پانی کو عزت دو!
26 May 2018 2018-05-26

(گزشتہ سے پیوستہ ) ” پاکستان جِس وقت پانی کے اہم ترین مسئلے پر اپنی بقاءکی جنگ لڑ رہا تھا نواز شریف اقتدار سنبھال چکے تھے، اُن کی بے نیازی کا یہ عالم تھا پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھا۔ یہ اضافی ذمہ داری اُنہوں نے اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔ کیوں رکھی ہوئی تھی؟ یہ ایک الگ طویل داستان ہے۔ نواز شریف 25 جون 2013 کو وزیر اعظم بنے اور اِس سے چھ ماہ بعد 20 دسمبر 2013 کو عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اِس فیصلے کے صفحہ 34 پر عدالت نے لکھا ” حکومت پاکستان نے پانی کے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیئے“.... کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اِس غفلت پر حکومت کا حشر نشر کر دیتا لیکن نیم خواندہ معاشرے میں نواز حکومت نے کمال ڈھٹائی سے دعویٰ فرما دیا کہ ” یہ فیصلہ تو در حقیقت ہماری کامیابی ہے “.... اب ذرا آگے سنئے۔ انٹرنیشنل کورٹ آف آربٹریشن نے جیسے ہی بھارت کو ڈیم بنانے کا حق دے دیا تو اُس نے کھل کر کھیلنا شروع کر دیا اور سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اُڑا کررکھ دیں۔ نواز شریف اِس سارے عرصے میں بھارتی وزیر اعظم مودی کی ناز برداریاں فرماتے رہے۔ اور سجن جندال کی میزبانیاں فرماتے رہے۔ اب جبکہ بھارتی وزیر اعظم مودی اِس ڈیم کا افتتاح کرنے والا ہے تو ہمیں ہوش آیا ہے اور ہم درخواست ہاتھ میں پکڑ کر وولڈ بینک کی منتیں کر رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چونکہ آپ ثالث ہیں اِس لئے ہماری بات سنیں۔ .... ہم نے یہاں بھی وقت ضائع کر دیا۔ ہماری کامیاب سفارتکاری کا عالم یہ ہے ہم اُمید لگائے بیٹھے تھے اپریل میں ہمیں ملاقات کا وقت مل جائے گا۔ ہمیں یہ بتایا گیا وولڈ بینک کے صدر فی الحال مصروف ہیں اُن کے پاس وقت نہیں ہے۔ اب ڈیم کے افتتاح سے پہلے وولڈ بینک کے صدر کے پاس ملاقات کا کوئی وقت نہیں ہوگا۔ اور ڈیم کے افتتاح کے بعد اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے غریب عوام کے خرچے پر بیرونی دوروں کے ریکارڈ توڑ دیئے لیکن حالت یہ ہے وولڈ بینک کے صدر کے پاس پاکستانی وفد سے ملنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ اور حکومت کی بے حسی دیکھئے حکومت کو اِس کی کوئی پروا ہی نہیں تھی۔ پانی ہماری زندگی موت کا مسئلہ ہے مگر ہمیں کوئی حیا ہی نہیں آرہی اِس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ کوئی اور ملک ہوتا اور اُس کے ساتھ ایسی واردات ہونی ہوتی وہ اب تک سفارتی محاذ پر ایسا طوفان کھڑا کر دیتا کہ وولڈ بینک کیا خود اقوام متحدہ کو اِس کا نوٹس لینا پڑ جاتا۔ افسوس ہمارے ہاں کشن گنگا کی وارت پر حکومت بول رہی ہے نہ ہی اپوزیشن کو اِس کا احساس ہے.... جہاں تک ہمارے عوام کا تعلق ہے وہ ایسے معاملات سے ویسے ہی غافل رہتے ہیں۔ .... کشن گنگا پراجیکٹ سے ہمارے ایکوسسٹم کو بھی خطرہ ہے۔ بھارت یو این کنونشن آف بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کنونشن آف اور کنونشن وائرلینڈ پر دستخط کر چکا ہے۔ ہماری پوری ایک وادی مکمل طور پر تباہ ہونے جا رہی ہے۔ اور ہم نے اِن کنونشز کو کِسی فورم پر ابھی تک موضوع ہی نہیں بنایا کِسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے.... کشن گنگا ڈیم کی تکمیل ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے۔ بھارت میں جِس دریا کو کشن گنگا کہتے ہیں پاکستان میں وہ دریائے نیلم کے نام سے جانا اور پہنچانا جاتا ہے۔ یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دو میل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جااتا ہے۔ اب بھارت نے 22 کلو میٹر سرنگ بنا کر اِس کا رُخ موڑ دیا ہے۔ اب یہ وادی نیلم میں نہیں بہے گا۔ کشن گنگا پروجیکٹ کے لئے اِسے وولر جھیل کے ذریعے بارہ مولا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر میں دریائے جہلم میں ڈال دیا گیا ہے۔ یعنی اُس کے قدرتی بہاﺅ میں فرق ڈال دیا گیا ہے۔ اب ہمیں صِرف کتابوں میں ہی یہ پڑھنے کو مِلے گا کبھی وادی نیلم میں ایک دریا بھی بہتا تھا۔ جِسے دریائے نیلم کہتے تھے۔ ذرا غور فرمائیے وادی نیلم سے دریائے نیلم ہی روٹھ جائے تو یہ وادی کیا منظر پیش کرے گی؟۔ اِس کا سارا حُسن ہی برباد ہو جائے گا۔ نہتی بستی وادی ویران، اُجاڑ اور بیابان ہو جائے گی۔ وادی نیلم میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ لوگ خطہ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اِن کی زندگی دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اِس کے پانی کے ساتھ وہ چاول وغیرہ اُگاتے ہیں۔ اِن کی چکیاں اِسی کے پانی سے چلتی ہیں۔ یہ دریا اِن کے لئے زندگی کی ایک بڑی علامت ہے۔ وادی نیلم میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں۔ اِسے ” نان مون سون “ کہا جاتا ہے۔ اِس وادی کا اکتالیس ہزار ایکڑ رقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے.... جہاں سے دریا کا رُخ بدلا گیا ہے وہاں سے دو میل دور 230 کلو میٹر کا علاقہ ہے۔ زرا تصور کریں اڑھائی سو دیہاتوں پر مشتمل یہ سارا علاقہ چند دِنوں میں ایک بہتے دریا سے اچانک محروم ہو جائے گا۔ بارہ سو ٹن ٹراﺅٹ مچھلی سالانہ اِس علاقے سے پکڑ کر مقامی لوگ لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ یہ بھی ختم ہو جائے گی۔ جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ صِرف یہی نہیں پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ہمارا 27 فیصد پانی کم ہو جائے گا اور اِس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں بیس فیصد کمی واقع ہو جائے گی۔ اور اگر بھارت نے کسی وقت مزید شر پسندی کرنا چاہی معاملات مزید سنگین ہو جائینگے۔ تباہی ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ افسوس کِسی کو اِس کی پروا ہی نہیں ہے۔ اِس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جِس بے حسی ، بے غیرتی ، جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی خوفناک ہے۔ بھارت نے اِس پروجیکٹ پر کام شروع کیا تو پاکستان نے انٹرنیشنل کورٹ آف آربٹریشن سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے پاکستان سے کہا وہ پانی کے حوالے سے سارا ڈیٹا شواہد کے ساتھ عدالت کو فراہم کر دے۔ پاکستان کی تیاریوں کا عالم یہ تھا جب عدالت نے یہ ڈیٹا مانگا تو حکومت کے پاس عدالت کو دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ اپنی خفت مٹانے کے لئے عدالت سے کہا گیا ہمیں دس دِنوں کی مہلت دے دیں ہم سب کچھ پیش کر دیں گے۔.... ( جاری ہے)


ای پیپر