میرا وی تے جی کردا اے
26 May 2018 2018-05-26

روزہ اسلام کا اہم رکن ہے جو تزکیہ نفس کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔روزے کاایک اور مقصد انسان میں تقویٰ پیدا کرنا ہے ۔ ماہ شعبان دو ہجری کے آخری عشرے میں سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 183 کے ذریعے رمضان کے روزے فرض کئے گئے : ’’ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘۔ روزہ خالصتاً اللہ کی خوشنودی کے لیے رکھا جاتا ہے ۔ تین عشروں پر مشتمل اس ماہ مقدس جسے رمضان المبارک کہا جاتا ہے کی آمد پر پاکستان سمیت دنیا بھر جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں دینی جوش و خروش دیکھنے میں آتا ہے۔ چاہیے کوئی امیر ہو یا غریب وہ اس مقدس مہینے کی برکات حاصل کرنے کے لیے بے تاب رہتا ہے ۔ روزہ کا آغاز سحری سے ہوتا ہے ،انجام افطاری پر،عبادات تو اس کا حاصل ہیں۔ اس لیے ہر فرد حسب توفیق اورصحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سحری اور افطاری کا اہتمام کرتا ہے۔

ماہ رمضان کا اپنا ایک حسن اور دلکشی ہے جو سال کے کسی اور مہینے میں نظر نہیں آتی۔ پاکستان جہاں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیاء خورو نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں،وہاں بھی قطع نظر مہنگائی اور موسم کی شدت اور سختی کے رمضان کا روایتی حسن برقرار رہتا ہے تاہم صاحب حیثیت اس دوران ضرورت مندوں اور مستحق افرادکی خدمت دل سے کرتے ، اپنے دستر خوان اور بینک اکاؤنٹس کشادہ کر تے نظر آتے ہیں۔

روزہ دار کو روزہ افطار کرانابلاشبہ باعث اجرو ثواب ہے۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے ،’’جو شخص رمضان میں کسی کا روزہ افطار کروائے گا،تواللہ اس کے گناہ بخش دے گااور اسے جہنم کی آگ سے نجات دے گا،اور روزہ افطار کروانے والے کوروزہ دار کے برابرا جرو ثواب ملے گاجبکہ روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی‘‘۔لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسولؐ!ہماری اتنی استطاعت کہاں کہ ہم روزے دار کو افطار کروائیں اور کھانا کھلائیں توآپؐ نے ارشاد فرمایا ’’صرف کھجور،دودھ اور پانی کے ایک گھونٹ سے بھی افطار کروادینا ہی کافی ہے۔‘‘ تاریخ گواہ ہے کہ جب امت پر روزوں کو فرض کیا گیا ، سحر اورافطار کے وقت بھی واضح کر دئیے گئے تو صاحب ثروت افراد نے اپنے دستر خوان نادار اور مسافروں کے لیے وسیع کر دئیے۔ مساجدکے دروازے اجنبیوں کے لیے بھی کھول دئیے گئے۔ روزہ چونکہ بلا تخصیص رنگ و نسل تمام مسلمانوں پر فرض ہے ،اس میں ایک اہم سبق ایک دوسروں کو آسانی دینا بھی ہے تا کہ معاشرے کے نادار افراد بھی اس سے فیض یاب ہو سکیں اسی لیے سحر و افطار کے دستر خوان بھی اسی حوالے سے تیار ہوتے تھے۔

جس میں اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اہل نصاب کھانے پینے کا اہتمام کرتے تھے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کئی کئی اونٹ ایک افطاری کے دستر خوان کی تیاری میں لگ جاتے تھے تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے،کوئی مسافر،کوئی مستحق بھوکا نہ رہ جائے یہی وجہ تھی کہ بعض مقامات پر افطار دسترخوان کی تیاری میں مقابلے کی فضا نظر آ تی تھی کہ فلاں نے اتنے اونٹ اللہ کی راہ میں کئے تو میں اتنے کروں گا۔یہی شوق مستحق افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے راحت بن جاتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا کہ صاحب حیثیت افراد ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پورے مہینے کا راشن مستحق افراد تک خود ہی پہنچا دیا کرتے تھے تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔یہ دستر خوان تو نہیں ہو تے مگر دستر خوان آباد کرنے کا وسیلہ ضرور ہیں اوریہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے۔

یہ حال صرف اسلام کے ابتدائی دنوں یا پھر انہی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مستحق افراد کے لیے خاص کر افطار کے دسترخوان دنیا بھر میں لگائے گئے، کہیں پر حکمرانوں اور اہل ثروت نے سرائے اور مساجد کو اسی خدمت خلق کے تحت آباد کیا تو کہیں سڑکوں کے کنارے دستر خوانوں کا اہتمام کیا گیا۔

یہ رواج عربوں سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلا توپھربرصغیر اس حسیں جذبے سے کیسے محروم رہ سکتا تھالہذٰا یہ سلسلہ یہاں بھی رائج ہو گیا۔ افطاری کے لیے غریبوں اور مستحق افراد کوبھی آسانیاں فراہم کرنے کے لیے اہل نصاب واہل دل کے ساتھ ساتھ غریب طبقے نے بھی اپنے دسترخوان کشادہ کئے تاکہ معاشرے میں ایثار اور خدمت خلق جیسے جذبوں کومستحکم کیا جائے ۔

قیام پاکستان کے بعد بھی یہ کلچر عام ہواتاہم کہیں بہت وسیع پیمانے پر دیکھنے کو ملا تو کہیں محدود سطح پر نظر آیا۔ مگر مساجد میں مسافروں اور مستحق افرادکے لیے سحر و افطار کا اہتمام ایک ایسی روایت ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے کم نہیں ہوئی۔دنیا میں ہر طرح کے لوگ بستے ہیں،امیر بے تحاشا امیر ، غریب تو بہت زیادہ غریب۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی غربت میں تو کمی نہیں آئی مگر مہنگائی ساتویں آسمان تک ضرور پہنچ گئی۔رمضان تو ہر سال ہی آتا ہے اس تناظر میں مشہور شاعرعرفان احمد عرفی اپنی ایک نظم میں لکھتے ہیں۔۔

اے میرے خدا

پھر ارض وطن میں چرچا ہے رمضان کی آمد آمد کا

پھر قریہ قریہ خلقت کو افطار و سحر کے لالے ہیں

اس بار بھی گلشن تاجرپر سونے کی بارش برسے گی

اس بار بھی روزہ دار تراغم کھا کر روزہ رکھے گا

اور صبر کے گھونٹ سے کھولے گا

دستر خوان لگانا ایک ایسا خوبصورت عمل ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اس لیے سلسلے کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ ہر علاقے میں موجود مستحقین اس سے فیض یاب ہو سکیں۔بقول شاعر

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

تاہم صرف صاحب ثروت ہی نہیں بلکہ حساس طبیعت اور درد دل غریب بھی یہ سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے دستر خوانوں کو کشادہ کر دیں ۔کچھ صاحب دل ایسا کرتے ہیں مگر محدود آمدنی میں وہ کتنا کر سکتے ہیں۔


ای پیپر