Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 مارچ 2021 (11:24) 2021-03-26

کورونا کے کیسیز میں ایک بار پھر سے تیزی دیکھی جا رہی ہے اور این سی او سی کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز پاکستان میں اس عالمی وباء کے 9 ماہ بعد ایک دن میں ریکارڈ 3ہزار 946 نئے کیسیز سامنے آ ئے ہیں۔ اس مہلک وائرس کی زد میں آ کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایک دن میں مزید 72 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے ساتھ ہی ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اس وقت فعال کیسیز کی تعداد 37 ہزار 985 ہے اور  ٹوٹل کیسیز 6 لاکھ 41 ہزار ہیں۔ اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا کے مثبت کیسیز میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے اور اس ساری صورتحال کا کون ذمہ دار ہے۔ عوامی سطح پر دیکھا جائے تو یہ بات بڑی واضح نظر آتی ہے کہ عوام کورونا وائرس کے حوالے سے انتہائی عامیانہ رویہ اپنا رہے ہیں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے کسی بھی احتیاطی تدبیر کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ پنجاب کے بڑے شہر جہاں ہر روز سیکڑوں کی تعداد میں نئے مثبت کیسیز سامنے آ رہے ہیں ان شہروں میں ایس او پیز کی سرِ عام دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ ہسپتال ہوں، عوامی مقامات ہوں، بازار ہوں ہر جگہ جمِ غفیر رہتا ہے اور ستم ظریفی کی بات ہے کہ ایسے میں کوئی بھی شخص اپنے چہرے پر ماسک لگانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کو بالکل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور لگتا ایسا ہے کہ لوگوں کو مصائب و مشکلات کا شکار ہونے کی لت پڑ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے مثبت کیسیز میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ لوگ بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو تب جا کر اس مہلک وائرس سے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔

تمام تر کوششوں کے باوجود کورونا کی تازہ لہر ایسا لگتا ہے کہ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ملک بھر میں کورونا کے جو کیسیز دو تین سو تک رہ گئے تھے اب ان میں دوبارہ شدت آنی شروع ہو گئی ہے۔ یہ 

اندیشے سر ابھارنے لگے ہیں کہ ملک بھر میں کورونا کی تیسری لہر مزید شدت کے ساتھ پھیل سکتی ہے اور یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ سال جب کورونا وائرس نے سر ابھارا تھا تب کہا جا رہا تھا کہ کورونا کی وباء موسمِ سرما میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے تاہم یہ بات بالکل غلط ثابت ہوئی اور صورحال اس کے برعکس نکلی۔ جب موسم سرما عروج پر تھا تو تب ملک بھر میں کورونا کے کیسیز میں کمی دیکھی گئی۔ اب جب کہ سردی کم ہوئی ہے تو اور گرمی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تو کورونا کیسیز میں بھی تیزی آنے لگی ہے۔ حکومت کی جانب سے کورونا پر قابو پانے کے لئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ اس کے باوجود کیسیز کی تعداد میں اس حد تک کمی نہیں آ رہی ہے بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور کی صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں تک عوام کا سوال ہے ایسا لگتا ہے وہ بھی بے فکرے ہو گئے ہیں اور انہیں کورونا کے خطرے کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے۔ عوام کی جانب سے لاپرواہی کے نتیجے میں بھی کورونا کی شدت میں دوبارہ اضافہ ہونے لگا ہے۔ ممکنہ حد تک احتیاط جو برتی جا رہی تھی اس کو ملک بھر میں عوام نے بالکل ہی فراموش کر دیا ہے۔ جب کہ حکومت احتیاط کرنے کی بار بار تاکید کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  کورونا پر جو کسی حد تک قابو پا لیا گیا تھا اسی کی دوسری کے بعد اب تیسری لہر طوفان بلا خیز بن کر پھر ایک بار شہروں کو اپنے ساتھ بہا لے جانے کے لئے سر کشی پر آمادہ ہے۔ہمیں کورونا کی تیسری لہر سے بچنے کے لئے چوکنا رہنا چاہئے تھا لیکن ہم نے بد احتیاطی شروع کر دی جب کہ عالمی ادارہ صحت نے پہلے بھی کئی بارا نتباہ کیا ہے کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا اس کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے لیکن اس کی ہر تنبیہ کو نظر انداز کیا گیا۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار سائنس اینڈ انجینئرنگ کے جاری کردی اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 192 ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 12 کروڑ 28 لاکھ 12 ہزار ہو گئی ہے جب کہ اب تک اس مہلک ترین اور موذی وائرس سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 27 لاکھ 9 ہزار اور اب تک 6 کروڑ 95 لاکھ 23 ہزار مریضوں کی شفایابی حاصل کی ہے۔ دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اور بری طرح متاثر امریکہ میں اس موذی مرض نے تباہی مچا رکھی ہے یہاں اب تک متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 3 کروڑ پر پہنچ چکی ہے۔ جب کہ 5 لاکھ 42 ہزار سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔   

ایک سال بعد پھر ہم اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں ایک بار پھر بے یقینی ہمارے اوپر منڈلانے لگی ہے۔ تب تو ہمارے پاس کوئی دوا، کوئی ویکسین نہیں تھی جب کہ آج ملک میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین کی پہلی ڈوز مل چکی ہے بلکہ کئی لوگوں کو تو دونوں ڈوزیں مل چکی ہیں اور اب روزانہ ویکسین سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ہر شہری کو یہ بات ملحوظِ خاطر رکھنی چاہئے کہ جب تک ہر فرد کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگ جاتی ہم میں سے کوئی بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں ہے لہٰذا ہر کسی کو گھر سے باہر نکلتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اس وقت ملک کو اپنے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ کووڈ پروٹوکول کی پابندی کرنا اس وقت سب سے بڑی حب الوطنی ہے یعنی ہاتھ دھونا، ماسک لگانا اور 6 فٹ کا فاصلہ اختیار کرنا، گھروں سے غیر ضروری نہ نکلنا، مارکیٹوں دوکانوں میں رش سے بچنا وغیرہ۔ ہمیں یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ آج سے ایک سال پہلے 19مارچ کو پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن کی ابتداء ہوئی تھی، اس دوران بہت سے خوشحال لوگ بد حال ہو گئے اور امیر لوگ خطِ افلاس سے نیچے آ گئے، غریب بیچارے تو فاقوں کو آن پہنچے تھے، بیروزگاری بہت بڑھ گئی تھی۔ حکومت کی بروقت اور بہترین پالیسیوں اور عوام کے تعاون سے حالات آہستہ آہستہ لوٹنے شروع ہوئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ ایک بار پھر تمام سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ لیکن اب ایک بار پھر اس وائرس کی تیسری لہر نے ایک اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جن اضلاع میں یہ دوبارہ تیزی سے پھیل رہا ہے وہ ملکی معیشت کے ایندھن کے طور جانے جاتے ہیں۔ 


ای پیپر