کرونا نے گلوبل ویلیج نذر آتش کر دیا
26 مارچ 2020 2020-03-26

کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی تیز رفتار ترقی نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سرحدی پابندیوں سے آزاد ہو گئی جس سے Borderless world کی اصطلاح گھڑ لی گئی ۔ گلوبل ویلیج کا ڈھنڈورا نیو ملینیئم یعنی 2000ء کے نئے ہزار سال کے آغاز پر سننے میں آیا۔ آج آنکھ جھپکنے میں جس برق رفتاری سے کرونا نے گلوبل ویلیج کو اپنی لپیٹ میں لیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ امریکہ کا سپر پاور کا طلسم خاک میں مل چکا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ سپر پاور اللہ کی ذات ہے۔ کرونا نے دنیا کو یکسر تبدیل کر دیا ہے جو اس سے بچ جائیں گے ان کے لیے یہ دنیا وہ نہیں ہو گی جو کرونا سے پہلے ہوا کرتی تھی۔ گلوبل ویلیج ایک بہت بڑا تاریخی مغالطہ ثابت ہوا اور اب دنیا انہی جغرافیائی حدود میں واپس آتی دکھائی دیتی ہے جہاں ایک ملک سے دوسرے ملک کی سرحدیں تو کیا ایک شہر سے دوسرے شہر تک کی راہداریاں بند ہیں۔ گویا کرونا نے گلوبل ویلیج کے تصور کو نذر آتش کر دیا ہے۔

اگر ہم انسانی تہذیب کے ابتدائی مدارج پر نظر دوڑائیں جہاں آج کے دور کو کمپیوٹر کا دور کہا جاتا ہے اس سے پہلے کے ابتدائی زمانوں میں پتھر کا زمانہ اور کاپر یا تانبے کا زمانہ کے اصطلاحیں موجود ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پتھر کے زمانے سے پہلے حیات انسانی کا ابتدائی دور تاریخ میں Ice Age یا برف کا زمانہ ہوتا تھا جب روس (سائبیریا) سے لے کر الاسکا (امریکہ) تک برف ہی برف تھی۔ انسانوں کی زندگی کا انحصار برف کے نیچے چھپے ہوئے سبزہ کی تلاش پر تھا۔ اس دور میں برفانی ریچھ یا Ice Bear ایک ایسا جانور تھا جس کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ برف کے نیچے چھپے ہوئے سبزہ کی موجودگی سونگھ لیتا تھا اور اپنے پنجوں سے برف کرید کر سبزہ نکال کر رکھاتا تھا اس وقت زندگی کا محور Arcticیا قطب شمالی کا علاقہ تھا۔ جب انسانوں کو برفانی ریچھ کی خوراک ڈھونڈنے کی صلاحیت کا پتہ چلا تو انہوں نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا کہا جاتا ہے کہ اسی دور میں عورتیں اور مرد جن کی تعداد 10 تھی ایک برفانی ریچھ کا پیچھا کرتے کرتے روس سے امریکہ پہنچ گئے جب زمین کا درجۂ حرارت بڑھنے لگا تو آہستہ آہستہ برف پگھلتے پگھلتے سمندروں کی شکل اختیار کر گئی اور ان سمندروں کے درمیان مختلف براعظم بن گئے۔ باقی تہذیب اپنے ارتقاء کے ساتھ ترقی کرتی چلی گئی مگر جو 10 لوگ الاسکا گئے تھے وہ دنیا سے الگ تھلگ وہیں رہ گئے۔ وہ بالکل جانوروں کی زندگی بسر کرتے تھے اور افزائش نسل کے معاملے میں کوئی حدود و قیود اور اخلاقیات نہ تھی جس کی وجہ سے اس نسل میں طرح طرح کی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔

1492ء میں جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو کولمبس اور اس کے ساتھی جب اپنے علاقے میں واپس

آئے تو وہ ساری بیماریاں ساتھ لے کر آئے جو باقی دنیا میں پھیل گئیں کولمبس کے بعد سپین ، روس، فرانس سے بحری کشتیوں میں لوگ امریکہ گئے یہ 16 ویں اور 17 ویں صدی کی بات ہے تو اس انسانی اختلاط نے مزید بیماریاں مستقل کیں جس کے بعد انسانوں نے شادی کو رواج دیا کہ ایک مرد ایک عورت کے ساتھ زندگی گزارے گا۔ فرانس نے سب سے پہلے ساحل سمندر پر قرنطینہ بنایا کہ باہر سے آنے والوں کو 40 روز کے لیے وہاں روکا جاتا تھا اس کے بعد صحت مند کو آنے دیا جاتا اور بیمار کو واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ بیماریوں سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہ تھا ۔ قدرتی مدافعت ہی سب سے بڑی تدبیر تھی یہ سلسلہ اینٹی بائیوٹک دوائیوں کی ایجاد یعنی 1928ء تک جاری رہا پھر آہستہ آہستہ ختم کر دیا گیا۔

اب تاریخ کے اگلے قدم کی طرف بڑھتے ہیں انگلستان کے بادشاہ ہنری پنجم نے 1794ء میں اپنے شہریوں کی شناخت کے لیے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کیا تاکہ برطانوی شہریوں کی دنیا میں پہنچا ن ہو سکے برطانیہ چونکہ ایک طاقت تھا لہٰذا برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے کسی شخص کو کسی ملک کی سرحد پر نہیں روکا جاتھا تھا۔ آہستہ آہستہ دیگر ممالک نے بھی اس کی پیروی کی اور اس طرح ویزا سسٹم وجود میں آیا۔

اصل کہانی ویزا اورپاسپورٹ کے بعد شروع ہوئی جب امیر ممالک کے ایک گروپ نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا کہ وہ ایک دوسرے کے شہریوں کو اپنے ملکوں میں آنے دیں گے۔ اس غیر اعلانیہ معاہدے سے غریب ممالک کو نکال دیا گیا اس کے بعد اب وقتاً فوقتاً یہ ممالک نئے امیر ہونے والے ممالک کو شامل کر لیتے ہیں۔ اس طرح دنیا امیر اور غریب ممالک میں تقسیم ہوتی گئی البتہ غریب ممالک کے امراء کے لیے کسی بھی ملک کی سرحدیں رکاوٹ نہیں ہوتیں۔ گویا گلوبل ویلیج بھی ہمارے روایتی گاؤں کا ماحول تھا جس میں کمی کمین طبقے کے لیے اور قانون تھا اور گاؤں کے چوہدریوں کے لیے اور قانون ہوتا تھا۔

کرونا کے بعد اب گلوبل ویلیج کے چوہدریوں کو بارڈرز کی اہمیت کا احساس ہو جائے گا اور ایک دفعہ پھر دنیا واپس پرانے دور کی طرف جائے گی جس میں بارڈر پر پہرہ پہلے سے زیادہ سخت ہو گا لیکن اس دفعہ یہ سختی صرف کمی کمین ممالک پر نہیں ہو گی بلکہ اس کی زد میں چوہدری بھی آئیں گے۔ اسے آپ تہذیب کا ارتقاء کا نام دیں یا پرانے نظام کی طرف واپسی کہیں۔ دونوں صورتوں میں بات ایک ہی ہے ۔ انسانوں کی شناخت اب شہریت سے نہیں ان کی جسمانی صحت سے ہوا کرے گی۔ امریکہ جیسا ملک یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن پر عمل نہ ہوا تو 25لاکھ امریکی اس وائرس کا شکار ہو جائیں گے۔

جن ممالک نے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا وہ کرونا کے نقطۂ آغاز یعنی چین کے پہلو میں واقع ہونے کے باوجود اس سے محفوظ ہیں جن میں ہانگ کانگ ، سنگا پور اور جاپان کی مثالیں واضح ہیں اس کے برعکس جن ممالک نے شروع میں اس کو اہمیت نہیں دی ان کی حالت بہت تباہ کن ہے جس میں اٹلی، فرانس، سپین حتیٰ کہ امریکہ بھی شامل ہے۔

چین والوں نے دنیا کو ثابت کیا ہے کہ "Isolation is the best medicine"کہ اس سے بچنے کی سب سے بہترین تدبیر اپنے آپ کو تنہائی میں رکھنا ہے جب تک یہ نہیں ہو گا اور کوئی حل نہیں کیونکہ ابھی تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہو سکی۔ دنیا بھر کی دوا ساز کمپنیاں مصروف ہیں مگر ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی اس مرض میں شرح اموات 2-3فیصد ہے مگر اس وقت یہ پوری دنیا میں خوف اور دہشت کی علامت بن چکا ہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ کرونا کے لیے اپنے ہر شہری کا ٹیسٹ کر سکے۔ ایک ٹیسٹ کی قیمت 7 ہزار روپے ہے۔ احتیاط ہی واحد علاج ہے۔

سعودی عرب نے تمام سعودی حج آپریٹرز کو کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے ایجنٹس کے ذریعے حج کے لیے کسی سے کوئی پیسہ ایڈوانس جمع نہ کریں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حج کے کینسل ہونے کے امکانات ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ جب حج کینسل ہو سکتا ہے ۔ حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات بند ہو سکتے ہیں تو ہمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنا ہوں گی۔


ای پیپر