عثمان بزدار.... علمی درسگاہوں کا شیر شاہ سوری
26 مارچ 2021 2021-03-26

چاند پر قدم رکھتے ہی ایک خیال جس نے خلاف توقع دل کے آئینے میں انگڑائی بھری اور وہیں پہ ٹھہر گیا۔ خلا کی آنکھ کی کیا مجال کہ اس انگڑائی کے آگے پلک تک جھپک پاتی۔ پہلے بڑھیا کے ساتھ چرخہ کاتتے کاتتے ہمارا ادراک جوان ہوا اور ابھی پاو¿ں دھرے بھی نہیں تھے کہ ادراک کسی اور دنیا کی کہانی بتانے لگ گیا۔ انسانی ذہن کے سفر کی کہانی ہمارے وجود سے عبارت ہے۔ ہم کہیں نہ کہیں دیومالائی کہانیوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتے ہیں۔ کیرن آرم سٹرانگ نے صحیح ہی کہا تھا کہ یہ دیومالائی کہانیاں ہی اس جدید سائنس کی بنیاد ہیں۔ ہمارا علم ہماری حفاظت کرتا ہے اوریقینی طور پر ہم اس خطے کے باسی ہیں جہاں سورج انگلیوں پر اگائے جاتے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی علمی اشاریے ہمیں ہمارے ادراک سمیت قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کا دانشور ہر صورت علمی محاذ پر ہماری یکساں تعلیمی پالیسی کا تقاضا کر رہا ہے۔ یوں تویہ نعرے ہر دور میں ہر گلی کوچے میں لگائے گئے کہ تعلیم سب کا حق ہے مگر پھر ہم موضوعات تلاش کرنے کے لیے اور عالمی اداروں سے فنڈنگ کی غرض سے باتھو قبیلے کی قلم پر گرفت کو ہماری جفاکشی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ہمیں تعلیم سب کے لیے کے نعرے پر کب تک بیچا جائے گا؟ ذاتی طور پر میرٹ کی پاسداری کو ایمان کا حصہ خیال کرنا کوئی اچنبے کی بات نہیں مگر اس دھرتی پر اب ایسا کہنا بڑی آسانی سے گناہ کبیرہ کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ہمارے ہاں نہ ہی تو کوئی مکالمے کی فضا ہے اور نہ ہی نئی بات کی گنجائش!کئی دہائیوں سے شور ہے کہ پیچھا کر رہا ہے۔اپنی آنکھوں کے سامنے ٹیسٹ ٹیوب ادارے وجود میں آتے ہوئے دیکھے۔ سرکار محض خاموش تماشائی بن کر خاص اشرافیہ کی معاون نظر آئی تاہم کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے جو اب بدلنے جا رہا ہے اور اس حوالے سے موجودہ حکومت کے تعلیم دوست اقدامات قابل ستائش ہیں۔ یقینی طور پر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عثمان بزدار کسی بھی قسم کے تصنع سے بہت دور کھڑا اپنے ادراک پر نئے دئیے جلانے کی ٹھان چکا ہے۔ میرے لیے ابھی دنیا کی قدیم درسگاہ ٹیکسلا سے اپنی باقیات چننے کا عمل جاری تھا کہ عثمان بزدار کے انقلابی اقدام نے چانکیہ کی صورت مجھے آن لیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری کے قدموں سے سہلائے رستوں پر اب ہماری آنے والی نسلیں علم کے میناروں کوعجوبہ تصور نہیں کریں گی۔ عثمان بزدار کیا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ آپ کن رستوں پر چل پڑے ہیں؟ یہ علم یقینی طور پر طبقاتی تقسیم کے خلاف جدید انسان کاپہلا اور آخری ہتھیار ہے۔ ہمارے لیے آپ کے تعلیم دوستی پر مبنی اقدامات بڑے معنی خیز ہیں۔ اتنی آسانی سے آپ نے ہماری آدھی آبادی کو خودمختاری کے راستوں پر گامزن کر دیا ہے۔ وہ رستے کہ جن کی پیمائش بطور باپ ایک غریب آدمی کے لیے کرنا محال تھی۔ آپ نے اس سرسوتی کو ہمارے دروازوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ہم بھیک مانگیں یا اس سے فیض یاب ہوں ‘ تاریخ عثمان بزدار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ یونیورسٹی آف چکوال ہو، یا میانوالی۔ راولپنڈی وویمن یونیورسٹی ہو یا کہسار یونیورسٹی۔ سب ہی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بلوچ کردار میر چاکر ایک بار پھر عوامی ہیرو بن کر ہمیں بچانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ بھکر کے تھل ہوں یا سکندر کا رستہ‘ راجا سال بھان کی دھرتی ہو یا گرووں کا دیس۔ رام چند کے لو کی زمین ہو یا میرانیوں کی کہانیوں کا دیس۔ یہاں دوبارہ سے وہ قصے کہانیاں سنائی جائیں گی جو اب دیومالائی نہیں رہیں گی۔ مفروضوں کو اس بار منہ کی کھانی پڑے گی۔ معلوم عالمی علمی اشاریے یقینی طور پر ریاضی کی اس دھرتی پر اپنی بھولی بسری گنتی کے علوم سے بغل گیر ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدارآپ کو وزیر اعلیٰ لکھتے ہوئے ایک خوف سا لاحق ہوتا ہے کہ ہماری ارض پاک کی مختصر معلوم تاریخ میں وزیر اعلیٰ کا لفظ ہم جیسے لوگوں کو مافوق الفطرت کرداروںسے خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ہماری زندگی ہماری خوبصورت چراگاہوں میں اپنے مال ڈنگر حفاظت سے واپس گھر لے جانے میں گزری ہے اور شاید وہی روایت اور روح سے جڑی آپ کی عادت ہمیں دوبارہ اس تہذیبی دروازے پر لے کر جائے گی جہاں پر دیوی سرسوتی ہمارا استقبال کرے گی اور ہمارے چولہوں پر علم کی ترکاری پکائی جائے گی۔ عثمان بزدار ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صوفیا کے دیس میں ایک بار پھر برابری ‘ محبت ‘ بھائی چارے اور علم کا علم بلند ہونے جا رہا ہے ایسے اقدامات آج نہیں تو کل یقینی طور پر اس جاگیردارانہ اور استعماری قوتوں سے ان کے آخری استحصالی ہتھکنڈوں کو بھی چھین لیں گے۔ عثمان بزدارآپ کا علم دوست اقدام صدیوں یاد رہے گا مگرآپ سے التجا ہے کہ آپ اس سارے عرصے میں عثمان بزدار رہیے گا نا کہ کوئی وزیر اعلیٰ۔ وقت کے میر چاکر آپ نے ہماری اصل پیاس کو پہچان لیا ہے۔ ہماری نسلیں صدیوں سے علم کی پیاسی ہیں مگر یہاں انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا گیا تھا۔ یہ آپ کا کمال ہے کہ آپ نے راستوں کو علم کی درس گاہوں سے روشن کرنے کی ٹھان لی ہے جس کے اثرات کا ذائقہ معاشرتی ‘ معاشی اور عالمی سطح پر ہماری آنے والی نسلیں چکھیں گی۔ ہمارے دریاو¿ں کا پانی اس علمی بیج کی آبیاری کرتا رہے گا اور ہمارے صوفیا کی درگاہیں یونہی مساوات کا درس دیتے ہوئے روشن رہیں گی۔


ای پیپر