Ali Imran Junior, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 مارچ 2021 (11:22) 2021-03-26

دوستو، ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ 2025تک پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 20لاکھ تک پہنچ جائے گی جبکہ موجودہ آبادی 21 کروڑ 20 لاکھ ہے جس کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان کی شہری آبادی میں سالانہ 3 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔وسائل اور مسائل کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اگر آپ اپنی چادر سے زائد پیر پھیلائیں گے تو لازمی مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔۔

باباجی نے کل دوپہر ہمیں ایک واٹس ایپ تحریر بھیجی، جو کچھ اس طرح سے تھی۔۔۔اس ملک کا غریب ڈیڑھ سو روپے کلو والا گھی تین سوروپے فی کلو میں لے کر ہانڈی بناسکتا ہے، پچپن روپے کلو والی چینی ایک سو دس روپے کلو اور چارسو والی پتی چھ سوروپے کلو میں لے کر کڑک چائے پی سکتا ہے، ستر روپے لیٹر والا پیٹرول ایک سوپانچ روپے فی لیٹر میں لے کر موٹرسائیکل بھگاسکتا ہے، پچپن ہزار روپے تولہ والا سونا ایک لاکھ دس ہزار روپے فی تولہ میں خرید کر شادی کرسکتا ہے ۔۔لیکن۔۔۔اس فارمر سے ڈھائی سووالا چکن ساڑھے تین سو میں اور سوروپے درجن والے انڈے ایک سوساٹھ روپے فی درجن نہیں خرید سکتا جسے بائیس سو والا فیڈ بیگ سینتیس سو روپے میں مل رہا ہے۔۔ادویات چارسوفیصد مہنگی، بجلی دوسوفیصد مہنگی۔۔ اُس کسان سے تیرہ سووالی گندم دوہزار میں خریدکرروٹی نہیں پکاسکتا جس کسان کو بارہ سو روپے والی یوریا اٹھارہ سو میں اور اٹھائیس سو والی ڈی پی اے پچپن سو میں بھی نہیں مل رہی۔۔ آخرکیوں۔؟؟ کیوں کہ اس ملک کا غریب اب اتنا غریب بھی نہیں جتنے غریب کے حمایتی بے ضمیر اور بے غیرت ہیں، ان بے ضمیروں اور بے غیرتوں کے کاروبار سے جڑی مہنگائی ، مہنگائی نہیں کہلاتی۔۔ان بے ضمیروں سے عرض ہے کہ اگر غریب کے لئے کچھ کرنا ہی ہے تو گھی، آٹا، چینی،کپڑا سستا کرو۔۔کیوں کہ جب یہ سب کچھ کسان کو سستا ملے گا تو گندم، کپاس ،دیگر فصلیں خود سستی ملنے لگیں گی۔۔

باباجی کی اس واٹس ایپ تحریر سے ہمیں بالکل بھی اتفاق نہیں۔۔ جس طرح انگریزی کے ہرجملے میں ’’دا‘‘ لگ جاتا ہے،اسی طرح ہم پاکستانیوں کا بھی جہاں ’’دا‘‘ لگے ،لگانے میں منٹ نہیں لگاتے۔۔(یہ ’’دا‘‘ پنجابی کا ہے جسے اردو میں ’’داؤ‘‘ کہتے ہیں)۔۔ایک 70 سالہ شخص ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے گیا۔ڈاکٹرنے اس کی عمر پوچھی تو حیران رہ گیا،پوچھ بیٹھا۔۔آپ کی اچھی صحت کا رازکیا ہے؟ وہ بولا۔میں سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھتا ہوں اور یوگا کے لئے باہر جاتا ہوں اور پھر آکر پراٹھا آملیٹ اور فروٹ کھاتا ہوں!شاید یہ میری صحت کا راز ہے۔ ۔ڈاکٹرنے حیرت سے یہ سب کچھ سنا،پھر اگلا سوال داغ دیا۔۔ٹھیک ہے، لیکن کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کے والد کی وفات کتنی عمر میں؟وہ شخص کہنے لگا۔۔ کس نے آپ کو کہا کہ وہ فوت ہوگئے؟ ڈاکٹر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا، بولا۔۔آپ کی عمر 70 سال ہے اور اب تک آپ کے والد زندہ ہیں تو انکی کی عمر کتنی ہے؟ وہ شخص بتانے لگا۔۔وہ بانوے سال کے ہیں اور آج صبح میرے ساتھ یوگا کیا، دو گلاس دودھ پیئے اور ناشتہ کیا۔۔ڈاکٹرنے پھر سوال کرڈالا۔۔کمال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی فیملی کی جینز میں لمبی عمر ہے۔تو جب آپ کے دادا کی وفات ہوئی تو وہ کتنے سال کے تھے؟۔۔وہ شخص زچ ہوکر بولا۔۔ارے اب تم میرے دادا کو کیوں مار رہے ہو ؟ ڈاکٹر پریشان سا ہوگیا، پوچھ بیٹھا۔۔ آپ کا مطلب ہے کہ آپ کی عمر 70 سال ہے اور آپ کے دادا اب بھی  زندہ ہیں!ان کی عمر کیا ہے؟؟وہ شخص مسکراکوبولا۔۔میرے داداکی عمر 120سال ہے۔۔ڈاکٹر کہنے لگا۔ مجھے لگتا ہے انہوں نے بھی آج صبح آپ کے ساتھ یوگا کی ہوگی اور ہیوی ناشتہ کیا ہو گا؟وہ شخص ہنستے ہوئے بتانے لگا۔۔ نہیں، دادا آج صبح نہیں جاسکے کیونکہ آج ان کے گھر بیٹا ہوا ہے اور وہ دادی کی نگہداشت کر رہے ہیں۔۔نوٹ:اب ڈاکٹر باقاعدگی سے یوگا کر رہا ہے،بھاری ناشتہ کر رہا ہے اور کلینک بند ہے۔

ایک شہری کسی گاؤں میں مہمان بن کر گیا۔ جمعہ کا روزتھا، اور نماز جمعہ تو ہر شہری کی لازمی کوشش ہوتی ہے کہ لازمی پڑھ لے، کیوں کہ اس نے اپنے طور پر یہ سمجھ لیا ہوتا ہے کہ نمازجمعہ فرض ہے، باقی نمازوں کی خیر ہے اس کا کون سا پوچھا جائے گا۔۔نماز کے وقت مہمان و میزبان نماز پڑھنے گاؤں کی مسجد میں گئے۔نماز جب شروع ہوئی تو پیش امام نے ساری نماز غلط سلط پڑھی، نہ الفاظ صحیح تھے نہ حرکات و سکنات۔واپسی پر مہمان نے میزبان سے کہا۔۔آپ کے امام صاحب نے ساری نماز غلط پڑھی۔میزبان بولا، عموماً تو ایسا نہیں ہوتا مگر جب نشے میں ہو تو پھر نماز میں چوک بھی جاتا ہے۔۔مہمان کو شاک لگا۔۔کیا؟؟ امام صاحب نشہ کرتے ہیں؟؟میزبان نے مسکرا کرکہا۔۔ ارے نہیں، نشہ نہیں کرتا، بس جب مجرا دیکھنے جاتا ہے،تو وہاں تھوڑی سی پی لیتا ہے۔مہمان نے لاحول پڑھتے ہوئے کہا۔یعنی امام صاحب طوائف کے کوٹھے پر بھی جاتے ہیں؟؟ میزبان نے بڑی معصومیت سے کہا، ہاں مگر صرف اس وقت جاتا ہے جب جوئے میں کچھ کما لیتا ہے،ورنہ ہر روز نہیں جاتا۔مہمان کوپھر حیرت ہوئی، پوچھا۔۔تو جوا بھی کھیلتے ہیں امام صاحب؟؟میزبان نے بڑی سادگی سے کہا۔۔ جوا کب کھیلتا ہے، وہ تو چوری میں کچھ پیسہ ہاتھ آ جاتا ہے تو تھوڑا سا کھیل لیتا ہے۔مہمان کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا، کہنے لگا۔۔ کمال ہے ایسے آدمی کو آپ نماز کے لئے آگے کر دیتے ہو۔میزبان نے جواب دیا۔۔۔بھئی کیا کریں، اگر اس کو آگے نہ کریں تو پیچھے پھر جوتے چراتا ہے۔۔نوٹ: میرے سوا کوئی آپشن نہیں،کپتان کے بیان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔

عالمی یوم خواتین پرجب ایک لڑکی ایک نوجوان کے مسلسل گھورنے سے پریشان ہوئی تو ساتھ سیٹ پہ بیٹھی بزرگ عورت سے بولی۔۔یہ بے حیا مرد پچھلے آدھے گھنٹے سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھ رہا ہے۔ بوڑھی اماں نے سر سے پائوں تک لڑکی کو دیکھا اور اطمینان سے بولی۔۔ یہ وہی دیکھ رہا ہے جو تم نے دکھانے کے لیے اتنے چُست کپڑے پہن رکھے ہیں۔۔ موصوفہ گرج دار آواز میں بولی۔۔میرا جسم، میری مرضی۔۔بُزرگ عورت حماقت پر مبنی اس جملے کو سُن کر کہنے لگیں۔۔اگر تُمہارا جسم تُمہاری مرضی ہے تو اُس نے کونسی آنکھیں بینک سے قرضے میں لے رکھی ہیں! اُس کی آنکھیں اُسکی مرضی۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ تیرے جانے کے بعد وقت تھم سا گیا۔بعد میں پتا چلا کہ گھڑی کا سیل ختم ہو گیا تھا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر