عالمی تبدیلی کا کورونا
26 مارچ 2020 2020-03-26

مغرب نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کی وہ گلیاں جو امارت اور تہذیب کا نمونہ سمجھی جاتی ہیں اس طرح ویران ہو سکتی ہیں۔ اس سے پہلے یورپ میں "کالی موت" نے 1348 میں جو تباہی مچائی اس نے سیاسی سے زیادہ سماجی اور انسانی المیوں کو جنم دیا تھا۔ اب 2020 میں اپنی نوعیت اور شدت کی وجہ سے کورونا وائرس دنیا کی ایک خطرناک اور دور اثر وباء بنتی نظر آ رہی جو اپنے ساتھ ایک عالمی تبدیلی بھی لا رہی ہے جس کے معاشی, سیاسی, معاشرتی اور انسانی پہلو ہیں۔ عالمی سطح پر " تبدیلی کا کورونا " اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ اس وائرس نے عالمی معیشت کے وہ ستون جو مغرب کی معاشی اجارہ داری کو برقرار رکھے ہوئے تھے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔

29 جون 2019 عالمی ہوا بازی کی صنعت کا مصروف ترین دن تھا جہاں 24 گھنٹوں میں دو لاکھ پروازیں ہوا میں بلند تھیں۔ ایک سال میں 50 ملین سے اوپر پروازیں اس عالمی ہوا بازی کی صنعت کو چلا رہی ہیں۔ کورونا وائرس زمین پر آیا ہے مگر اس نے فضا میں روزانہ اڑنے والے 44 ہزار جہاز بھی زمین پر اتار دیے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی ہوا بازی سے جڑی صنعتیں بیٹھ گئی ہیں۔ کس طرح کے اقدامات ایئرلائنز کی رونق بحال کریں گے اس کے بارے میں فی الحال کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

کورونا وائرس نے تیل پر بھی ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ لگتا ہے کہ تیل کافی عرصے تک اپنی اوقات میں رہے گا۔ مستقبل میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت اور اس میں استحکام اس وائرس سے افاقے یا شفاء سے منسلک ہو گا۔ عالمی اسٹاک مارکیٹ گراوٹ کا شکار ہے جس کی حدود اور اثرات پر فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ امریکہ اور یورپ جیسے ملکوں میں بیروزگاری پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے تاہم کورونا وائرس نے اسے ایک المیہ میں بدل دیا ہے۔

بین الاقوامی تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی صنعت و حرفت کے پاس بنانے اور خریدنے والے دونوں کا قحط پڑ گیا ہے۔ جس طریقے سے عالمی سپلائی کی زنجیر ٹوٹی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ عالمی سپلائی کے نظام میں جو خلل آیا ہے اس نے ہوابازی, مواصلات, سیاحت, کھیل, ہوٹلز اور خردہ فروشی کی رفتار آہستہ نہیں کی بلکہ سارے نظام کو روک دیا ہے۔ عالمی معیشت میں گراوٹ کے حجم اور شدت کا فی

الحال اندازہ ممکن نہیں تاہم حالات بتا رہے ہیں کہ یہ وائرس عالمی معیشت کے ڈھانچے میں واضح تبدیلی لائے گا۔ عالمی منڈی میں ایک خوف اور پریشانی کا عالم ہے۔ عالمی معاشی سرگرمیوں میں واضح اور دور اثر کمی آ چکی ہے۔ امریکی معاشی توسیع کی بربادی اور یورو معیشت کی تباہی سامنے نظر آ رہی ہے۔ کورونا وائرس مغرب سے بہت بڑی معاشی قیمت جرمانے کے ساتھ وصول کرے گا۔ ایسے لگتا ہے کہ مغرب کی معاشی اجارا داری ختم ہونے جا رہی ہے۔

کیا عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا وقت بھی آگیا ہے اور کیا اسکا ڈنکا کورونا وائرس نے بجا دیا ہے؟ اس وقت بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں تلخی پائی جاتی ہے۔ امریکی صدر آنے والے انتخابات کی وجہ سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ دوسری طرف کورونا وائرس کے خلاف چین نے اپنے وجود کی حقیقت ایک قوم کے طور پر دنیا کے سامنے ثابت کر دی ہے۔ اپنی عوام کو کس طرع سے بچانا ہے یہ آج کا سب سے بڑا سیاسی اور انسانی سوال بن گیا ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹ کر چین نے اپنی عالمی سیاسی اجارہ داری کی بنیاد رکھ دی ہے۔

سیاسی محاذ پر کورونا وائرس کی وجہ سے دہشت گردی بھی ایک فرضی خطرہ بن کر رہ گئی ہے۔ دنیا کو جنگ, تیل کی قیمتیں اور انٹرسٹ ریٹ جیسے مسائل سے عارضی طور پر نجات مل گئی ہے۔

کورونا وائرس نے حب الوطنی کی روایتی فوجی تعریف بھی بدل کر رکھ دی ہے۔ اپنے ملک کے لوگوں کی صحت اور زندگی کی حفاظت زیادہ اہم ہو گی ہے۔ مستقبل میں مہذب عالمی معاشرہ ڈاکٹروں اور نرسوں کو سلیوٹ کرے گا جیسے پہلے فوجیوں کو کیا جاتا تھا۔ عالمی سطح پر قومی یکجہتی اور مذہب کی طرف رحجان بڑھے گا۔ کورونا وائرس ہاتھ ملانے سے لے کر سفر، خریداری اور کام کے طریقوں تک میں تبدیلی لاے گا۔ عالمی سیاست بدلے گی اور یہ " کورونا تبدیلی " ہو گی۔ ٹیکنالوجی کا عیار اور لچکدار استعمال بھی دیکھنے میں آئے گا۔ ایک بات کورونا وائرس نے واضح کردی ہے کہ سائنس کی بادشاہت قائم رہے گی۔

کورونا وائرس درد، تکلیف، دکھ اور اذیت سب کچھ دے گا لہذا اس وائرس سے بچ جانے والے لوگوں کے رویوں میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ وائرس نے خاندانوں کو عارضی طور پر اکٹھا کر دیا ہے اور دنیا گھروں کو لوٹ آئی ہے۔ تاہم کورونا کے بعد ہمارا طرز زندگی اور بھی ڈیجیٹل ہو جائے گا۔ شاید ہم گھروں میں بھی اکٹھے مگر زیادہ اکیلے ہو جائیں گے۔

مانا کہ ابھی تک کورونا وائرس نے امیر اور متوسط درجے کے ملکوں کو متاثر کیا ہے۔ معاملہ جب ان ممالک میں پہنچے گا جہاں وائرس سے بچاؤ کیلئے صحت کا نظام اتنا ترقی یافتہ نہیں تو حالات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان میں انڈیا, انڈونیشیا, بنگلہ دیش اور پاکستان سرفہرست ہیں۔ کورونا وائرس کی طرح اس سے آنے والی تبدیلیوں سے بھی ڈرنا نہیں بلکہ ان سے لڑنے کی ضرورت ہوگی۔ آزمائشوں کے ساتھ ساتھ مواقع بھی ہیں تاہم یہ ایک مشکل وقت ہے اور پاکستان کو بد ترین حالات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وزیراعظم پاکستان نے اعتماد کے علاوہ ایک بڑا معاشی پیکج دیا ہے جو موجودہ حالات میں داد کا مستحق ہے۔ پھر بھی میری ذاتی رائے میں آج کے پاکستان کی سب سے بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کو بھول کر صحت کی فکر کرنا ہوگی۔


ای پیپر