Naveed Chaudhry, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 مارچ 2021 (11:31) 2021-03-26

 شبر رضا زیدی کو ایک منجھا ہوا کھلاڑی سمجھ کر عمران خان کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا ۔ انہیںبھجوانے والوں کو یقین تھا کہ ٹیکس وصولیوں کے نئے ریکارڈ قائم ہونگے اور ریاست کی تمام ضروریات با آسانی پوری ہوں گی۔ مین پراجیکٹ کی طرح شبر رضا زیدی والا منصوبہ بھی پٹ گیا۔ موصوف نے بیچ راستے میں ہی ہاتھ کھڑے کردئیے اور پھر خرابی طبیعت کا بہانہ بنا کر کھسک گئے۔ اب جیسے ہی ان کی ’’ صحت ‘‘ بحال ہوئی ہے تو انہیں 1973 ء کے آئین میں کیڑے نظر آنے لگے ہیں۔ اس معاملے سے دور نزدیک تک کا واسطہ نہ ہونے کے باوجود نئے عمرانی معاہدے کی تجویز پیش کردی ہے ۔ یہ جاننا ہرگز مشکل نہیں کہ انہیں یہ ’’ اچھوتا ‘‘ خیال کیسے سوجھا۔ شبر رضا زیدی کا تعلق ایک پیج ٹولے سے ہے جو وقفے وقفے سے آئین پر حملہ آور ہوتا رہتا ہے حالانکہ یہ ٹولہ ایک عرصے سے اپنی من مانیاں کرتا ہے اور ایسے تمام مواقع پر عدلیہ سمیت ادارے آنکھیں بند تصدیقی مہر لگا دیتے ہیں ۔ 1973ء کا آئین یہ متفقہ اور جامع دستاویز ہے ۔ اس میں تمام مسائل کا ایسا حل موجود ہے کہ جس پر کسی بھی فریق کو اعتراض نہیں ہوسکتا ۔ اصل مسئلہ صرف اتنا ہے کہ آئین پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ مثلاً آئین میں آرٹیکل 6 موجود ہے جس کے تحت آئین شکنی کی سزاموت ہے ۔ حالت یہ ہے کہ اس آئین کے خالق کو ایک فوجی آمر نے آئین توڑ کر تختہ دار پر لٹکا دیا۔ بعد میں جنرل مشرف نے دو بار آئین توڑا۔ جب قانون کے تحت بنی خصوصی عدالت نے مشرف کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تو اس عدالت سمیت سارا معاملہ لپیٹ دیا گیا ۔ کوئی پاکستانی شہری باآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اگر صرف ایک بار آئین توڑنے پر رکھی گئی سزا پر عمل درآمد ہوجائے تو آئندہ بڑے سے بڑے طرم خان کو ایسا کرنے کی جرات نہیں ہوگی ۔ کوئی چاہے کتنے قانون بنا لے اور سخت سزائوں کا اعلان کردے جب تک عمل درآمد نہیں ہوگا سب بے کار ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے موجودہ حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات اور ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینیں لانے کی باتوں کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے لا یعنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھاندلی کرنے والے الیکٹرانک مشینیں اٹھا کر ڈیٹا ہی تبدیل کردیں گے تو پھر کیا ہوگا؟ جب تک دھاندلی کرنے والے ایک ایک کردار کو قابو کرکے قانون کے مطابق سزا نہیں دی جاتی تب تک جتنی مرضی اصلاحات لے آئیں رتی برابر فائدہ نہیں ہونے والا۔ شبر زیدی نے آئین پر عدم اعتماد کرنے ساتھ ایک اور بات بھی کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس مشن پر ہیں ؟ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں 1947,1971کی تلخیاں بھلانی ہونگی۔ بر صغیر کے غریب عوام مر رہے ہیں۔کیا ہم آزاد ہیں ؟ مودی اور ملا ایک سوچ رکھتے ہیں۔ انسان انسان ہے۔مذہب ایک ذاتی سوچ ہے۔ پاکستان کی بنیاد معاشی تھی اور رہے گی۔اپنے اور انسانیت کے دشمن کو پہچانیں۔ جب گھر کو آگ لگی ہو تب نظریہ نہیں گھر بچانا ہے‘‘شبر زیدی کے اس موقف کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس رائے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے جس میں آرمی چیف نے سب سے پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا کہا ہے اور ساتھ اس کے ساتھ معاشی ترقی کے لیے خطے خصوصاً بھارت کے حوالے سے معاملات کو آگے بڑھانے کا کہا ہے ۔ فوجی سربراہوں کی جانب سے یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں ۔ ماضی قریب جنرل پرویز مشرف تو اس حوالے سے بہت ہی آ گے بڑھ گئے تھے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں بھی یہی بات کی گئی ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا موقف بھی یہی رہا ہے لیکن جب بھی ان کی جانب سے اس کا اظہار کیا گیا توغداری کے فتوے لگنا شروع ہوگئے۔ ڈان لیکس کے حوالے سے جو ہنگامہ کھڑا کیا گیا وہ ابھی کل کی بات ہے ۔ اسی لیے تو سیاسی جماعتیں خصوصا 

مسلم لیگ ن یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے اس موقف کا ایک بار پھر سے اعتراف کرلیا گیا ۔ یہ بات درست ہے غلط ہے تو صرف اتنا کہ جب مرض کی بروقت تشخیص کرلی گئی تھی تو پھر اسی وقت علاج معالجے کا بندوبست کیوں نہیں کیا گیا ۔ ایک وقت تھا کہ بھارتی وزرائے اعظم خود چل کر پاکستان آتے رہے۔ ایک یہ وقت ہے کہ کوئی فون کال سننے پر تیار نہیں۔ ایک موقع پر مسئلہ کشمیر کے آئوٹ آف باکس حل کے لیے چناب فارمولے سمیت اس نوع کی دوسری تجاویز پر بات ہورہی تھی۔ پھر جنرل مشرف کا دور آیا تو بھارت نے ایل او سی پرآہنی باڑ لگا دی۔پھر 5 اگست 2019 ء آیا اور بھارت نے پورا مقبوضہ کشمیر ہی ہڑپ کرلیا ۔ آج اس حوالے بہت سارے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں مل رہے۔ ایسا نہیں کہ آرمی چیف کا بیان درست نہیں ۔ یقیناً انہوں نے درست کہا ہے اسی لیے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اس کی مکمل حمایت کی ہے ۔ نکتہ صرف یہ ہے کہ بھارت سے تعلقات ہوں یا قومی سلامتی کے دیگر معاملات ، چیزوں کو شفاف رکھا جانا چاہے ۔ اس موقع پر بھارت سے جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہو رہا ہے تو اسے واضح انداز میں عوام تک پہچانا چاہے ۔ ایف اے ٹی ایف میں ہم کیسے اور کیونکر پھنسے ، یہ اندرون ملک اور باہر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ پھر اس پر تیسرے درجے کے سیاسی ہتھکنڈے کیوں استعمال کیے جارہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی کام ایک سویلین حکومت کرے تو غدار قرار پائے ۔ جب وہی کچھ ایک پیج کرئے تو تالیاں پیٹی جائیں ۔ بظاہر پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی نظر آرہی تھی پھر قوم پر انکشاف ہوا کہ خفیہ مذاکرات چل رہے ہیں ۔ عالمی میڈیا کے ذریعے ایسی خبریں سامنے آنے لگیں کہ متحدہ عرب امارات دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کو ٹھنڈا کرنے میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے۔اس حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی جانب سے حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق انڈیا اور پاکستان نے امن کے قیام کے لیے ایک ایسے چار رکنی ’’امن کے خاکے‘‘ پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جسے’’متحدہ عرب امارات کی حکومت نے تیار کیا ہے۔‘‘بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ دونوں ملکوں کی بات چیت میں مسلسل رہنمائی کر رہے ہیں۔‘‘

جہاں اس خبر کی صداقت کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، وہیں تینوں ممالک کی جانب سے اس کی تردید بھی نہیں کی گئی۔ یہ وہی بردار ملک متحدہ عرب امارات ہے جس نے پاکستان کی تشویش مسترد کرکے او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کرکے نئی تاریخ رقم کر ڈالی ۔ کمال ہوگیا ایک طرف تو بالکل جائز طور یہ کہا جارہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کے حوالے بھارتی اقدام واپس لیے جانے تک کوئی بات نہیں ہوگی اور دوسری جانب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر کام جاری ہے۔ اب پتہ چلا کہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کام کافی آگے بڑھ چکا ۔ کہاں مودی فون سننے کو تیار نہ تھا کہاں یہ عالم کے تین دن میں خیر سگالی کے دو پیغامات بھیج دئیے ۔پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی تشویش ایک طرف رکھیں لیکن ذرا تصور کریں کہ مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت پر کیا بیت رہی ہوگی ۔ بھارت سے اچھے تعلقات اور تجارتی مراسم پر کوئی ذی شعور معترض نہیں ہاں مگر یہ جاننا قوم کا حق ہے کہ آج یہ سب کچھ کس قیمت پر ہو رہا ہے ؟ آج معاشی طور پر ہم کس حال میں ہیں۔ خارجہ امور میں کہاں کھڑے ہیں ۔ داخلی طور پر کتنا استحکام ہے۔ عالم یہ ہے امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کی جانب سے مبارکباد کی کال سن سکے ۔ نئے امریکی وزیر خارجہ نے اب تو جو واحد رابطہ کیا ہے وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تھا ۔عالمی میڈیا بتا رہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ہم سے پھر ڈومور کا مطالبہ کیا جارہاہے ۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے شکنجے دونوں جانب سے کسے جارہے ہیں ۔ ان حالات میں گھر ٹھیک کرنا محض بیان نہیں بلکہ مجبوری بن چکا ۔ گھر ٹھیک کرنے کے لیے سب سے بنیادی امر یہی ہے کہ اگر ہم سب خود کو ٹھیک کرلیں تو گھر خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ گھر کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا جس کے افراد اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کی بجائے دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑاتے پھریں ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ایک طرح کاکوئی کام کرے تو وہ مودی کایار اور محب وطن کیسے ہو سکتا ہے؟عجب ستم ظریفی ہے کہ افغان جہاد کے نام پر نسلیں برباد کردی گئیں ، آخر یہ عالم ہے اسے سنگین غلطی قرار دیا جارہا ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہے کہ ایسی عجیب حرکات دنیا کے کسی اور ملک میں ہوسکتی ہیں ؟ قوم کو ’’ مطالعہ پاکستان ‘‘ کے نشے میں غرق کرنے کی بجائے دشمن ممالک کے بارے میں حقیقی تصویر سامنے لائی جاتی تو کسی حد تک مناسب لائحہ عمل بنایا جا سکتا تھا۔ جو کچھ اس وقت ہورہا ہے وہ اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے ۔پاکستان کا موجود حکومتی ڈھانچہ معمول کا نظام چلانے کے قابل نہیں ۔اس سے یہ توقع رکھناحماقت ہے کہ بھارت سے بڑے ملک اور اس کی تجربہ کار قیادت سے معاملات طے کرتے وقت اپنے لیے کچھ زیادہ حاصل کرسکے گا۔ عالمی دبائو پر کرایا گیا معاہدہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی تو دیکھنا ہوگا کہ کیا بڑے ممالک اور دنیا پاکستان اور بھارت کو یکساں اہمیت دیتے ہیں ۔ معاملہ گھوم کر پھر وہیں آجاتا ہے کہ جب تک ہم پہلے خود کو اور پھر اپنے تمام اداروں کو ٹھیک نہیں کریں گے ، دنیا میں ہماری بات نہیں بنے گی ۔ لیکن ملک میں جاری وسائل پر قبضے کی جنگ ہمیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دے رہی۔


ای پیپر