Leading leaders of political parties are allies of the sugar mafia, the FIA ​​director revealed
کیپشن:   فائل فوٹو
26 مارچ 2021 (08:59) 2021-03-26

اسلام آباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد رضوان نے دعویٰ کیا ہے کہ شوگر مافیا اتنا طاقتور ہے کہ ان کے ساتھیوں میں سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما بھی شامل ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا کیخلاف ایف آئی اے کی جانب سے حال ہی میں جو کارروائیاں کی گئی ہیں، ان میں کئی ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران شوگر مافیا کے قبضے سے متعدد ڈیجیٹل ڈیوائسوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا سے جو حساس ڈیٹا قبضے میں لیا گیا ہے، اسے پرنٹ شکل میں لانا شروع کر دیں تو ہزاروں کتابیں چھپ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا ناصرف سٹے بازی میں ملوث تھا بلکہ فراڈ کے ذریعے رمضان سے قبل چینی کی قیمتوں کو اوپر لانے کا پروگرام بنائے بیٹھا تھا۔ جن افراد کا ٹھوس شواہد پر مشتمل ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے، یہ تمام لوگ آپس میں رابطے میں تھے۔

ڈاکٹر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا کی ڈیجیٹل ڈیوائسز کیساتھ ساتھ ایسے کچے کھاتے بھی قبضے میں لئے جا چکے ہیں جن کے ذریعے فراڈ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مافیا کیخلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں ایف آئی اے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ شوگر مافیا کمال ہوشیاری سے اپنے کالے دھن کو اپنے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کرتا تھا۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما بھی ان کے ساتھی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے شوگر مافیا کیخلاف ثبوت ہی اکھٹے کئے گئے ہیں، ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے، فی الوقت مافیا کے افراد کے اکاؤنٹس کی چھان بین کا عمل جاری ہے۔

ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ ثبوتوں کی بنیاد پر شوگر مافیا کیخلاف مقدمے درج کر دیئے گئے ہیں۔ ان میں سے 10 گروپس ایسے ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ بہاولپور، خانیوال، حاصل پور اور ملتان کے گروپوں کیخلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔


ای پیپر