حکومت گرانے کیلئے دھرنے ہوئے، عدالتوں میں گھسیٹا گیا، وزیراعظم

26 مئی 2018 (14:45)

شجاع آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کوغیرمستحکم کرنے کے لیے دھرنے دیے گئے ،عدالتوں میں گھیسٹا گیا، آج پورے پاکستان میں کہیں بھی جائیں آپ کو مسلم لیگ ن کے کام نظرآئیں گے،مشرف نے 10 سال بجلی کا کوئی کارخانہ نہیں لگایا، صرف دو چار منصوبے شروع کیے مگر ایک بھی مکمل نہ کر پایا، زرداری نے منصوبے شروع ہی نہیں کیے مکمل کرنا تو دور کی بات ہے، اس وقت دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم پیسہ پنجاب کو ملتا ہے، کسی شہر میں چلے جائیں، پنجاب کے شہر بدلتے نظر آئیں گے۔

ملتان سے سکھر موٹروے294ارب روپے کا منصوبہ ہے، اس سے قبل حکومتیں صرف چند کروڑ روپے کے منصوبے کی بات کرتی تھیں، جب سے پاکستان بنا20ہزار میگاواٹ بجلی 65سال میں لگی تھی، مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں 10,400میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی گئی، ہم نے پاکستان کے آنے والے کل کےلئے کام کیا ہے، آج جو نعرے لگا رہے ہیں وہ صرف دھوکے کی سیاست کر رہے ہیں ۔

ہفتہ کو سکھر ملتان موٹروے کے ملتان، شجاع آباد سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس حکومت نے جو وعدے کئے ان سے بڑھ کر پورے کر دکھائے، ملتان سے سکھر موٹروے جو 2019میں مکمل ہونا تھا اس کا پہلا حصہ ایک سال پہلے مکمل ہوا، ملتان سے سکھر موٹروے 294ارب روپے کا منصوبہ ہے، اس سے پہلے حکومتیں صرف چند کروڑوں منصوبوں کی بات کرتی تھیں، یہ فرق ہے ماضی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا، نواز شریف نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود کام کر کے دکھایا، پورے پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے کام نظر آئیں گے۔

یہ تمام کام اربوں روپوں کے ہیں، جنرل مشرف کے 10سال دور حکومت میں یہاں کوئی کام دیکھا دیں، جب سے پاکستان بنا20ہزار میگاواٹ بجلی 65سال میں لگی تھی، اس حکومت کے دور میں 10,400میگاواٹ بجلی اس حکومت میں مکمل ہو کر سسٹم میں شامل کی گئی، ہماری کوشش ہے سحری اور افطاری میں بھی دیہی علاقوں میں کم سے کم لوڈشیڈنگ ہو، ہم نے ان چیلنجوں کا سامنا کیا جو پہلے کسی نے نہیں کئے، آصف علی زرداری نے ایک بھی بجلی کا کارخانہ نہیں لگایا، ہم نے پاکستان کے آنے والے کل کےلئے بھی کام کیا ہے، اگلے سال کے وسط میں اڑھائی گھنٹے میں لاہور کا سفر طے کر سکیں گے، یہ وہ فرق ہے جو میاں نواز شریف نے ڈالا ہے، یہ وسائل پہلے بھی حکومتوں کے پاس موجود تھے، بس سب کے پاس سوچ کی کمی تھی،ہم نے بہت سی رکاوٹوں کے باوجود ترقی کا راستہ برقرار رکھا، آج وقت سے پہلے منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں، ماضی میں حکومت منصوبے شروع کرتی تو دوسری حکومت آ کر اسے مکمل کرتی تھی۔

مشرف نے دو چار منصوبے شروع کئے مکمل نہیں کر پایا، زرداری نے ایک منصوبہ نہ شروع کیا اور نہ مکمل کر سکا، اس حکومت نے پانی کے بہت سے منصوبے قائم کئے، پنجاب میں آپ کو تبدیلی نظر آجائے گی، آج پنجاب کو سب سے کم پیسہ مل رہا ہے، آج ہر جماعت کو اس دور میں ہر صوبے میں حکومت ملی، آج سروے کرنے والے ادارے بھی ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف پنجاب میں ہوئی، فیصلہ جولائی میں آپ کے پاس آئے گا،2013میں بھی آپ سے جو وعدے کئے وہ آپ کے سامنے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی سیاست شرافت اور خدمت پر مبنی ہے، جنوبی پنجاب کے صوبے کا نعرہ بھی سنا ہے، یہ الیکشن کا نعرہ نہیں ہونا چاہیے ، ایک اتفاق رائے سے مل کر صوبہ بنایا جاتا ہے، آج جو نعرے لگا رہے ہیں وہ صرف دھوکے کی سیاست کر رہے ہیں، جنوبی پنجاب کے نعرے لگانے والے مشرف کے دائیں بائیں بیٹھے ہوتے تھے، اس وقت صوبے کیوں نہیں بنے، صوبے ضرور بنیں پر ایک اتفاق رائے سے بننے چاہئیں۔

سیاست چلے گی صرف خدمت کی چلے گی،مخالفین ایک منصوبے دکھائیں ہم دس ثابت کر کے دیں گے، فیصلہ عوام کے پاس ہے، الیکشن اور سیاست کا فیصلہ پولنگ اسٹیشن میں ہوتا ہے، ہم نے ترقی کا سفر جاری رکھا آج اس کے ثمرات سامنے ہیں، یہ جمہوریت اور سیاست کا طریقہ ہے، اب ڈی ڈی خان سے ملتان ڈویژن کا سفر 75کلومیٹر سے کم ہو کر صرف 6کلومیٹر رہ جائے گا، یہ منصوبہ ایک حقیقت ہے اس پر جلد کام ہو گا، اس سے پہلے شجاع آباد سے لودھراں کا جو منصوبہ تھا اس پر اگلے مالی سال میں کام شروع ہو جائے گا، پاکستان آگے بڑھے گا جمہوریت سے بڑھے گا، ہر جماعت کا منشور آپ کے سامنے ہے کام صرف مسلم لیگ (ن) کا نظر آئے گا۔

مزیدخبریں