Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 مارچ 2021 (11:26) 2021-03-26

یوں تو ہم اہلِ پاکستان ہر سال ہی 23ما ر چ کو یومِ پا کستا ن بڑی عقید ت سے منا تے ہیں، مگر مو جو دہ سا ل کا یو مِ پاکستان اس لحا ظ سے منفر دقرا ردیا جا سکتا ہے کہ ہمارے سپہ سالار نے بھار ت کے لئے اپنے خیر سگا لی پیغا م میں کہا ہے کہ پا کستا ن اور بھارت کو پر انی رنجیشیںبھلا کر آ گے کی جانب دیکھنا چا ہیے۔ان کے اس بیا ن کا نہ صر ف بھا رت ،بلکہ پوری دنیا میں شد ت سے سرا ہا گیا۔ گو یا دنیا پہ وا ضح ہو گیا کہ پا کستان ا یٹمی طا قت ہو نے کے با وجو د ایک انتہا ئی امن پسند ملک ہے۔ یو مِ پا کستا ن کی یا د تاز ہ کر تے ہو ئے یہ یاد دلا نا مقصو د ہے کہ 23 مارچ 1940ء کو برصغیر کے مسلمانوں نے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں الگ وطن کی آرزو کو باقاعدہ قرارداد کی صورت میں پیش کرکے اپنا ایک اہم قومی فریضہ ادا کیا۔ تحریک پاکستان کے رہنمائوں کی بصیرت اور نگاہِ دور بین کا ثبوت ہمیں آج کے بھارت میں مسلمانوں کی کسمپرسی کی حالت سے مل جاتا ہے۔ مذہبی آزادیوں پہ قدغن، ترقی کے مواقع میں جابجا رکاوٹیں اور سماجی عدم تحفظ سے واضح ہوتا ہے کہ اکثریتی ہندو سوسائٹی نے بھارت میں مسلمانوں کو آج تک قبول نہیں کیا۔ یہ دو قومی نظریے کی حقیقت کا ایسا بین ثبوت ہے کہ جو بھارتی سماج اور تاریخ کا مشاہدہ کرنے والی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا۔ اکثریتی آبادی کی جانب سے خاص طور پر مسلمانوں کے معاملے میں پایا جانے والا تعصب اور عدم مساوات وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کو جس ریاستی، سماجی اور فکری دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کچھ برداشت کرنا اور سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔ اس صورتحال کی تلخیوں کو سمجھیں اور محسوس کریں تو آزادی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی صلاحیتوں کی نمو کے لیے آزادی وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ان حقائق کو دیکھیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا اور بانیٔ پاکستان اور ان کے رفقا کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے ہمارے لیے الگ وطن حاصل کرکے ہماری اور ہمارے آنے والی نسلوں کے لیے بقا، تحفظ اور ترقی کا امکان پیدا کیا۔ اس وطن میں ہمیں وہ سب کچھ میسر ہے جو کسی قوم کو ترقی، خوش حالی اور اقوامِ عالم میں معزز مقام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ وسیع اور زرخیز رقبہ، کافی آبی وسائل، معدنی دولت سے مالا مال پہاڑ اور صحرا، وسیع ساحلی پٹی، معتدل موسم اور اکثریتی نوجوان آبادی۔ ان وسائل کی بدولت پاکستان کو ترقی یافتہ دنیا کے اکثر ممالک پر نمایاں برتری حاصل ہے، مگر ضرورت ان وسائل کو احسن طریقے سے بروئے کار لانے کی ہے۔ وسیع رقبے اور آبی وسائل کے ذریعے ہم زرعی شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ صحرائوں او رپہاڑوں میں چھپی معدنی دولت پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے بامِ عروج تک پہنچاسکتی ہے جبکہ ہمارا وسیع بحری علاقہ اور دنیا کے چند بہتری ساحلی علاقوں میں شامل ساحل پاکستان کے لیے بحری اقتصادیات کا انمول خزانہ ہیں۔ ان قدرتی وسائل کو ہمارے ملک کے جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو یہ حقائق واضح ہوتے ہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا سے لے کر وسط ایشیا تک اور دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ سے یورپ کی دہلیز تک کے علاقوں کے لیے سنگم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر مستزاد ہماری نوجوان آبادی جو مجموعی آبادی کے قریب 65 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ اگر اس نوجوان آبادی کو ضروری علوم و ہنر سے آراستہ کیا جائے اور ان کے لیے ترقی کے دروازے کھولے جائیں تو یہ قوم پاکستان کو ترقی کے اس بلند ترین مقام تک لے جاسکتی ہے جس کا ہمارے آبا نے خواب دیکھا تھا؛ تاہم ان مقاصد کی جانب ہماری پیش رفت محلِ نظر ہے۔ اگرچہ اقوام کی تعمیر اور ترقی راتوں رات وقوع پذیر ہونے والا عمل نہیں، مگر یہ حقیقت بیان کیے بغیر چارہ نہیں کہ قیام پاکستان کے بعدہمارے ملک کو اس اہلیت اور قابلیت کی قیادت میسر نہیں آئی جس کی اس وطن کو ضرورت تھی۔ حالانکہ اس ملک کے بانی اور ان کے رفقا کی قیادت، خلوص اور دیانت ہمارے رہنماؤں کے لیے خصوصاً اور قوم کے ہر فرد کے لیے عموماً ایک روشن مثال تھی، مگر اب تک کے حالات سے یہ امر واضح ہے کہ ان روشن مثالوں سے سیکھا نہیں گیا۔ وہ قائد جو بسترِ بیماری پر اپنی پسند کا کھانا تیار کرنے والے باورچی کی خدمات بھی ریاست کے خرچ پر حاصل کرنے کا روادار نہ تھا، انہی کے ملک میں ان کے جانشینوں نے بعد ازاں کیا لُٹ مچائی، یہ باتیں عوامی حافظے کا حصہ ہیں۔ ملک و قوم کو سنوارنے اور ترقی دینے کے بجائے رہنمائوں نے اپنے 

ہاتھ رنگنے میں دقت اور موقع صرف کیا۔ قیادت کے اسی بحران نے پاکستان کو اس کی منزل سے دور کیا اور ترقی کے جو خواب بہت پہلے شرمندئہ تعبیر ہوسکتے تھے، ہنوز تشنہ تکمیل ہیں۔ اس پس منظر کا ادراک اور صورتحال کا بے لاگ تجزیہ ضروری ہے۔ ہمارے لیے آگے بڑھنے کی راہ یہیں سے پیدا ہوسکتی ہے کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کا محاسبہ کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اپنی قومی تاریخ میں ہم نے کہاں کہاں اور کس کس طرح غلط فیصلے کیے۔ اپنی قومی تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیے بغیر ہم مستقبل کے لیے بہترین فیصلے کرنے کی اہلیت حاصل نہ کرسکیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت وقت کی ذمہ داری اہم ہے کہ وہ قوم کی اس معاملے میں رہنمائی کرے اور قیادت کے جس بحران نے ماضی میں پاکستان کو ترقی کی راہ سے ہٹائے رکھا اس پر 

واپس آنے میں قوم کی مدد کرے۔ اس سلسلے میں ایک اہم ذمہ داری قوم کی بھی ہے اور وہ یہ کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی قومی اور انفرادی ذمہ داریوں کو پہچانے، سمجھے او رپورا کرے۔ کوئی بھی ملک صرف حکمرانوں کی کوشش سے ترقی نہیں کرتا۔ قوم کا مجموعی رویہ اور احساسِ ذمہ داری اور جذبۂ قومیت ہی ترقی کی بنیادیں بڑھاتا ہے۔ حکمران قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں مگر قومی ترقی کے معاملے میں بسا اوقات قوم حکومت کے لیے رہنما بن جاتی ہے۔ قوم کا جذبہ، ذمہ داری اور خلوص حکمرانوں کو ایسے فیصلوں پر آمادہ کرتا ہے جو حقیقی طور پر ناگزیر سمجھنے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں انفرادی خودغرضی کے بجائے مجموعی مفاد کو اہمیت دینا اہم ہے۔ خواہ یہ سماجی نظم و ضبط کا معاملہ ہو یا ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے کا جذبہ۔ قومی سطح پر ان دنوں ہمیں جس احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے وہ کورونا کی عالمگیر وبا سے اپنا اور دوسرے ہم وطنوں کے تحفظ سے متعلق ہے جو حقیقی طور پر ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں انفرادی خودغرضی کے بجائے مجموعی مفاد کو اہمیت دینا اہم ہے۔ خواہ یہ سماجی نظم و ضبط کا معاملہ ہو یا ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے کا جذبہ۔ قومی سطح پر ان دنوں ہمیں جس احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے وہ کورونا کی عالمگیر وبا سے اپنا اور دوسرے ہم وطنوں کے تحفظ سے متعلق ہے ۔ ایک برس ہوا کہ ہم اس ناگہانی وبا کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت اور عوام نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک ساتھ کوششیں کیں تو گزشتہ برس کے نصف آخر میں یہ خطرہ تقریباً ختم ہوچکا تھا، مگر عام طور پر جیسے ہوتا ہے، جب وبا کا زور کم ہوا تو احتیاطی تدابیر بھی نظر انداز کردی گئیں۔ نتیجتاً حالیہ دنوں میں ہمیں کورونا کی تیسری مگر پہلے سے زور دار لہر کا سامنا ہے اور ان حالات میں حکومت کی جانب سے بعض ضروری اقدامات، حفاظتی تدابیر اور ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ تقریباً وہی نسخہ ہے جس پر عمل کرکے گزشتہ برس ہم اس وبائی خطرے سے نمٹ چکے ہیں؛ چنانچہ ایک بار پھر موقع ہے کہ اسی ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے، خود غرضی، ہٹ دھرمی اور تجاہل سے پرہیز کیا جائے اور اپنا اور اپنے ہم وطنوں کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد کی جائے۔


ای پیپر