نیب آئینی ادارہ ہے، جسے چاہے بلا سکتا ہے:شہباز شریف
کیپشن:   File Photo
26 May 2018 (14:34) 2018-05-26

مظفر گڑھ :پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ طیب اردوان ہسپتال کو 2 مہینے میں چلانے کا حکم دیتا ہوں، میں اعلان کرتا ہوں کہ یہاں پر دل کے آپریشنز اور کینسر کا علاج بھی کیا جائے گا، آج اس ہسپتال میں مانی ہوئی کمپنیوں سے جدید مشینیں لائی گئی ہیں، اس کا دوسرا فیز جو 250بیڈز پر مشتمل ہو گا، یہ ہسپتال 1000بیڈز پر مشتمل ہو جائے گا، بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ پورے پاکستان میں ایسا ہسپتال سرکاری شعبے میں نہیں ملے گا،مریضوں کےلئے ایئرکنڈیشنز کمرے ہیں، ہسپتال میں فری کھانا اور علاج موجود ہے، ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کا قرض چکایا ہے، پورے پنجاب کے 26ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں سی ٹی سکین لگ گئے ہیں اور چل رہے ہیں، 24گھنٹے یہ مشینیں مریضوں کے علاج کےلئے چلتی رہیں گی۔

نیب آئینی ادارہ ہے، جسے چاہے بلا سکتا ہے، پنجاب کی بیورو کریسی ایماندار اور محنتی ہے۔ہفتہ کو طیب اردوان ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ بلا خوف و تردید کہا جا سکتا ہے کہ مظفر گڑھ ہسپتال ترکی اور ملائیشیاءسے کم نہیں، یہی میرا اور میری ٹیم کا سرمایہ حیات ہے، پاکستان بھی ہیپاٹائٹس میں شمار ہوتا ہے، ڈاکٹر باری باری مریضوں کا معائنہ کر کے مفت ادویات فراہم کر رہے ہیں، پنجاب کی بیوروکریسی ایماندار اور محنتی ہیں، جو قومیں قانون کی حکمرانی کرتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں، پورے پنجاب کے 26ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں سی ٹی سکین لگ گئے ہیں اور چل رہے ہیں، 24گھنٹے یہ مشینیں مریضوں کے علاج کےلئے چلتی رہیں گی، اس سے غریب عوام مستفید ہوں گے، لوگوں کی آنکھیں کام دیکھ کر خوشی سے چمک گئیں، ہمارے جو وارڈ ہیں وہ یورپ کے ہسپتال کا مقابلہ کرتے ہیں۔

طیب اردگان ہسپتال کی تاریخ سے ہر کوئی واقف ہے،2010میں سیلاب نے خطے کو لپیٹا تھا، ترکی نے سیلاب زدہ علاقوں کےلئے کروڑوں روپے فنڈز اکٹھے کئے، پنجاب نے صحت عامہ میں بہت ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب آئینی ادارہ ہے جو ہر کسی کو بلا سکتا ہے، ہسپتال میں فری کھانا اور علاج موجود ہے، ہم نے اس ہسپتال کا نام طیب اردوان رکھا، سعودی عرب نے بھی سیلاب کے دنوں میں امداد کی تھی،آج اس ہسپتال میں مانی ہوئی کمپنیوں سے جدید مشینیں لائی گئی ہیں، اس ہسپتال کی عمارت شاندار ہے، میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ پورے پاکستان میں ایسا ہسپتال سرکاری شعبے میں نہیں ملے گا۔

کون سوچ سکتا تھا کہ جنوبی پنجاب میں اتنا بہترین ہسپتال بنے گا، ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کا قرض چکایا ہے، اس کے پہلے فیز پر 5ارب روپے خرچ ہوئے، پہلا فیز 8آپریشنز تھیٹر پر مشتمل ہے، اس ہسپتال کو دو مہینے میں چلانے کا حکم دیتا ہوں، میں اعلان کرتا ہوں کہ یہاں پر دل کے آپریشنز اور کینسر کا علاج بھی کیا جائے گا، اس کا دوسرا فیز جو 250بیڈز پر مشتمل ہو گا، یہ ہسپتال 1000بیڈز پر مشتمل ہو جائے گا، مجھے عوام کی دعائیں چاہئیں، اس ہسپتال میں مریضوں کےلئے ایئر کنڈیشنز کمرے بنائے گئے ہیں۔


ای پیپر