھتا ہے کہ غربت کو امارت میں تبدیل کردے بے سہاروں کا سہارا بن جائے۔ زکوٰۃ لینے کو زکوٰۃ دینے کا اہل بنا دے۔ اس کی آگاہی میں نہ تو مذہبی ذمہ داران نے خاطر خواہ محنت نہ کی نہ ہی میڈیا نے اس کی افادیت سے عوام الناس کو آگاہ کیا آج درباروں، مزاروں اور مساجد میں بھیک مانگتی خوبرو لڑکیاں، نوجوان، مرد اور بوڑھے اس بات کی شہادت ہیں کہ ذمہ داران اس معاشی نظام کو سمجھنے اور نافذ کرنے میں غفلت کے مرتکب ہوئے زکوٰۃ جیسے مذہبی فریضہ کی ادائیگی کو بھی سیاست کی نذ ر کردیا گیا ہے۔ عشر کی کٹوتی کا کوئی اجتماعی نظام ہی موجود نہیں لیکن ٹیکس کی کٹوتی کی فکر ارباب اختیار کو ہمیشہ لاحق رہتی ہے اسے کاٹتا کوئی اور ہے بانٹتا کوئی اور کی عملی تفسیر زکوٰۃ کا نظام۔

دنیا کا جدید اور ترقی یافتہ معاشی نظام کیسے اس کا نعم البدل ہوسکتا ہے جس میں کسی بھی مومن کی سنگین شرعی غلطی کی تلافی کا مادی فائدہ دوسرے انسانوں کو پہنچانے کا پورا پورا اہتمام موجود ہو۔

ذرا قربانی کے فریضہ ہی کا عمیق انداز میں جائزہ لیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ صرف اس فریضہ کی ادائیگی ہی ایک بڑی معاشی سرگرمی کو فروغ دیتی ہے اور بہت سے خاندانوں کا کاروبار اس سے وابستہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک بڑی صفت وجود میں آتی ہے جس میں نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم ہوتے ہیں بلکہ زرمبارلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ امسال رمضان المبارک کے موقع پر محترم مفتی منیب الرحمن نے فطرانہ کی شرح کم از کم سوروپیہ مقرر کی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 1920/- روپے بمشکل کشمش ہے۔ اس طرح فدیہ صوم کی شرح تین ہزار کم سے کم ہے۔ کفارہ صوم چھ ہزار اور کفارہ قسم کم از کم ایک ہزار مقرر کی ہے۔ انہوں نے حوالہ کے طور پر سورۃ البقرہ کی آیت کا ترجمہ پیش کرتے ہوئے رقم کیا ہے پھر جو خوشی سے فدیہ کی مقدار بڑھا کر نیکی میں اضافہ کرے تو اس کیلئے بہتر ہے۔ اسلامی فلاحی معاشی نظام کے فطرانہ کے پہلو ہی کا گہرائی میں تجزیہ کریں جس کی ادائیگی صاحب نصاب پر لازم ہے اور اس سے مہمان اور نومولود بھی مبراء نہیں تو اس عمل کی ادائیگی بھی ایک بڑی معاشی سرگرمی کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔

اس وقت ارض پاک میں بھی بڑی تعداد شرعی عذر کی بدولت روزہ کی فرض کی ادائیگی سے محروم ہے۔ ان پر فدیہ صوم لازم آتا ہے۔ مفتی صاحب کی مقرر کردہ کم سے کم شرح سے بھی ادائیگی کو لازم کیا جائے تو کئی کروڑ رقم امراء کی جیب سے نکل کر مستحقین کے حصے میں شامل ہوجائے گی۔ فطرانہ ،فدیہ کفارہ کی مالی معاونت سے غرباء بھی عہد کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں گے۔اس کے باوجود مشینری گروہوں کا انسانی خدمت کا بیڑا اٹھانا اور کرسمس پر اپنے صارفین کیلئے لوٹ سیل لگانا او ر اس پر ناز کرنا ہمیں دعوت فکر دیتا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اسلامی معاشی نظام عملی شکل کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرکے یہ باور کرائیں کہ انسانیت کی بھلائی معاشی، مادی ترقی کے جو مواقع امیر اور غریب کو بلا امتیاز اس نظام میں حاصل ہیں۔ کوئی دوسرا اس کا عشر عشیر بھی نہیں ۔جہاں غرباء کی مالی معاونت ان کے حق کے طور پر کرتے ہوئے یہ بھی اہتمام کیا جاتا ہے کہ ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔

کتابوں ، وعظوں ، نصابوں میں موجود یہ درخشاں معاشی نظام اسی بچی، بچے کو موت کے منہ میں جانے سے نہیں روک سکتا جو عید کے کپڑے مانگنے کی فرمائش پر

غربت کے ہاتھوں مجبور باپ کے ظلم کا شکار ہوئے جس کی خبر ہم قریباً ہر عید پر علی الصبح عین اس وقت پڑھتے ہیں جب ہمارے بچے رنگ برنگے ملبوسات میں خوشی سے رقص میں محو ہوتے اور عید ی کی فرمائش کرتے ہیں۔ ہماری ایسے جنونی والدین سے استدعا ہے کہ وہ معاشی نظام کے عد م اطلا ق کی سزا بچوں کو دے کر اپنی جہالت میں اضافہ نہ کریں بلکہ سماجی خدمت میں مصروف سماجی تنظیموں سے رابطہ کرکے بچوں کی ضروریات تیل زر عید پوری کرنے کی سعی کریں اہل خیر سے درخواست کریں یہ زندہ انسانوں کا سماج خیرات میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔

ہماری استدعا ہے کہ بھاری بھر برانڈ کے ملبوسات مالکان سے بھی ہے کہ وہ بھی سماج کے یتیم بے سہارا بچوں کیلئے اپنی تجوری کا منہ کھول دیں اور خوشی کے لمحات میں انہیں شریک کرتے ہوئے خصوصی پیکیج متعارف کروائیں تاکہ کم از کم اس عید کے موقع پر بری خبر سننے سے ہم محفوظ رہیں۔ نہیں معلوم کے ماضی میں اس جہالت کا ایندھن بننے والے بچے جو روز عید موت کی نیند سلادیئے گئے جب اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوکر شکوہ کناں ہوں گے اس کے نازل کردہ معاشی نظام کے عدم اطلاق کی سزا ہمیں کیوں دی گئی تو ارباب اختیار ، علماء کرام ، مفتی صاحبان کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟ جو اس کی فیوض و برکات عام آدمی تک نہ پہنچانے کی غفلت کے مرتکب ہوئے۔


ای پیپر