Riaz ch, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 مارچ 2021 (11:18) 2021-03-26

 امریکی وزیر خارجہ انیٹونی بلنکن نے واضح کیا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے حتمی انخلا بیک وقت ہوگا اور یہ فیصلہ باہمی مشاورت سے ہوگا۔ افغانستان میں جنگ کا ’’ذمہ دارانہ اختتا م‘‘ چاہتے ہیں اور اس امر کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد یہ خطہ دوبارہ ’’دہشت گردوں کی پناہ گاہ‘‘ نہ بنے۔

صدر بائیڈن پچھلے ہفتے یہ کہہ چکے ہیں یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر افواج کا مکمل انخلاء مشکل ہوگا۔ لہٰذا اس بارے میں امریکہ نے بھی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن یہ فیصلہ اتحادیوں سے مشاورت کی ر و شنی میں ہی ہوگا۔ افغانستان پر ڈپلومیسی آگے بڑھ رہی ہے اور یکم مئی کی ڈیڈ لائن کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان پر ماسکو میں ہونیوالی کانفرنس کو نتیجہ خیز قرار دیا جو چار ممالک روس، چین، امریکہ اور پاکستان کے در میا ن ہوئی۔ ماسکو میں ہونے والی افغان امن کانفرنس میں افغان فریقین سے تشدد میں کمی، جنگ بندی، افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے اور امن کے اہم نکات پر فوری بات چیت کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔

روس کی میزبانی میں ہونے والی ماسکو کانفرنس میں طالبان، افغان حکومتی اور سیاسی نمائندوں کے علاوہ امریکی نمائندہ خصو صی زلمے خلیل زاد، پاکستان اور چین کے نمائندوں نے شرکت کی۔کانفرنس میں ترکی اور قطر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں کئی اہم افغان رہنما بھی شریک ہوئے جن میں افغانستان کی سپریم قومی مفاہمت کونسل کے چیئرمین عبد اللہ عبد اللہ، سابق صدر حامد کرزئی، مارشل عبدالرشید دوستم اور ملاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان کے دس سینئر نمائندے شامل تھے۔

کانفرنس میں طالبان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ برس والا معاہدہ بھی زیر غور آیا۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ہم دونوں فریقین سے 

کہتے ہیں کہ وہ اس معاہدے پر قائم رہیں جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں حمایت حاصل ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ دوحہ میں شروع ہونے والے سیاسی عمل کے نتائج اب تک سامنے نہیں آئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ماسکو کی گفتگو سے ایسا ماحول بنانے میں مدد ملے گی جس سے بین الافغان مذاکرات کو فروغ ملے گا۔

افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے ماسکو کانفرنس کے دورا ن امید ظاہر کی کہ افغان نہ صرف جنگ بندی سمیت ایک سیاسی مفاہمت پر بلکہ عبوری حکومت کے قیام پر بھی رضامند ہوجائیں گے۔روس بھی افغانستان میں ایک عبوری حکومت کی تجویز کی حمایت کر رہا ہے جس میں طالبان کے اراکین بھی شامل ہوں گے۔ یہ عبوری حکومت افغانستان میں انتخابات اور نیا آئین نافذ ہونے تک قائم رہے گی۔ افغان صدر اشرف غنی نے تاہم عبوری حکومت کی تجویز مسترد کردی ہے۔ طالبان نے بھی اس تجویز پر ابھی کوئی واضح موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔ماسکو حکومت بھی افغانستان میں ایک عبوری حکومت کے قیام کی خواہش مند ہے۔ تاہم اس خیال کو صدر اشرفف غنی کی حکومت سختی سے مسترد کر چکی ہے۔ انہوں نے ایک تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی کا واحد راستہ نئے انتخابات ہیں۔ طالبان نے بھی جنگ بندی اور انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گو کہ عبوری حکومت میں شامل نہیں ہوں گے لیکن وہ اس طرح کی حکومت کے خلاف بھی نہیں ہیں۔

ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت ہوا جب افغانستان میں امن و سلامتی کی صورت حال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ کانفرنس شروع ہونے کے روز ہی سڑک کے کنارے ایک بم دھماکا ہوا، جس سے ایک بس میں سوار حکومت کے چار ملازمین ہلاک ہوگئے۔ اس سے ایک دن قبل ایک ہیلی کاپٹر پر حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں افغان سکیورٹی فورسز کے نو اہلکار مارے گئے تھے۔بس پر ہونے والے حملے کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم افغان حکومت اس طرح کے حملوں کے لیے طالبان کو مورد الزام ہی ٹھہراتی رہی ہے۔

کانفرنس میں طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کا کہنا تھا’’معاہدہ فریقین کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ اسلامی امارات نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں اور ہم دیگر فریقین سے بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں۔ مستقبل کا اسلامی نظام بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ بین الاقوامی برادری، افغانستان کے عوام اور اس کے ہمسایہ ممالک سب کو فائدہ ہو سکے۔ ہم کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔افغانوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے۔‘‘

ماسکو میں امن مذاکرات کا انعقاد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات کے تعطل کا شکار ہو جانے کے بعد کیا گیا تھا۔ اسی طرح کی ایک اور امن کانفرنس اپریل میں ترکی میں منعقد ہونے والی ہے۔’’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘‘ کے مصداق افغان امن عمل تب ہی پروان چڑھے گا جب فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے ۔ ماضی میں بھی کئی بار بداعتمادی کے باعث دوچار ہاتھ لب بام رہ جانے کے باوجود کمندیں ٹوٹتی رہی ہیں اس لئے فریقین ہی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جہاں کہیں بھی سقم نقص یا کمزوری ہے اس کو دور کیا جائے تاکہ بیل منڈھے چڑھے اور خطے میں امن قائم ہو۔ امریکی اور طالبان قیادتیں بداعتمادی کی فضا پیدا نہ ہونے دیں۔ اس سلسلے میں جن ملکوں نے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے وہ بھی متحرک رہیں اور امن معاہدے کی پاسداری کرائیں۔


ای پیپر